پاک فوج کا آپریشن خیبر فور کامیابی سے مکمل،ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کا آپریشن خیبر فور کامیابی سے مکمل،ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاکستان کے قبائلی علاقے خیبرایجنسی کے وادی راجگال میں شروع کیا گیا پاک فوج کا آپریشن خیبر فور مکمل کرلیا گیا۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غور نے جی ایچ کیو میں آپریشن خیبر فور پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فوج نے وادی راجگال میں زمینی اہداف حاصل کرلیے۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن خیبر فور 15 جولائی کو شروع کیا گیا تھا، یہ آپریشن انتہائی مشکل تھا لیکن فوج نے اس میں 253 کلومیٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے خالی کرالیا ہے۔راجگال اور شوال میں ایک ایک دہشتگرد ہمارے نشانے پر تھا۔

آپریشن خیبر فور کی تفصیلات بتاتے انہوں نے کہا کہ اس میں 52 دہشت گرد مارے گئے جب کہ 31 زخمی ہوئے اور 4 نے خود کو فوج کے حوالے کیا۔  آپریشن خیبر فور میں پاک فوج کے دو جوان شہید جبکہ 6 سپاہی زخمی ہوئے۔

پاک فوج ے ترجمان نے بتایا کہ آپریشن کے لیے افغان فورسز نے بھی تعاون کیا، آپریشن میں 152 بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی گئیں، باردوی سرنگیں بنانے کے ایک مواد پر میڈ ان انڈیال کا لیبل چسپاں ہے۔ راجگال میں سیکورٹی فورسز کی 91 چیک پوسٹیں بنائی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ارفع کریم ٹاوردھماکے میں دہشت گرد وزیراعلیٰ پنجاب کونشانہ بنانا چاہتےتھے لیکن بعد میں انہوں نے اپنا ہدف تبدیل کرلیا۔

اس موقع پر انھوں نے کہا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ حملے نہیں ہوئے، راولپنڈی میں راجا بازار میں مسجد پرحملہ کرنےوالےدہشت گردوں کوپکڑا گیا ہے جو شیعہ ،سنی فسادات کراناچاہتے تھے اور ان دہشت گردوں کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب تک 124 ہزار آپریشن کرچکے، پنجاب میں انٹیلی جنس بنیادوں پر 1728 آپریشن کیے، جب فاٹا میں آپریشن شروع کیا تو وہاں کے لوگ آئی ڈی پیز بن گئے، 95 فیصد آئی ڈی پیز اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں، ہم نے فاٹا میں 147 اسکول، 17 ہیلتھ یونٹس اور 27 مساجد قائم کیں۔

انہو ں نے کہاکہ فاٹا کے بہت سے کیڈٹس پاک فوج میں تربیت لے رہے ہیں، فاٹا کے نوجوانوں کی رجسٹریشن کی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ پاکستان پوری قوم کا ہے، 59غیرمسلم پاکستانیوں نے دفاع وطن کی خاطرقربانیاں دیں، ہم سب پاکستانی ہیں اورمل کرملک کادفاع کریں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان میں کبھی فرقہ وارانہ حملے نہیں ہوئے، راولپنڈی میں 2013 کے دوران مسجد پر حملے کا نیٹ ورک پکڑا گیا، حملہ کرنے والوں کو تعلق تحریک طالبان سے تھا اور وہ شعیہ سنی فسادات کرانا چاہتے تھے۔

بریفنگ کے دوران پاک فوج کے ترجمان نے کالعدم تحریک طالبان باجوڑ کے دہشت گرد اجمل خان کا وڈیوبیان بھی دکھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے ملک کے ان حصوں میں بھی پرچم لہرایا جہاں لوگ  بات کرنے سے ڈرتے تھے، ہم نے واہگہ بارڈر پر جنوبی ایشیاء میں سب سے بڑا پاکستانی پرچم لہراہا۔

بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سول ملٹری تعلقات آئیڈیل نہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ سول تعلقات پر آج کھل کر بتانا چاہتا ہوں، بات کرنے سے پہلے سوال کرنا چاہتا ہوں، میرا تعلق ملٹری سے ہے، کیا آپ اور میرے تعلقات خراب ہیں۔میں جس بیک گراؤنڈ سے ہوں اس کے علاوہ آپ سب سویلین ہیں، میں بھی ریٹائرڈ ہونے کے بعد سویلین بن جاؤں گا۔ فنکشنل معاملات میں اختلاف رائےہوتا ہے جیسا کہ خونی رشتوں میں ہوتا ہے، لیکن تعلقات مضبوط ہیں، اختلافات کو تعلقات سے نہ جوڑا جائے۔سویلین جس ماحول میں رہتے ہیں،وہاں سیاست ہے اورالزام تراشی ہے، ایک بندہ بات کرے اور پھر اسے زبردستی پورا کرے یہ ڈکٹیٹر شپ ہوتی ہے۔

ڈان لیکس کی انکوائر رپورٹ سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جو بھی چاہتاہے ڈان لیکس انکوائری منظرعام پر آئے وہ حکومت سے درخواست کرے، ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ کھولنا فوج کا نہیں حکومت کا کام ہے۔

سابق فوجی صدر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف دفاع سے متعلق بیان اپنے تجربے کی بنیاد پر دیتے ہیں، ان کا سیاسی بیان ایک سیاسی رہنما کے طور پر ہوتا ہے۔

نواز شریف کو فوج کی جانب سے این آر او دینے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی سوال ہے اور فوج کسی کو این آر او نہیں دیتی۔

فاٹا میں اصلاحات سے متعلق ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ  فوج نے کبھی فاٹا اصلاحات کی مخالفت نہیں کی اور وہاں اصلاحات ناگزیر ہیں، سیکورٹی تناظر میں حکومت کو تجاویز پیش کی تھیں، اصلاحات کے لیے سیاسی نظام میں طریقہ کار ہوتا ہے۔

شمالی وزیرستان آپریشن سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اکستان میں کسی دہشت گرد تنظیم کا منظم نیٹ ورک نہیں، امریکی وفود کو واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں  بلاامتیاز آپریشن کیے گئے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی افغان، پاکستان  پالیسی سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس پر دفترخارجہ تبصرہ کرے گا۔

افغان سیکورٹی حکام کے ساتھ مذکرات سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سےبات چیت میں بھارت کامعاملہ بھی زیرغورآتاہے,افغانستان کے تحفظات کے باوجود آپریشن جاری رکھے۔

یوم آزادی پر قومی پرچم کو نذر آتیش کرنے کی ڈیوا ور تصاویر سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پرچم جلانے والا  کوئی بھی پاکستانی نہیں ہوسکتا، قومی پرچم کی توہین برداشت نہیں کرسکتے اور سب جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کون ہے۔

گرفتار دہشت گردوں کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں کیس وفاقی حکومت بھیجتی ہے اس لیے دہشت گردوں کے کیسزفوجی عدالتوں میں بھیجنےکافیصلہ حکومت نےکرناہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *