ای میل میں اسمائلیز کا استعمال کرنے والے خبردار

ای میل میں اسمائلیز کا استعمال کرنے والے خبردار

انٹرنیٹ صارف کوئی بھی ہو خصوصا ڈیجیٹل جنریشن اپنی روزمرہ برقی گفتگوؤں کی طرح ای میل میں اسمائلیز کا استعمال معمول سمجھ کر کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ہمارا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ ریسیور یا موصول کرنے والے پر اچھا تاثر پیدا کریں گے تاہم معاملہ یکسر الٹ نکلا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ان علامتوں کا استعمال ای میل بھیجنے والے کے بارے میں مثبت کے بجائے منفی تاثر پیدا کرتا ہے۔

سوشل سائیکالوجی اور پرسنالٹی سائنس جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جب آپ ای میل میں یہ علامتیں استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کے متعلق کم صلاحیت یا ان کمپنیٹنٹ ہونے کا تاثر پیدا کرتی ہیں۔ دوسری جانب یہ ای میل موصول کرنے والے کے سامنے کسی قسم کا دوستانہ یا گرمجوشی کا تاثر بھی پیدا نہیں کرتیں۔

اس تحقیق کو درست مانا جائے تو واضح مطلب یہ ہوا کہ ایموٹیکنز ہمارے جذبات کے اظہار کے لئے اتنے مفید نہیں جتنا ہم انہیں سمجھتے رہے ہیں۔

کاروباری رابطوں میں زبان اور اظہار کا طریقہ بہت زیادہ اہم ہے۔ یہ پیغام موصول کرنے والے کی نظر میں ہمارے تاثر کی بنیاد بنتا ہے۔

حالیہ مطالعے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی رہا ہے کہ اس دوران ایموٹیکنز یا ایموجیز استعمال کرنے کو جنس کے ساتھ خاص بھی سمجھا گیا ہے۔

ای میل میں اسمائلیز کا مطالعہ
مطالعے کے دوران 29 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 500 افراد کو جائزے کا حصہ بنایا گیا۔ اس دوران متعدد ٹیسٹ لئے گئے۔

پہلے ٹیسٹ میں شرکاء کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ایک فروپ کو اسمائلیز والی ای میل دکھائی گئی اور دوسرے کو ان علامتوں کے بغیر والی ای میل کا مشاہدہ کرنے کو دیا گیا۔ دونوں گروپس کو دکھائی گئی ای میلز کا مواد یکساں رکھا گیا۔

اس کے بعد شرکاء سے کہا گیا کہ وہ ای میل کے دوستانہ اور گرمجوش ہونے کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کریں۔ محقیقین نے اس مرحلہ پر ای میل بھیجنے والے کے متعلق جواب دہندگان کے تاثرات کا جائزہ لیا۔

یہ بھی دیکھیں:انٹرنیٹ پر دھوکے باز اب ماؤس کی حرکت سے پکڑے جائیں گے

ای میل میں اسمائلیز شامل کرنے والے کے لئے وصول کنندہ کو اپنی معلومات کا تبادلہ کرنے سے جھجھک محسوس ہوئی۔ جب کہ دوسرا گروپ ای میل کے جواب میں اپنی معلومات کا تبادلہ کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کر رہا تھا۔

دوسرے تجربے میں شرکاء کو الگ الگ تصاویر دکھائی گئیں، ایک میں چہرے پر مسکراہٹ موجود تھی جب کہ دوسری میں تصویر میں نظر آنے والے چہرے کے تاثرات معمول کے مطابق تے۔ شرکاء سے پوچھا گیا کہ وہ کس پر زیادہ اعتماد محسوس کرتے ہیں۔ اکثریت کا کہنا تھا کہ مسکرانے والے پر۔ اس کے بعد وہ ای میل دکھائی گئی جس میں مسکراہتے چہرے کی علامت تھی اور پوچھا گیا کہ وہ کیا وہ اب بھی اس فرد پر اعتماد کرتے ہیں تاہم ان کا جواب نفی میں رہا۔ محقیقین نے نتیجہ اخذ کیا کہ اگر ای میل میں ایموجیز کا استعمال کیا جائے تو اسے موصول کرنے والا سنجیدہ نہیں لیتا۔ البتہ ای میل بھیجنے والے کی اہلیت کو کم تر ضرور سمجھا جاتا ہے۔

ایموٹیکنز یا ایموجیز استعمال کا جنس سے تعلق
اگر چہ ای میل بھیجنے والی کی جنس کے بارے میں شرکائے مطالعہ کو کچھ بتایا نہیں گیا تھا تاہم بیشتر کا خیال تھا کہ اسمائلیز کے ساتھ آنے والی ای امیل کسی خاتون کی جانب سے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ایموٹیکنز کو خواتین سے منسوب کیا۔

ملتی جلتی خبر: خود کو محفوظ رکھنے کے لئے لیڈیز فیس بک پر یہ کام ضرور کریں

مطالعے کے مطابق پیشہ ورانہ زندگی میں کسی خاتون کو موثر اور مفید رہنے کے لئے رویے کی درستگی کو اہم جانا جاتا ہے، ایموٹیکنز اس رویے کی بہتری کی علامت سمجھے جاتے رہے ہیں تاہم حالیہ مطالعے نے ثابت کیا کہ معاملہ یکسر الٹ ہے۔

مطالعے کی مصنفہ ایلا گلکسن کے مطابق عموما یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسمائلی یا ایموجی حقیقی مسکراہٹ کا متبادل ہے لیکن ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ پیشہ ورانہ رابطے باالخصوص اولین رابطے میں یہ ایسا نتیجہ پیدا نہیں کرتی۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *