ن لیگ کی ریلی میں کتنے لوگ؟

ن لیگ کی ریلی میں کتنے لوگ؟

اسلام آباد: پاکستان میں حکمراں جماعت ن لیگ کی جانب سے منگل کو شروع ہونے والی ریلی اعلان کردہ وقت سے تاخیر سے شروع ہوئی۔

ابتدائی تین گھنٹوں میں ساڑھے 8 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ریلی لاہور کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں جہاں مخالفین کی جانب سے ریلی کو فلاپ شو قرار دیا جا رہا ہے وہیں ن لیگ اسے ایک کامیاب پروگرام قرار دے رہی ہے۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق نواز شریف کی ریلی میں 9 سو سے ایک ہزار گاڑیاں موجود ہیں جب کہ 5 سے 6 ہزار افراد اس کا حصہ ہیں۔

ن لیگی مخالفین خصوصا تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کو حکما اور لالچ دے کر پروگرام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور کی جانب بڑھتی ہوئی ریلی کے متعلق ن لیگ کا ارادہ ہے کہ اسے تین دنوں تک طویل پروگرام کی شکل دی جائے۔

ایک روز قبل سامنے آنے والی حساس اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ن لیگ کی ریلی لاہور پہنچنے میں 6 دن لگا سکتی ہے۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا عمومی مزاج یہی ہے کہ وہ اپنے پروگرامات میں حاضری کے متعلق بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیتی ہیں۔ ایسے میں مذکورہ جماعتوں کے حامی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔

پروگرام میں زیادہ افراد دکھانے کے شوق میں ماضی میں کئی بار مختلف حکومتی و اپوزیشن جماعتیں دیگر تصاویر کو اپنے پروگرام کی تصویر کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں۔

منگل کو ن لیگ کی ریلی رالپنڈی پہنچی تو فیس بک اور ٹوٹر پر کچھ افراد نے لوگوں کے جم غفیر کی تصاویر شئیر کیں، ساتھ ہی لکھا کہ یہ ن لیگ کی ریلی کی تصاویر ہیں تاہم جلد یہ حقیقت کھل گئی کہ مذکورہ تصاویر توہین رسالت کے الزام میں سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کے جنازہ کی ہیں۔

ن لیگ کی ریلی کے دوران ایک اور خاص بات مختلف ٹی وی چینلز کی رپورٹنگ رہی ہے۔ ٹی وی چینلز کا ایک حلقہ ریلی کو انتہائی مختصر جب کہ دوسرا انتہائی بڑا دکھانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعت تحریک انصاف بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں رہی، جس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس منگل کی صبح سے ہی ن لیگ کی ریلی کے مختلف مناظر کی تصاویر اور ویڈیوز شئیرکرنے میں مصروف ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *