پاکستان سے ننھی بچی کی محبت کی قیمت

پاکستان سے ننھی بچی کی محبت کی قیمت

امی! مجھے پیسے دو! آزادی کا دن آرہا ہے میں نے جھنڈیاں لینی ہیں ۔۔۔ ننھی آمنہ آج بہت خوش تھی۔ یوم آزادی کی آمد آمد تھی، تبھی آج وہ اسکول سے آتے ہی امی سے جھنڈیاں لینے کے لیے پیسے مانگنے لگی ۔۔۔

بیٹا جلدی سے ہاتھ دھو لیں میں کھانا لگا دیتی ہوں ۔ امی نے جیسے اس کی بات سنی ان سنی کر دی ۔

کھانا شروع کیا تو آمنہ پھر سے جھنڈیوں کی بات کرنے لگی کہ اس بار یوم آزادی پہ میں پورے گھر کو جھنڈیوں سے سجاؤں گی اور جشن مناؤں گی۔ وہ ایسے خوش تھی جیسے کوئی عید کے دن آرہے ہوں۔ امی نے پہلے اس کی باتوں پہ کوئی توجہ نہیں دی لیکن جب آمنہ نے بہت زیاداصرار کیا تو امی نے کہا کہ بیٹا کل آپ نے لاؤڈ سپیکر پر کیا گیا اعلان نہیں سنا ؟

وہ جو کہہ رہا تھا کہ اس بار ہم یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے اور کوئی بندہ گھر پہ جھنڈا نہیں لہرائے گا ۔۔۔

معصوم آمنہ کو امی کے بات سے اتفاق نہیں تھا، وہ یوم آزادی پر جذبہ شکر کا اظہار کرنا چاہتی تھی۔ جواب میں کہنے لگی ” امی آج کلاس میں مس کہہ رہی تھیں کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں اور اپنے دیس سے محبت کرنا ہم سب پہ فرض ہے۔ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ہمیں اس پہ اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ جو قومیں آزادی کی قدر نہیں کرتیں اللہ ان سے آزادی کی نعمت چین لیتا ہے۔”

امی اگر ہمارے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو اس میں دیس کی کیا غلطی ہے، وہ تو لوگوں کی ذاتی برائی ہے وطن سے دشمنی رکھنے کا کوئی جواز نہیں ۔ ہم آزاد ہیں لاؤڈ سپیکر پہ اعلان کرنے والوں کے غلام تو نہیں۔

امی آمنہ کو سمجھانے میں بری طرح ناکام ہو چکی تھیں۔ اب وہ غصہ ہونے لگیں اور جھنجھلاہٹ کے مارے کہا، بیٹا آمنہ! مس کی باتیں نہ کریں، یہاں وہی ہوگا جس کا لاؤڈ سپیکر سے اعلان ہوا ہے۔ آپ کوئی جھنڈیاں نہیں لے رہی ہو۔ امی نے اپنا فیصلہ سنا دیا اور ساتھ ہی حکم دیا کہ اب جا کے اچھے بچوں کی طرح اپنا ہوم ورک مکمل کریں۔

آمنہ اپنا ہوم ورک کرنے گئی، لیکن سارا وقت وہ لاؤڈ سپیکر سے اعلان کرے والوں کے بارے میں سوچتی رہی۔ پھر نجانےکس سوچ میں ایک کاغذ لیا اور اس پہ سبزہلالی پرچم بنانے لگی۔ اور ساتھ میں یہ مس کی زبانی سننے والے یہ اشعار اپنے ننھے ذہن میں تازہ کرتی رہی “نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل باہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

اگلے دن اپنی بنائی ہوئی جھنڈی ایک لکڑی کے ساتھ پیوست کر کےاسے سکول لے جانے لگی۔ کل لاؤڈ سپیکر پہ اعلان کرنے والے اب بازار میں سب دکانوں سے سارے جھنڈے اکٹھے کر کے چوراہے میں آگ لگا رہےتھے۔

آمنہ نے دیکھا تو پاگلوں کی طرح دوڑی، بچی تھی اس کو کیا پتہ تھا کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ ” انکل انکل آپ جھنڈیوں کو آگ نہ لگائیں ۔ دیس ماں ہے اور جھنڈا اس کی چادر ہے اور کوئی ماں کی چادر کو آگ نہیں لگاتا۔ انکل آپ ایسا نہ کریں ان جھنڈیوں نے آپ لوگوں کا کیا بگاڑا ہے؟ اگر آپ لوگوں کا کوئی مطالبہ ہے تو حکومت سے جا کر کریں۔ کوئی بھی تقاضا وطن کی محبت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ ان جھنڈیوں کو آگ لگا کر آپ لوگوں کو کیا ملے گا۔ “

ایک ‘انکل’ آمنہ کے منہ پر زور دار تھپڑ مارتا ہے، بھرے بازار میں جھنڈیوں کو آگ لگا کر وہ آمنہ کو زبردستی گاڑی میں ساتھ لے جاتے ہیں ۔۔۔۔

آمنہ راستے میں روتے ہوئے کہتی ہے کہ “انکل قلم میں بہت طاقت ہے ۔”

انکل ایک نفرت بھری نظر آمنہ پر ڈالتا ہے اور کہتا ہے “اس طرح کے بچوں کو اگر ابھی سے ٹھیک نہیں کیا تو بعد میں یہی مصیبت بن جائے گے” ۔۔۔۔

تین دن آمنہ کی امی اسے شہر میں ڈھونڈتی رہیں۔ چوتھے روز آمنہ کی لاش شہر کے چوراہے پہ ٹنگی ملتی ہے۔ جس کے ساتھ ایک پرچی پہ لکھا ہوا تھا ” غداروں کی ایک سزا سر تن سے جدا”

جب آمنہ کو نیچے اتار کر دیکھا تو اس کے اسکول یونیفارم کی جیب سے ایک کاغذ ملتا ہے جس پر آمنہ نے لکھا تھا:

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

اور

امی شہید کبھی مرتے نہیں، آپ نہ رویا کریں۔ مجھے کوئی تکلیف نہیں میں کہتی ہوں

“اے میرے پیارے وطن
میرا دل تیری محبت کا ہے جاں بخش دیار
میرا سینہ تیری حُرمت کا ہے سنگین حصار
میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار
میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن
اے میرے پیارے وطن
اور
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے،
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے…

آمنہ جیسی مشعل کو بھجانے والے شاید یہ بھول رہے ہیں کہ اس وطن کا ہر کنول کھلتا ہے تو اپنی وطن کی رعنائیوں پہ قربان ہونے سے نہیں چوکتا۔ اختلافات اپنی جگہ لیکن ریاست ہے ماں جیسی اور ماں سے بھلا کوئی کوئی اختلاف کر سکتا ہے۔ اپنی ماں کو کوئی اداس کر سکتا ہے؟ اپنی ماں کو کوئی کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ ا

پنی ماں کو کیا ہم بانٹ سکتے ہیں؟ ریاست ہے ماں جیسی اور اپنی ماں کو گالیاں نہ دیا کریں، ماں ہے تو بھائی آپس میں جڑے رہتے ہیں۔ ماں نہ ہو تو سب بکھر جاتے ہیں ” مس آج کافی دنوں کے بعد آمنہ کی شہادت کے بعد بول رہی تھی ۔۔۔۔۔

محمد عثمان آفریدی  – آزاد جموں و کشمیر میڈیکل کالج ، مظفرآباد

اپنے بلاگز ہمیں [email protected] پر ای میل کریں یا اپنے نام، تصویر کے ساتھ پاکستان ٹرائب کے فیس بک صفحے پر میسیج کریں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *