خود کو محفوظ رکھنے کے لئے فیس بک پر لیڈیز یہ کام ضرور کریں

خود کو محفوظ رکھنے کے لئے فیس بک پر لیڈیز یہ کام ضرور کریں

اسلام آباد: انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بیشتر لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ یہاں کیا جانے والا کوئی بھی کام بظاہر محدود یا پوشیدہ لگتا ہے لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوتا۔

فیس بک استعمال کرتے ہوئے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے کہ یہاں ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ بآسانی مانیٹرنگ کے خواہشمند افراد یا اداروں کے علم میں رہتا ہے۔

اس پس منظر میں ہر فیس بک صارف باالخصوص لیڈیز کیلئے اس بات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی موجودگی کو محفوظ کیسے رکھیں؟

بہت سی فیس بک صارفین یہ بات جانتی ہیں کہ انہوں نے اپنے اسٹیٹس، تصاویر یا دیگر چیزوں کو کیسے پبلک ہونے سے محفوظ رکھنا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جو چیز بظاہر پبلک نہیں ہوتی وہ بھی محفوظ نہیں کہی جا سکتی۔

آپ یہ سوچ سکتی ہیں کہ میں تو اپنی تصاویر یا اہم چیزوں کو پبلک کرنے کے بجائے کسٹم آڈینس کے ساتھ شئیر کرتی ہوں، پھر یہ کیسے غیر محفوظ ہو سکتی ہیں؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جسے آپ کسٹم آڈینس سمجھ رہی ہوتی ہیں وہاں بھی کئی ایسے افراد یا اداروں کو رسائی میسر ہوتی ہے جو ضرورت پڑھنے پر آپ کا ڈیٹا استعمال کر سکتے ہیں۔

فیس بک کی ایسی فی میل صارفین جو اپنی معلومات، تصاویر وغیرہ کو محفوظ رکھنا چاہتی ہوں انہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ وہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر سب کچھ شئیر نہ کیا کریں۔

انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں میں طے کئے جانے والے اس اصول پر عمل کریں کہ آپ جس بات کو کسی اجنبی سے شئیر نہیں کرنا چاہتے اسے کبھی بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پر شئیر نہ کریں۔

اہلخانہ کی تصاویر شئیر کرتے وقت محتاط رہیں، بہتر ہے کہ نہ ہی کی جائیں۔ خصوصا بچیوں کی تصاویر شئیر کرنے کی صورت میں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود کوئی بھی مافیا اس تصویر کو یا اس کے کچھ حصے کو اپنے گھناؤنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔

گھر یا گاڑی کی تصاویر شئیر کرتے وقت بھی یہی احتیاط کریں۔ خصوصا گھروں میں داخلے کے مقام سمیت گاڑی کی نمبر پلیٹ کو تصاویر میں نمایاں نہ ہونے دیں۔

گھر والوں یا سہیلیوں کے ساتھ اپنی ویڈیوز کے معاملے میں یہ احتیاط اور بھی لازم ہے، کیونکہ آپ یہ اندازہ نہیں کر سکتیں کہ اس کے شئیر ہونے کے بعد کب اس کا کوئی حصہ یا پوری ویڈیو کہاں استعمال کی جا سکتی ہے۔

ایک عام خیال آسکتا ہے کہ حفاظت کے یہ مسائل اس لئے ہیں کیونکہ پاکستان میں کاپی رائٹ یا سائبر کرائم قوانین موجود نہیں یا ان پر عمل نہیں ہوتا۔ تاہم یہ خیال کلی طور پر درست نہیں۔ انٹرنیٹ خصوصا سوشل میڈیا پر ترقی یافتہ ممالک میں بھی خواتین کی تصاویر، ویڈیوز کا نامناسب استعمال ایک عام سی بات ہے جسے روکنا ممکن نہیں مانا جاتا۔

انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے رہنما اصول یہی ہے کہ آپ یہاں ہر وہ کام کریں جسے آپ اپنی حقیقی زندگی میں کرنا مناسب سمجھتی ہیں، لیکن اگر کوئی کام حقیقی زندگی میں کھلے عام کرنا آپ کو مناسب نہیں لگتا تو اسے سائبر دنیا میں بھی نہ کریں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *