این اے 120 کا ضمنی انتخاب، جماعت اسلامی کیا کرے گی؟

این اے 120 کا ضمنی انتخاب، جماعت اسلامی کیا کرے گی؟

لاہور: جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ دفعہ باسٹھ ٹریسٹھ کو آئین سے نکالنا منہ پر لگی سیاسی دھونے کی بجائے آئنہ توڑنے کے مترادف ہے۔

بدھ کو جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹرز منصورہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قوم نے جس عزم کے ساتھ مسلح دہشتگردی کو شکست دی، معاشی دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے بھی اسی جوش و جذبے اور عزم کی ضرورت ہے۔ سیاست سے بالاتر ہو کر معاشی دہشتگردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے سے احتساب کے جس عمل کاآغاز ہوا ہے ، قوم اسے ہر صورت میں مکمل دیکھنا چاہتی ہے ۔ جماعت اسلامی نے پانامہ کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو پٹیشن دائر کی تھی ، اس میں پانامہ سکینڈل میں ملوث 436 دیگر لوگوں کے نام بھی موجود ہیں جنہوں نے قومی دولت لوٹ کر پیسہ باہر منتقل کیا اور آف شور کمپنیاں بنائیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر باقی لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی تو لوگ وزیراعظم کےخلاف فیصلہ کو متعصبانہ قرار دیں گے۔

اس موقع پر سیکرٹری جنر ل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ ، نائب امیر میاں محمد اسلم ، پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ اور مرکرزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم بھی موجود تھے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ احتساب صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بیوروکریسی ، جرنیلوں اور ججز کا احتساب بھی ہوناچاہیے اور موجودہ ججز کا اصل امتحان یہ ہے کہ کیا وہ احتساب کے اس عمل کو ججز اور جرنیلوں تک پھیلانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بنکوں سے اربوں روپے کے قرضے لے کر ہڑپ کرنے اور این آراو کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کو بھی احتساب کے کٹہر ے میں کھڑا کرنا ضروری ہے اور سب سے اہم مسئلہ لوٹی گئی دولت کی واپسی ہے تاکہ عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار کی سہولتیں میسر آئیں اور آئندہ نسل کی محرومیاں ختم کی جاسکیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم کسی تعصب میں مبتلا نہیں اور نہ کسی کی ذات سے نفرت ہے۔ ہم کرپشن کے خلاف ہیں اور جب تک ملک سے اس لوٹ کھسوٹ کے نظام کا خاتمہ نہیں کر لیتے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ غریب کی بجائے دولت مندوں کو اربوں روپے کے قرضے دے کر معاف کر دے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ ایک قدم آگے بڑھے اور احتساب کا ایک مستقل نظام بنائے تاکہ آئندہ کسی کو قوم کی ایک پائی بھی لوٹنے کی جرات نہ ہو۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت پارلیمنٹ کے رواں اجلاس میں انتخابی اصلاحات کا بل پیش کرے تاکہ انتخابات سے قبل ان اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے سکے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے انتخابی اصلاحات سے متعلق اپنے وعدوں اور کمٹمنٹس پر عمل نہیں کیا۔ بہتر یہ ہے کہ حکومت اپنی باقی مدت میں اپنے سابقہ وعدوں کو عملی جامہ پہنائے اور انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنائے۔

جماعت اسلامی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس کے لیے ضروری ہے کہ نئے وزیراعظم اداروں کو مضبوط بنائیں۔

ایک سوال کے جواب میں سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نئے وزیراعظم کو پہلے قائداعظم ؒ یا علامہ اقبال ؒ کے مزار پر جاناچاہیے تھا لیکن انہوں نے نوازشریف کے پاس مری جا کر بھی کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے بارے میں لاہور کا مقامی نظم فیصلہ کرے گا۔ بہتر ہے کہ اپوزیشن مل کر الیکشن لڑے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو شائستگی اور تحمل و برداشت کا درس دینا چاہیے۔ ہم شائستگی کے قائل ہیں اور نفرتیں اور دشمنیاں پالنے کے خلاف ہیں ۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *