پی ٹی آئی میں ماؤں، بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں، عائشہ گلالئی

پی ٹی آئی میں ماؤں، بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں، عائشہ گلالئی

اسلام آباد: تحریک انصاف سے مستعفی ہونے والی عائشہ گلالئی اسلام آباد پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہی ہیں۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کی جانب سے عائشہ گلا لئی کی نیوز کانفرنس کو براہ راست کور کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لئے آپ اس صفحے کو ریفریش کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے طے شدہ پروگرام کے مطابق کل پریس کانفرنس کرنا تھی لیکن تحریک انصاف کی کچھ خواتین کی وجہ سے مجھے وقت سے پہلے سامنے آنا پڑا۔

عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ عمران خان ٹیلنٹ سے جلتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سارے مرد ان سے دور ہو جائیں گے جب کہ خواتین خود ان کی حرکتوں سے دور ہو جائیں گی۔

میرے متعلق کہا گیا کہ میں نے عمران خان سے علیحدگی میں ملنے کی خواہش ظاہر کی ایسا کہنے والوں کو شرم کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل تک میں پی ٹی آئی کا حصہ تھی۔ اسی لئے بنی گالہ وفد لے کر گئی تھی۔ تین گھنٹے میٹنگ نہیں ہوئی، صرف پندرہ منٹ میٹنگ ہوئی۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2013 میں پہلا ٹیکسٹ میسیج ملا، عمران خان کا بلیک بیری لے لیں، وہ خود بھی رکھتے ہیں اور خواتین سے بھی  کہتے ہیں کہ بلیک بیری لے لیں تاکہ میسیجز ٹریس نہ ہوں۔ ان کا بلیک بیری چیک کر لیں تو سارا اندازہ ہو جائے گا، اس کے بعد ہی میں نے پارٹی میٹنگز میں آنے کا سلسلہ ترک کر دیا تھا۔

میسیجز کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ان کے الفاظ کسی کی غیرت نہیں برداشت کر سکتی، پی ٹی اے ان پیغامات کو دیکھ سکتا ہے۔ اس معاملے کی تفتیش کی جانی چاہئے، عمران خان کا بلیک بیری نکال کر اس کا جائزہ لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ میسیجز ساری خواتیب کو کئے گئے، وہ پی ٹی اے سے لئے جا سکتے ہیں۔

عمران خان کے ساتھ چلنے کے لئے آپ ویسی ہی چپل پہنیں، ویسے ہی کپڑے پہنیں، ان کے ساتھ دوڑ لگائیں تو ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔

پرویز خٹک نے تنگی مائننگ کیس میں ٹھیکا اپنے کزن کو دیا۔ یہ بات میں نہیں کہہ رہی کرنل حامد نے کہا۔ نوشہرہ میں غیر قانونی طور پر ٹھیکا اپنے رشتہ دار کو دیا۔ بینک آف خیبر کا اسکینڈل ہے جس کے ایم ڈی کی تقرری بقول ضیاءاللہ آفریدی پرویز خٹک نے دیا۔

عمران خان کے کردار کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں یہ نئی بات نہیں کہہ رہی ہوں، ان کا ماضی شاہد ہے۔ جب ہماری میٹنگز میں کرپشن کے ثبوت سائیڈ پر پھینک دیے گئے، جب تحریک انصاف کارکنوں کی تذلیل کی، جب خواتین کی عزتیں اچھالیں تو طے کیا کہ آپ بھی تو فرشتے نہیں ہیں۔

ہم وفد لے کر عمران نیازی کے پاس گئے، انہیں خان اس لئے نہیں کہوں گی کہ وہ خود کو خان کہتے ہیں لیکن دو نمبر پٹھان ہیں۔ وفد انہیں کرپشن کے ثبوت دے رہا تھا، لیکن عمران نیازی نے سارے ثبوت الگ رکھ دیے۔ شاید وزیراعلی کے ٹھیکوں سے عمران خان کا کچن چلتا ہے، جہانگیر ترین کے ذریعے عمران خان کا کچن چلتا ہو جبھی انہوں نے پرویز خٹک کے متعلق کوئی بات نہیں سنی۔

خیبرپختونخوا سے ٹھیکے جہانگیر ترین کو ملتے ہیں اور کچن عمران خآن کا چلتا ہے۔

تحریک انصاف کی خواتین رہنماؤں کی جانب سے ٹکٹ کو علیحدگی کی وجہ بیان کرنے کو مسترد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔

این اے ون کے ٹکٹ کا جواز پیش کرنا یا اسلام آباد جلسے میں تقریر کا موقع نہ دینے کا جواز بھی غلط تھا۔ اس سے پہلے بھی جلسوں میں میری تقاریر نہیں ہوئیں۔

میں تمام والدین اور بھائیوں سے کہتی ہوں کہ آپ کی بچیوں کی عزتیں یہاں محفوظ نہیں ہیں۔

میرے اوپر الزام لگایا گیا کہ میں ن لیگ میں شامل ہو رہی حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

نواز شریف کے متعلق اتنا ہی کہوں گی کہ باقی جو الزام اس پر لگا لیں وہ بیٹیوں، ماوں اور بہنوں کی عزت کرنا اور کروانا جانتے ہیں۔

اگر کوئی فرد جھوٹ بولنے یا خیانت پر نااہل ہو جاتا ہے تو انہی آئینی شقوں کے تحت اخلاقی معاملات پر بھی فرد نااہل ہو جاتا ہے۔

میں سپریم کورٹ سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ عمران خان کے کیس میں ان معاملات کو بھی مدنظر رکھیں۔ آپ کی بھی بہنیں بیٹیاں ہیں۔

پی ٹی آئی کی خواتین سے پوچھا جا سکتا ہے کہ عمران خان اور ان کا ٹولہ کیا حرکتیں کرتا ہے۔

لوگ آج پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں میں چھوڑ رہی ہوں جس کی وجہ کچھ ایسی ہی وجوہات ہیں۔

میرا تعلق قبائلی پس منظر سے ہے۔ ہمارے لئے سب سے زیادہ اہمیت غیرت اور عزت کی ہوتی ہے۔ ہمیں بچپن ہی سے بہادری سکھائی جاتی ہے۔

میرے خاندان کی روایت ہے کہ ہم اپنے معاملات خود دیکھتے ہیں۔

عمران خان جو دوسری کی باریاں لگاتے ہیں ان کے متعلق یہی کہوں گی کہ اب ان کی باری ہے۔ اس پارٹی میں جو کلچر دیکھا اس سے شاک رہ گئی۔

ان کے بہت سارے غلط کرتوتوں میں سے ایک خواتین اور لڑکیوں کو ٹیکسٹ بھیجنا انتہائی ناقابل برداشت ہیں۔

اس پارٹی میں خواتین اور لڑکیوں کی عزت عمران خان، اور ان کے ارد گرد موجود ٹولے سے بالکل موجود نہیں ہیں۔

شیریں مزاری کی پریس کانفرنس کے متعلق ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب جب فارن ایشوز پر بات کی گئی انہیں اچھا نہیں لگا۔

عمران خان نے ایک بار نیوز کانفرنس میں دنیا سے چلی جانے والی بینظیر بھٹو کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کئے جنہوں نے مجھے حیرت ذدہ کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میٹنگز میں نہ آنے کی وجہ یہاں کا کلچر تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کی پرفارمنس صرف یہ تھی کہ دوسروں پر کیچڑ کیسے اچھالا جائے۔ ہماری میٹنگز میں عمران خان ہمیں طریقے بتاتے تھے کہ کیسے کس کو مطعون کیا جائے۔ لوگوں کے نام بگاڑنے کا اسلام مخالف طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے مجھے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے دو ٹکٹ دیے۔ مجھے پی ٹی آئی کا ٹکٹ اس لئے نہیں چاہئے کہ ان کے ٹکٹ کا معیار کچھ اور ہے جس پر ہم پورا نہیں اترتے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنوں کو چھوٹا یا ادنی کارکن کہنا ان لوگوں کی توہین ہے جو اپنا لہو بہاتے اور گراؤنڈ پر رہ کر سختیاں جھیلتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شیطان نے بھی ایک بار اپنے آگ سے بنے ہونے کا جواز پیش کر کے مٹی سے بنے آدمؑ کو سجدے سے انکار کرکیا تھا۔ تحریک انصاف قیادت کو اس شیطانیت سے اس لئے نکل آنا چاہئے کہ وہ ادنی کارکنوں کی قربانیوں سے ہی اس سطح پر پہنچے ہیں۔

تحریک انصاف میں جس طرح اراکین اسمبلی کی تضحیک کی جاتی ہے وہ بھی ناقابل برداشت ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میں ایک وفد کا حصہ بن کر گئی تھی۔ وہاں میں این اے ون کے ٹکٹ کے لئے نہیں گئی، نا ہی اپنے لئے گئی بلکہ میں پاکستان کے لوگوں کے لئے وہاں گئی تھی۔

میرے ساتھ اس میٹنگ میں رکشہ یونین کا صدر تھا، ریڑھی بانوں کا صدر تھا، کیونکہ کے پی مافیا کا ڈان پرویز خٹک ان کی بات سننے اور ازالہ کرنے کو تیار نہیں تھا۔

میں انیسویں، بیسویں گریڈ کے 50 اساتذہ پر مشتمل ایک وفد لے کر گئی جسے تحریک انصاف کے نئے کے پی کے چیف منسٹر نے کہا کہ یہ غنڈے ہیں۔

عمران خان خود کو بہت عقلمند سمجھتے اور باقیوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ یہ نواز شریف کو کہتے ہیں کہ وہ پاکستانیوں کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں لیکن وہ خود ایسا کرتے ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *