وزیراعظم آزاد کشمیر کا پاکستان مخالف بیان ، اصل کہانی کھل گئی

وزیراعظم آزاد کشمیر کا پاکستان مخالف بیان ، اصل کہانی کھل گئی

مظفر آباد: نواز شریف کی نااہلی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا پاکستان مخالف بیان دینے کا معاملہ تاحال گرم ہے تاہم اب اس کا مکمل پس منظر سامنے آگیا ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیان کو نجی میڈیا گروپ کے اخبار، روزنامہ جنگ نے شہ سرخی بنا کر شائع کیا تھا۔ جس کے بعد راجہ فاروق حیدر اور جنگ دونوں کو آزاد کشمیر کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اب یہ اطلاع سامنے لائی گئی ہے کہ مذکورہ خبر جنگ اخبار نے نہیں بلکہ ایک خبررساں ادارے کی جانب سے جاری کی گئی تھی جسے جنگ نے من و عن شائع کیا تھا۔

راجہ فاروق حیدر نے اپنے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر اور توڑ مروڑ کر جاری کرنے والی نیوز ایجنسی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کافیصلہ کر لیاہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا پاکستان مخالف بیان ، معاملہ کیا ہے؟

آزاد کشمیرحکومت کے ترجمان کے مطابق راجہ فاروق حیدر کی پریس کانفرنس کو سیاق وسباق سے ہٹ کر اور توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اس کا من پسند مطلب نکال کر تحریک آزادی کشمیر اور نظریہ الحاق پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے پر وزیر اعظم آزاد کشمیر نے خبر جاری کرنے والوں کے خلاف کیس دائر کرنے کا حکم دے دیا ہے، اس حوالے سے لیگل ٹیم نے کیس تیار کرلیا اور اس سلسلہ میں جلد قانونی کارروائی شروع کی جائیگی۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اس حوالے سے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ میرے الفاظ اور جذبات کی توہین کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا گیا جس کو کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے اور تمام قانونی و آئینی ذرائع بروئے کارلاتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے ساتھ ساتھ ان کو سزا دلانے کے عمل تک کے تمام معاملات کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ طے کیا جائے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی ۔

وزیر اعظم کی جانب سے خبر کی اشاعت کے فوراً بعد نیوز ایجنسی کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات دئیے گئے تھے جس پر قانونی ٹیم نے اب تک کیے جانے والے اقدامات اور پیش رفت سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا ، وزیر اعظم نے اس موقع پر کارروائی کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اپنے بیان کی ایک بار پھر وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے، مجھ سے منسوب بیان جنگ گروپ کے نمائندے کا نہیں خبر ایجنسی کا ہے، جب میں نے اپنے بیان کی وضاحت کردی تھی تو عمران خان کو ان کے خلاف تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی۔

تحریک انصاف سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئے، مظفرآباد میں میرے خلاف مظاہرہ کرے ،میں دیکھ لوں گا، لیکن کشمیریوں کے منتخب وزیراعظم اور کشمیریوں کی توہین برداشت نہیں۔ وزارت عظمیٰ جاتی ہے تو جائے، اب بھی کہتا ہوں کہ قائداعظم کے پاکستان کو مانتا ہوں عمران کے پاکستان کو نہیں مانتا ، میں آج بھی سرینگر، جموں، لندن میں عمران خان کیخلاف مظاہرے کراسکتا ہوں، کیا عمران خان نیا پاکستان بنائے گا کیا عمران خان کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ جو مرضی بولے، راولپنڈی کا خواجہ سرا بھی میرے خلاف باتیں کرتا ہے کہ مجھےلاتیں مار کر یہاں سے نکالا جائے۔

عمران خان سے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 55 اور 56 میں اپنا کردار ادا کر کے تحریک انصاف سربراہ سے بدلہ لوں گا۔

انہوں نے عمران خان کے متعلق کہا کہ جو فرد لندن جا کر اپنی مطلقہ بیوی کے پاس قیام کرے، ٹیم کو بچانے کے نام پر جوا کھیلنے کا اعتراف کرے، بال ٹیمپرنگ کرے اور پھر دوسروں پر غداری کے الزامات لگائے ایسے شخص کی بات کا کیا اعتبار کیا جائے۔

راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ بحیثیت کشمیری میری بقا پاکستان کے اندر ہے، اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے اسے مضبوط کرے،نواز شریف کی نااہلی پر میرا ردعمل فطری ہے،میرا کشمیری النسل وزیراعظم گیا ہے مجھے اس کی تکلیف ہے، کشمیر پاکستان اور پاکستان کشمیر ہے، میں نے کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں لینا ہے، عمران خان نے رانگ نمبر ڈائل کیا ہے، آزاد کشمیر میں میرے خلاف نہیں میرے حق میں مظاہرہ ہوا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *