موٹاپے کا علاج اب یقینی، دماغ میں ‘بھوک کنٹرول کرنے’ کے خلیات دریافت

موٹاپے کا علاج اب یقینی، دماغ میں ‘بھوک کنٹرول کرنے’ کے خلیات دریافت

نیویارک: امریکی شہر نیویارک کی راک فیلر یونیورسٹی کی ماہرین نے دماغ میں موجود بھوک کنٹرول کرنے والے سیلز کی صورت میں موٹاپے پر قابو پانے کا نیا طریقہ کار دریافت کیا ہے۔

حالیہ تحقیق کے نتائج نے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ کھانا یا اس کی طلب ایک پیچیدہ بائیولوجیکل رویہ ہے۔

محقیقین کے مطابق دماغ میں دو مختلف اقسام کے خلیات پائے جاتے ہیں۔ یہ نئے سیلز موٹاپے کے علاج کے لئے ممکنہ طور پر کسی نئی دوا کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس کے ذریعے بھوک لگنے کے عمل میں تبدیلی لا کر کھانے کی تلاش یا اس کے استعمال کی طلب پیدا کرنے والے سیلز کو کنٹرول کیا جاسکے گا۔

نتائج سے واضح ہوا کہ دماغ کے اس حصے کے نیورونز کھانے کے متعلق ہمارے رویے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

جیفری فرائیڈ مین نامی محقق کا کہنا تھا کہ حالیہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ دواوں کے ساتھ مخصوص نیورونز کی سرگرمی کو وزن کم کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں: تلبینہ، نبوی ٹانک، مزیدار غذا جو کئی دواوں سے زیادہ مفید ہے

تحقیق کے مصنف ڈاکٹر الیگزینڈر نیکٹو اور ان کے معاون ڈورل ریف نیوکلیس یا ڈی آر این کے معاملے پر متفق ہیں۔ راک فیلر میں اخذ کردہ طریقے آئی ڈسکو کو استعمال کر کے انہوں نے معلوم کیا کہ بھوکے چوہوں میں دماغ کا یہ مخصوص حصہ فعال ہو جاتا ہے۔

معمول سے زیادہ خوراک دیے گئے دیگر چوہوں کے دماغ کا جائزہ لینے پر واضح وہاں ڈی آر این کی الگ سرگرمی ہو رہی تھی۔ اس سی یہ بات واضح ہوئی کہ دماغ کے اس حصے کے نیورونز میں بھوک کے متعلق واضح تعلق پایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر نیکٹو کا کہنا تھا کہ اس بات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کون سے نیورونز ڈی آر این بنانے کے ساتھ اس عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے دو امکانات ہو سکتے ہیں۔

ایک امکان یہ ہو سکتا ہے کہ سیلز اکیلے ہی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بھوک سے فعل ہوتے ہیں لیکن کھانے کی طلب کا عمل پیدا نہیں کرتے۔ دوسرا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ بھوک پیدا کرنے سے متعلق احساسات اور ردعمل کا حصہ ہیں، حالیہ معاملے میں ہمیں شبہ ہے کہ دوران پہلو زیادہ نمایاں ہے۔

ملتی جلتی اسٹوری: جوڑوں کے درد کو رفع کرنے والی پانچ سستی غذائیں

آپٹیکل اور کیمیکل طریقوں سے متعلقہ نیورونز کو فعال کرنے والے جسمانی نظام میں مداخلت کر کے محقیقین نے موٹے چوہوں میں گلوٹامیٹ ریلیز کرنے والے سیلز کو فعال کرلیا۔ اسی طریقے کے تحت دماغ کے اسی حصے میں موجود گابا ریلیز کرنے والے نیورونز کا عمل تبدیل کی کوشش پر مزید کھانے کی طلب پیدا ہوئی۔

یہ بات بھی واضح ہوئی کہ بھوک کے نیورونز کو فعال کرنے سے شکم سیری یا کھانے کی مزید طلب محسوس نہ کرنے والے نیورونز خود ہی غیرفعال ہو گئے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *