تین سالوں میں 50 ایم پی ایز نے سندھ اسمبلی میں ایک لفظ نہیں بولا

تین سالوں میں 50 ایم پی ایز نے سندھ اسمبلی میں ایک لفظ نہیں بولا

کراچی : سندھ اسمبلی کے ارکان نے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے ہیں اور کئی اعزازات اور فوائد بھی حاصل کیے لیکن 168 اراکین کی تین سال کی کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 50 سے زائد افراد نے آج تک اجلاس کے دوران ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔

MPAs لوگوں اور حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ان نمائندوں کی اسمبلی کی کارروائی میں دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے آج تک ایک لفظ ادا کرنے کی زحمت نہ کی- یہ ناقص کارکردگی صرف پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ارکان تک محدود نہیں ہے؛ حزب اختلاف کے بینچ کے بہت سے ارکان کی کارکردگی بھی اس فہرست کا حصہ ہے۔

سرکاری ریکارڈوں کے مطابق، ہر رکن اسمبلی ماہانہ بہت سے مراعات کے علاوہ 150،000 روپے سے زیادہ تنخواہ لیتا ہے، اور ہر سال انہیں ترقیاتی کاموں کے لئے 40 ملین روپے دیئے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کے ایم پی اے بشیر احمد ہالیپوٹو پی پی 55 بدین سے انتخابات جیتے تھے انہوں نے اسمبلی میں آج تک ایک لفظ نہیں بولا ہے، نا ہی انہوں نے کبھی کوئی سوال پوچھا نہ کوئی بل پاس کیا ، نہ قرارداد، نہ کسی تحریک میں حصہ لیا نہ ہی اپنےانتخابی حلقوں کے لوگوں کے مسائل کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ ان کا شمار ان بیکبینچرز میں سے ہے جنہوں نے باقاعدگی سے سیشن میں شرکت کی لیکن کسی گفتگو میں حصہ نہیں لیا ہے۔

29 مئی 2013 سے 28 مئی 2016 تک کی رپوٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے ایک رکن، غلام عابد خان، جو پی ایس 17 کشمور سے منتخب ہوئے نے قانون سازی کے لیے آج تک کچھ پیش نہیں کیا۔ قمبر شہدادپور سے کامران، شہدادپور ضلع سے سردار احمد چانڈیو، کھوسو، مسعود اور شہید بینظیرآباد سے فتح شاہ، گھوٹکی سے اکرام اللہ دھاریجو، مٹیاری سے مخدوم رفیق الزمان اور لاڑکانہ سے عجائب جتوئی و دیگر پیپلز پارٹی کے وہ ارکان ہیں جنہون نے تین سال تک خاموشی اختیار کئے رکھی ہے۔،

طویل خاموشی پر عجائب جتوئی کا کہنا ہے کہ وہ قانونی معاملات میں مصروف رہے، کچھ سوال بھی کئے لیکن وہ ابھی تک ایجنڈے کا حصہ نہیں بنے ہیں۔ دوسری جانب رفیق الزمان نے زیادہ انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے دوران انہیں بات کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئی، کیونکہ حکومت فوری طور پر عوام کے مسائل کو حل کردیتی ہے۔

انہوں نے کہا، “حکومت میرے حلقے میں رہنے والے لوگوں کے مسائل کو حل کرتی ہے، تاہم، اگر ضرورت ہو تو ہم پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں میں مسائل اٹھاتے ہیں” جب قانون سازی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، “بل یا قراردادوں میں میری شرکت کافی ہےاور میں اس بارے میں مزید بات نہیں کرنا چاہتا ہوں۔”

اپوزیشن بینچوں پر، سابق وزیر اعلی ارباب غلام رحیم، جو کہ پہلے پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے تھے اور اب پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے سے تعلق رکھتے ہیں اور (ایم کیو ایم) کے عادل صدیقی شاذونادر ہی سیشن میں حصہ لیتے ہیں۔

ہر سیشن کے دوران، ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان درخواست کے ساتھ غیرحاضری کی مختلف وجوہات پیش کرتے ہیں، جسے پی پی پی کی حکومت قبول کر لیتی ہے- غلام رحیم کا کہنا تھا کہ وہ ناسازی طبع کی وجہ سے سیشنز میں شریک نہیں ہو سکے۔

نوشہرو فیروز ضلع سےمسلم لیگ ن کے غلام رسول جتوئی، ، پی ایم ایل فنکشنل کے وریام فقير اور خدا بخش راجڑ کے پاس بھی سیشن کے دوران کہنے کو کچھ بھی نہیں ہوتا ہے- دریں اثنا، مسلم لیگ ن کے اعجاز شاہ شیرازی اور کراچی سے منتخب ہونے والے ہمایوں خان نے گزشتہ تین سالوں میں صرف ایک سوال پوچھا ہے۔

خواتین کا غلبہ

دو خواتین اراکین کی کارکردگی نے اسمبلی میں دیگر تمام اراکین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مسلم لیگ-ایف کی نصرت سحر عباسی اور ایم کیو ایم کی ہیر سوہو نے سندھ اسمبلی میں سب سے زیادہ سوالات اور قراردادوں پر بحث کی ہے۔

کارکردگی کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ عباسی نے 1،334 سوالات، 81 قراردادوں اور 46 اٹینشن کال نوٹسز پیش کیے ہیں- سوہو نے 1،037 سوالات، 20 مختصر نوٹسز اور 38 اٹینشن کال نوٹسز پیش کیے ہیں۔

ایم کیو ایم کی نائلہ منیر اور نیدی بیگم نے گزشتہ تین سالوں میں 261 اور 223 سوالات ہوچھے۔

دریں اثنا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ایم پی اے سیما ضیا ہاؤس کے سب سے زیادہ فعال ارکان میں سے ایک ہیں، انہوں نے کئی مسائل پر بات چیت کی ہے اور تقریبا 64 سوالات، 16 قراردادوں اور آٹھ توجہ دلاو نوٹس جمع کروائے ہیں۔

پی پی کی ایم پی اے خیرالنسا مغل نے تقریبا 162 سوالات، 26 قراردادوں اور پانچ توجہ دلاو نوٹس پیش کیے ہیں۔

مرد حضرات میں، پی ٹی آئی کے ایم پی اے خرم شیر زمان اور ایم کیو ایم کے عامر پیرزادہ نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

نصرت سحر عباسی کا کہنا تھا کہ انہوں نے فہرستوں میں درج شدہ سے زیادہ سوالات اٹھائے ہیں لیکن اسمبلی سکریٹریٹ کی جانچ پڑتال اور انہیں ایجنڈا میں شامل کرنے کاعمل بہت سست ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ “ہمارا بنیادی کام قانون سازی اور لوگوں کی نمائندگی کرنا اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے، لیکن بدقسمتی سے، اراکین کی اکثریت یہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ اسمبلی کے سکریٹریٹ نے ہمیشہ تمام اراکین کو برابر مواقع فراہم کیے ہیں لیکن خواتین نے ہمیشہ مردوں کو پچھاڑا ہے۔

آزاد اور منصفانہ انتخابی نیٹ ورک کی رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے پاکستان کے تمام صوبائی اسمبلیوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے سندھ اسمبلی کی کارکردگی بیان کرتی رپورٹ میں توجہ دلائی گئی خامیوں کو تسلیم کر کے انہیں بہتر کرنے کی روش کے بجائے الٹا الزام دھرا کہ یہ رپورٹ حقائق کے منافی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *