الیکشن کمیشن بیرونی فنڈنگ کا معاملہ دیکھ سکتا ہے،سپریم کورٹ

الیکشن کمیشن بیرونی فنڈنگ کا معاملہ دیکھ سکتا ہے،سپریم کورٹ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف ممنوعہ ذرائع سے پارٹی فنڈنگ اور نااہلی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ غیرملکی فنڈنگ سے متلعق الیکشن کمیشن معاملے کو دیکھ سکتا ہے اور اس کی تحقیقات بھی کرسکتا ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے عمران خان کے خلاف مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں عمران خان کے وکیل نے اپنے دلائل پیش کیے۔

چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے جمع کرائے گئے جمع میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن غیرملکی فنڈنگ کا معاملہ دیکھنے کا مجاز نہیں، اپ یہ کہنا چاہ رہے کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے آڈٹ کے بعد الیکشن کمیشن کو معاملہ دیکھنا کا اختیار نہیں۔

جس پر انور منصور نے کہا کہ میں یہی کہنا چاہ رہا ہوں کہ چارٹرڈ اکاؤننٹ جب آڈٹ کرچکا ہے تو پھر الیکشن کمیشن کو غیرملکی فنڈنگ دیکھنے کا اخیتار نہیں

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آرٹیکل 17 تھری کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے ذرائع بتانے کے جوابدہ ہیں۔

وکیل صفائی نے کہا کہ میں اس سے انکار نہیں کررہا تاہم کچھ اور کہنا چاہ رہا ہوں۔

چیف جٹس نے استفسار کیا کہ کیا تفصیلات فراہم کرنے کے بعد الیکشن کمیشن موصول ہونےوالے فنڈ کی تحقیقات نہیں کرسکتا جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ قانون ایسی اجازت نہیں دیتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کیس کے دوران عمران خان کی جانب سے فارن فنڈنگ پر غلط ڈکلیئریشن سامنے آنے کی صورت میں  معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجنے پر آپ کی قیادت کیا مؤقف رکھتی ہے۔

انور منصور نے جواب دیا کہ اس معاملے پر عدالت کمیشن تشکیل دے سکتی ہے تاہم سیاسی جماعت کے نجی اکاؤنٹس کی تشہیر قطعی طور پر جائز نہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا کہ کیا سیاسی جماعت کے اکاؤنٹس نجی ہوسکتے ہیں؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت تمام جماعتیں اپنے حساب دیں گے او ر یہ حساب الیکشن کمیشن نے ہی لینا ہے؟ کیا یہ بات درست ہے کہ الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا؟

وکیل صفائی نے جواب دیا کہ پولیٹیکل پارٹی آرڈر کی شق 13 کے تحت سیاسی جماعتیں ہر سال اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی پابند ہے تاہم الیکشن کمیشن پارٹی فنڈںگ کا آڈٹ نہیں کرسکتا۔ جب آڈٹ شدہ اکاؤنٹس ریکارڈ پر آجائیں تو انکوائری نہیں کی جاسکتی۔ فارن فنڈںگ سے متعلق عمران خان کو سازش کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا کہ سیاسی جماعت کے اکاؤنٹس نجی کیسے ہو سکتے ہیں؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ‘قانون کے مطابق ہر سیاسی جماعت نے اپنا حساب دینا ہے اور یہ حساب الیکشن کمیشن نے لینا ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ‘ کیا یہ قابل قبول دفاع ہے کہ الیکشن کمیشن اسکروٹنی نہیں کرسکتا’ جس پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیٹیکل پارٹی آرڈر کی شق 13 کے تحت سیاسی جماعت ہر سال اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی پابند ہے تاہم الیکشن کمیشن پارٹی فنڈنگ کا آڈٹ نہیں کرسکتا۔ جب آڈٹڈ اکاؤنٹس ریکارڈ پر آجائیں تو انکوائری نہیں ہو سکتی، فارن فنڈنگ سے متعلق پی ٹی آئی اور عمران خان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 17 کے تحت تمام سیاسی جماعتیں اپنے  فنڈز کا حساب دیں گے تو الیکشن کمیشن انکوائری کیوں نہیں کرسکتا، آپ رول 6 پڑھ لیں۔الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کلیئر قرار نہیں دیا۔

جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ کوئی خود سے نہیں بتائے گا کہ اس نے ممنوعہ فنڈنگ لی۔تفصیلات چھپانے پر کیا کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوسکتی۔

عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ ہم تمام ذرائع واضح کرچکے ہیں۔

پارٹی فنڈنگ کے طریقہ کار سے متعلق عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتاتے ہوئے کہا کہ پانچ ہزار ڈالرز کارڈ کے ذریعے چارج کرتے ہیں۔

جس پر جسٹس بندیال نے سوال کیا کہ وہ 5 ہزار ڈالر دے کر نام نہیں بتاتے۔

اس کے بعد عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہوگئے۔

بعد ازاں حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو جواب الجواب میں کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے عدالت کو فنڈنگ کی جو دستاویزات جمع کرائی گئیں وہ سب جعلی ہیں، دستاویزات خود تیارکی گئی ہیں جب کہ تحریک انصاف نے اصل فنڈز کو خفیہ رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ۔ہم نے دستاویزات پرموجود ایک ایک نام کا جائزہ لیا ہے وہ فارا ریکارڈ پر موجود نہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہم فارا کو معلومات نہ دینے پر اس ریکارڈ کو جعلی کہیں؟

اکرم شیخ نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے جواب میں خود کہاہے کہ انہوں نےحلال کو حرام سے الگ رکھا، حرام فنڈنگ انتظامی طور پر خرچ کی گئی جبکہ حلال فنڈنگ پاکستان بھیجے گئے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ جواب میں حرام نہیں ممنوعہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔جواب میں کہا گیا ہے کہ قابل اعتراض فنڈز باہر خرچ کیے جبکہ پاکستان میں آنے والے فنڈز جائز ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نہ کسی حد تک ممنوعہ فنڈنگ لی گئی ہے۔

اس موقع پر جسٹس فیصل عرب نے اکرم شیخ سے سوال کیا کیا وہ عدالت سے فنڈز ضبط اور جماعت پر پابندی نہیں مانگ رہے۔

جواب میں وکیل کا کہنا تھا کہ میں مختصر کیس لایا ہوں اور عدالت سے عمران خان کی نااہلی چاہتاہوں۔

بعدازاں جواب الجواب مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *