چین ناقابل تسخیر انٹرنیٹ سسٹم متعارف کروائے گا

چین ناقابل تسخیر انٹرنیٹ سسٹم متعارف کروائے گا

بیجنگ: پچھلے کچھ سالوں میں سائبر حملوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے چین نے ان بڑھتے ہوئے حملوں کو روکنے کا فیصلہ ہے جو روز بروز جدید ترین ہوتے جا رہے ہیں۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام ٹیکنالوجی ڈیسک کے مطابق چین جو دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ مارکیٹ ہے، ایک ناقابل تسخیر انٹرنیٹ شروع کرنے جا رہا ہے، اس نیٹ ورک پر کسی بھی حملے کا فوری پتا چلایا جا سکے گا۔

اس مقصد کیلئے کوانٹم کرپٹوگرافی کا استعمال کیا جائے گا، یہ اپنی نوعیت کا پہلا کپٹوگرافی سسٹم ہوگا جس کو لاگو کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ چین کے صوبے جنین میں شروع کیا جا رہا ہے، اس منصوبے کی جانچ کیلئے ملٹری، فائنینس، اور بجلی کے شعبوں سے تقریبا 200 افراد کو شامل کیا جائے گا، ان سیکٹرز کی سکیورٹی کیلئے ان کو بھیجے گئے پیغامات کی آزمائش کی جائے گی۔

ملک میں کوانٹم مواصلات کے آغاز کے ساتھ چین انترنیٹ سکیورٹی کے حوالے سے ایپلی کیشنز کی ترقی میں بڑا قدم اٹھا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں دیگر ممالک بھی چین سے اس ٹیکنالوجی حاصل کریں گے۔

اس طریقہ کار میں کا استعمال کرتے ہوئے روشنی کے زرات والی پیغام کی کلید بھیجی جاتی ہے، ایک بار جب نوڈ کی جاب سے کلید موصول ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے پیغام بھیجا گیا ہے۔

اگر روشنی کے ذرات میں کسی قسم کی مداخلت کی جاتی ہے تو فوری طور پر پتا چل جاتا ہے کیونکہ ذرات تبدیل یا خراب ہو جاتے ہیں جس کا مطلب ہوگا کہ ہیکرز کا حملہ ناکام ہوگیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی اتنی ہی محفوظ ہے تو صرف چین ہی کیوں استعمال کر رہا ہے؟

اس سوال کا جواب امپیریل کالج لندن کے پروفیسر میونگشک کم دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بہت زیادہ پیچیدہ ہے اور دنیا اسے غیر ضروری سمجھتی ہے۔

دوسری وجہ اس کا بہت زیادہ مہنگا ہونا بھی ہے اس لئے کوئی انویسٹر اس حوالے سے دلچسپی نہیں لیتا۔

ماہرین کے مطابق آج کے دور میں سائبر حملوں کا بہت زیادہ خدشہ ہے، اس لئے دنیا کو اس حوالے سے اقدامات کرنا چایئے کیونکہ ان حملوں کی وجہ سے لاکھوں کمپیوٹرز کو رواں رکھنے والا سرور متاثر ہوتا ہے جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *