سوشل میڈیا کو غلط معلومات پہچاننے کے لئے کیسے استعمال کریں

سوشل میڈیا کو غلط معلومات پہچاننے کے لئے کیسے استعمال کریں

سوشل میڈیا پر غلط معلومات کی شناخت کر کے ان سے کیسے بچیں کا سوال سماجی رابطوں کی دنیا کے ہر ذی شعور صارف کو پریشان کرتا ہے۔ خصوصا صحافی یا وہ لوگ جو ان معلومات کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، ان کے لئے اس سوال کا جواب جاننا مزید لازم ہو جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر مشکوک یا جعلی اطلاعات اور خبروں کی موجودگی کے باوجود اس کی افادیت مسلمہ ہے یہی وجہ ہے کہ اس ذریعے کو ترک کرنے کے بجائے بچائو کے طریقوں پر توجہ دی جاتی ہے۔

ذیل میں ہم کچھ ایسے طریقے اور ٹولز آپ سے شئیر کریں گے جو سوشل میڈیا مانیٹرنگ کو صحافیوں سمیت باقی معلومات چاہنے والوں کے لئے مفید بنائیں گے۔

فیس بک یا ٹوٹر کو کیسے درست معلومات کے لئے مانیٹر کیا جائے، سوچنے سے قبل یہ طے کر لیں کہ آپ نے کیا مانیٹر کرنا ہے؟ آیا آپ کسی خاص موضوع کو دیکھنا چاہ رہے ہیں یا کسی گروپ کو۔

ٹوٹر Twitter
مائیکروبلاگنگ کی دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹس جسے اوپینئن لیڈرز کی پسندیدہ سائٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، معلومات تک رسائی یا مانیٹرنگ کا اہم ٹول ہے۔ ٹوٹر پر مطلوبہ مواد تک پہنچنے کے لئے سر چ اور لسٹس دونوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کسی مخصوص اصطلاح یا لفظ (ہیش ٹیگ، ڈومین، یوزرنیم وغیرہ) کے ذریعے اس کے گرد ہونے والی سرگرمی تک پہنچنا بالکل بھی مشکل نہیں ہے۔ اس سے پہلے خود سے یہ سوال کر لیں کہ:
کیا میں کسی ایسی سائٹ کو براہ راست جانتا ہوں جو غلط معلومات فراہم کرتی ہے؟
کیا مجھے جس ٹویٹ کی تلاش ہے اس میں کچھ مخصوص اصطلاحات یا الفاظ شامل ہوں گے؟ مثلا پاناما Panama یا پاناما فیصلے #PanamaVerdict
کیا کچھ ایسے ٹوٹر اکاونٹس ہیں جو مذکورہ ٹویٹس میں مینشن کئے گئے ہوں گے؟

اپنی تلاش کی وسعت کو جاننے کے لئے آپ ٹوٹر سرچ کی ای پی آئی دستاویزات کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اگر کبھی ایک سے زائد الفاظ پر مشتمل اصطلاح کے ذریعے کچھ سرچ کرتے ہوئےآپ کو صحیح مواد نہ ملے تو کوشش کریں کہ اپنی سرچ کی اصطلاح کو ایک ایک لفظ میں تقسیم کر کے تلاش کریں۔

یہ بھی دیکھیں: صحافت میں ورچوئل ریالٹی: صحافی اس ٹیکنالوجی سے کیسے اپنا اثر بڑھا سکتے ہیں

ایک بار جب آپ سرچ کے لئے اصطلاح یا ترکیب کو طے کر لیں تو ٹوٹر سرچ بار میں لکھیں اور انٹر کر دیں۔ اگر اس کے نتیجے میں آپ کو بہت ساری غیر متعلق ٹویٹس نظر آئیں تو ان ریزلٹس کو آپریٹر ’-‘ استعمال کر کے نکال دیں۔ اس عمل کو اس وقت تک جاری رکھیں جب تک آپ یقینی نہ ہوں کہ آپ نے زیادہ واضح سرچ اصطلاح تلاش کر لی ہے۔

اگر آپ کا ارادہ ہے کہ اس سرچ اصطلاح کو آئندہ بھی استعمال کرنا ہے تو اسے اپنی ڈیوائس پر کہیں اور بھی محفوظ کر لیں۔

اصطلاح کو بنیاد بنا کر سرچ کرنے کے علاوہ مانیٹرنگ کے لئے ٹوٹر پر لسٹیں بھی مرتب کی جا سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں آپ ایک جیسے اکاونٹس کو ایسے گروپس کی شکل دے سکتے ہیں جو جب ضرورت پڑے تو ایک کلک کے فاصلے پر موجود رہا کریں گے۔

اگر چہ خود لسٹ بنانا ایک جاں گسل کام ہے تاہم اس سے بچنے کے لئے آپ باقیوں کی بنائی گئی ان ٹوٹر لسٹس کو استعمال کر سکتے ہیں جو پبلک یا عام رکھی گئی ہوں۔ دوسری کی لسٹس کو مانیٹر کرتے ہوئے یاد رکھیں کہ وہ کسی معقول ذریعے کی بنائی گئی ہوں کیونکہ ٹوٹر پر بھی ’عقلبندوں‘ کی کمی نہیں ہے۔

ٹوٹر پر خبروں کے جعلی ذرائع سے آگاہ ہونے کے لئے آپ گوگل سرچ انجن پر بھی یہ طریقہ استعمال کر سکتے ہیں۔ گوگل کی سرچ بار میں یہ لکھیں fake news site:twitter.com/*/lists جو نتائج سامنے آئیں ان کا جائزہ لے لیں کہ جس نے یہ فہرست بنائی ہے وہ اس کے مفہوم و معانی سے بخوبی آگاہ اور مستند ذریعہ ہے یا نہیں۔

ریڈڈٹ Reddit
معلومات جمع کرنے والوں باالخصوص صحافیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی اس سائٹ کو نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹس کی رینکنگ بتانے والی سائٹس Alexa الیگزا کے مطابق یہ دنیا کی مقبول ترین بڑی سائٹس میں سے ایک، حتی کہ ٹوٹر سے زیادہ مقبول ہے۔ فیس بک اور ٹوٹر پر پھیلائے جانے والے غلط معلومات یا Misinformation عموما یہیں سے سفر شروع کرتی ہیں۔

2013 میں ایسا ہی ایک واقع اس وقت سامنے آیا تھا کہ جب بوسٹن میراتھون دھماکے کے حملہ آور کے طور پر براون یونیورسٹی کے ایک گمشدہ طالب علم کو پیش کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی جانیں: ڈیٹا جرنلزم: صحافیوں کے لئے اپنی اسٹوریز ڈیٹا کے ساتھ بیان کرنے کی راہنما ہدایات

ریڈڈٹ کو متعدد اوپن فورمز اور سب ریڈٹس کے مجموعے سے تشکیل دیا گیا ہے۔ سیاست سے لے کر زندگی کے بیشتر موضوعات پر مشتمل یہ سب ریڈٹس تھوڑی بہت شرائط کے ساتھ ہر صارف کے لئے کھلے رہتے ہیں جہاں کوئی بھی کچھ بھی شئیرکرسکتا ہے۔

اس سائٹ پر سرچ کرنے کے لئے آپ ہر سب ریڈٹ کے اوپر موجود نیلے رنگ کی سرچ بار کو بھی استعمال کر سکتے ہیں اور جنرل سرچ کے صفحے کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ دونوں ہی جگہوں سے آپ کی تلاش کے لئے پوری سائٹ کے تمام سب ریڈٹس کو جانچا جاتا ہے۔

ایک بار آپ کے سامنے نتائج آ جائیں تو آپ متعلقہ سب ریڈٹ کو بآسانی تلاش کر سکتے ہیں۔ ان میں آپ کو درکار معلومات خاصی مقدار میں موجود ہوتی ہیں۔ جنہیں کراس چیک کرنا اسی سب ریڈٹ یا ملتے جلتے سب ریڈٹ میں بھی ممکن ہوتا ہے۔

آپ چاہیں تو ریڈٹ سرچ کے ذریعے کسی خاص ویب سائٹس مثلا pakistantribe.com کو بھی سرچ کر سکتے ہیں۔

فیس بک Facebook
دیگر پلیٹ فارمز کے مقابلے میں فیس بک پر سرچ کا عمل خاصا محدود ہے۔ یہاں آپ وہی مواد دیکھ سکیں گے جو صارفین نے عام کر رکھا ہو گا۔ فیس بک پبلک فیڈ تک براہ راست رسائی نہیں دیتا اس لئے بھی درست مواد کا مل جانا یقینی نہیں ہے۔ بہت محدود پبلشرز کے علاوہ فیس بک کسی کو صارفین کے اسٹیٹس بھی کلی طور پر نہیں دکھاتا۔

اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ عوامی آرا کو مجموعی طور پر آسانی سے مانیٹر کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ آپ کسی مخصوص صفحے یا گروپ میں محدود رہ کر وہیں کا مواد دیکھ سکتے ہیں۔

ملتی جلتی خبر: پاکستان میں سوشل میڈیا کے مقبول ترین ٹی وی چینلز اور موضوعات

فیس بک سرچ کو استعمال کرنا اسی صورت میں مفید ہے کہ جو اصطلاح آپ تلاش کرنا چاہتے ہیں اس کے متعلق آپ یقینی معلومات رکھتے ہوں۔

ٹوٹر کی طرح فیس بک پر بھی گوگل آپ کے کام آسان آسکتا ہے۔ site:facebook.com/pages یا site:facebook.com/groups کو اپنی تلاش بنائیں اور مختلف پیجز یا گروپس کے ناموں اور ان کے متعلق ابتدائی معلومات حاصل کر لیں۔

فعال پیجز کو تلاش کرنے کے لئے آپ گوگل سرچ میں ٹولز اور اینی ٹائم یا کسی بھی وقت کو کلک کر لیں۔ تکنیکی طور پر آپ کسی صفحے یا پبلک گروپ میں کچھ مخصوص تلاش کرنے کے لئے فیس بک کی اپنی سرچ بار کو استعمال کر سکتے ہیں لیکن سامنے آنے والے نتائج میں اپنے مطلب کے مواد تک پہنچنے کے لئے آپ کو خاصے غیرضروری مواد کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

شاہد عباسی

پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹیجسٹ شاہد عباسی، پاکستان ٹرائب کے بانی، ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے اولین ڈیجیٹل میڈیا صارفین میں سے ایک شاہد عباسی بلاگنگ اور خارزار صحافت کے علاوہ اپنے کریڈٹ پر دو ناولز بھی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *