تحریک انصاف کے اتحادی وزرا نے استعفے دے دیے

تحریک انصاف کے اتحادی وزرا  نے استعفے دے دیے

پشاور: تحریک انصاف کی جانب سے اتحاد ختم کئے جانے کے اعلان کے بعد قومی وطن پارٹی کے دو وزرا اور دو مشیروں نے اپنے استعفی گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال کر دیے ہیں۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے نمائندہ کے مطابق وزرا اور مشیروں کی جانب سے استعفے پارٹی سربراہ آفتاب شیرپائو کو ان کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس کے دوران جمع کروائے گئے تھے۔

آفتاب شیر پاو نے وزیراعلی کی کابینہ میں شامل پارٹی اراکین کی جانب سے استعفے دیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے کہ آفتاب شیرپاو کے بیٹے سکندر حیات شیرپاو اور انیسہ زیب طاہر خیلی خیبرپختونخوا حکومت کے وزرا جب کہ ارشد عمرزئی اور عبدالکرم خان وزیراعلی کے مشیر تھے۔

قومی وطن پارٹی کی قیادت کا کہنا تھا کہ 2015 میں اتحادی حکومت میں واپسی کے وقت طے پانے والے 6 نکاتی سمجھوتے میں طے پایا تھا کہ اہم معاملات پر ایک دوسرے کو اعتماد میں لیا جائے گا تاہم ہمیں پی ٹی آئی نے پاناما معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا۔

آفتاب شیرپاو کا کہنا تھا کہ قومی وطن پارٹی ایک آزاد جماعت ہے جو اپنی پالیسیوں کے مطابق کام کرتی ہے۔

اتوار کو طویل میٹنگ کے بعد طے کیا گیا کہ وطن پارٹی کے اراکین، صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھیں گے۔

آفتاب شیرپاو کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی نااہلی آغاز ہے، ابھی دیکھنا ہو گا کہ مزید کتنوں کی باری آتی ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت سے کیو ڈبلیو پی کی علیحدگی پر تاحال وزیراعلی پرویز خٹک کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ وہ ہفتے کو تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے بھی غیر حاضر رہے تھے۔

یاد رہے کہ 123 رکنی صوبائی اسمبلی میں قومی وطن پارٹی کے اراکین کی تعداد 10 ہے۔ اگر ان کی علیحدگی سے تحریک انصاف کی اتحادی حکومت پر کوئی فوری اثر تو نہیں پڑا البتہ اپوزیشن اراکین کی تعداد بڑھ کر 54 ہو گئی ہے۔

یہ دوسری بار ہے کہ قومی وطن پارٹی کو خیبرپختونخوا کی اتحادی حکومت سے نکالا گیا ہے۔ پہلی بار نومبر 2013 میں وزیراعلی پرویز خٹک نے اتحادی وزرا پر کرپشن میں ملوث ہونے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی بنیاد پر انہیں الگ کر دیا تھا۔ تاہم اکتوبر 2015 میں اتحاد بحال ہو گیا تھا۔

وزیراعلی پرویز خٹک اور شیرپاو خاندان میں قریبی تعلقات ہیں۔ پرویز خٹک کو پاکستان پیپلزپارٹی شیرپاو کا صوبائی صدر بھی نامزد کیا گیا تھا۔ 2002 کے عام انتخابات میں موجودہ وزیراعلی کے بھائی لیاقت خٹک پی پی پی شیرپاو کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی بنے تھے جب کہ 2008 میں پرویز خٹک انہی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔

ہفتے کو خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات شاہ فرمان نے اسلام آباد میں ہونے والے اعلی سطحی اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت قومی وطن پارٹی سے اپنا اتحاد ختم کر رہی ہے۔ وجہ بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیو ڈبلیو پی نے پاناما معاملے پر نواز شریف کو سپورٹ کیا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *