جوتنخواہ لی نہیں، وہ ڈکلئیر کیوں کروں؟ نواز شریف پھٹ پڑے

جوتنخواہ لی نہیں، وہ ڈکلئیر کیوں کروں؟ نواز شریف پھٹ پڑے

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے ایک روز قبل نااہل قرار دیے جانے کے بعد پارٹی کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ جس تنخواہ کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا ہے وہ لی ہی نہیں تو بتایا کیوں جائے۔

ہفتے کو وفاقی دارالحکومت کے پنجاب ہاؤس میں ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ فخر ہے میری نااہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ جلاوطنی کے دور میں ویزہ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کمپنی کو استعمال کیا گیا۔ اس دور میں جب میں سعودی عرب سے لندن گیا تو وہاں میں 3 ماہ سے زیادہ نہیں رہ سکتا تھا، مجھے کہیں اور جانے کے بعد پھر واپس آنا پڑتا تھا۔ اس دوران میرے لئے پاکستان کا ویزہ لینا ممکن نہیں تھا۔

ویزے کا یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے دبئی میں کمپنی میں بات کی گئی۔ اس دوران تکنیکی مسائل کی وجہ سے مجھے اپنے ہی بیٹے کی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا چئیرمین بنا دیا گیا۔ اس عہدے کی مناسبت سے ایک تنخواہ بھی طے کی گئی۔

ایک روز قبل تک وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہو چکا لیکن مجھے اس پر کوئی دکھ نہیں بلکہ خوشی ہے کہ میرے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان کو بدلنا ہے۔ اس مقصد کے لئے میں آپ کا دن رات کا ساتھی ہوں۔ مجھے خوشی ہو گی کہ اگر ہم پاکستان کی سمت متعین کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب یہ الزام لگایا گیا ہے کہ تنخواہ وصول کیوں نہیں کی گئی، وصول کرو تو مصیبت ہے نا کرو تو مصیبت ہے۔ اس ملک میں جن لوگوں نے ایسا کیا وہ آزاد ہیں جب کہ جنہوں نے پلے سے قوم کے لئے خرچ کیا ان کے خلاف یہ فیصلے ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں حیران ہوں کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کدھر یہ ملک جا رہا ہے؟ کدھر اسے لے جایا جا رہا ہے؟ گزشتہ سوال برس ہمارا اسی پاناما لیکس میں گزرا گیاہے۔ اس معاملے میں اتنی دھول اڑائی گئی ہے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ کوئی چینل زمین آسمان کے قلابے ملا رہا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے کچھ نابالغ قسم کے سیاستدانوں نے حد کر دی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہاں جیبیں بھری ہوئی ہیں اور یہ ڈکلئیر نہیں کرتے۔ یہ کیا ہورہا ہے؟ ملک کو واپس کس سمت میں لے جایا جارہا ہے۔ عوام کو فیصلہ کرنا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر ہے۔ میرا ضمیر صاف ہے کہ میں نے قوم کی امانت میں خیانت نہیں کی، جب ضمیر صاف ہے تو کیوں کسی کے کہنے پر استعفی دوں۔ جب استعفی نہیں دیا تو ایسے نکال دیا گیا ہے۔ یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ایک نظریاتی آدمی ہوں۔ آج سے بیس یا پچیس برس قبل شاید میں نظریاتی اتنا نہ تھا لیکن حالات نے مجھے اب ایسا کردیا ہے۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ آپ کو فخر ہونا چاہئے کہ آپ کے قائد کا دامن صاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے ہر اثاثے پر ٹیکس دیتا ہوں۔ موجودہ عہد میں ہی نہیں بلکہ ماضی میں بھی کسی دور میں قوم کی امانت میں خیانت نہیں کی۔

سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے ذرائع آمدن کیا ہیں۔ وہ ماضی میں زیادہ ٹیکس دیتے تھے تو اب کیوں کم دے رہے ہیں۔ میرا ٹیکس تو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر میرا نظریہ پیسہ کمانا ہی ہوتا تو ایٹمی دھماکے کرنے کے بجائے 5 ارب ڈالر رد نہ کرتا۔ اس وقت دنیا بھر کے دباؤ کا سامنا اس لئے کیا کہ جس ملک سے تین جنگیں لڑ چکے اس کے مقابل اپنی غیرت اور عزت کو برقرار رکھ سکیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ماضی میں کبھی ہائی جیکر بنایا گیا کبھی ہیلی کاپٹر کیس ڈالے گئے، سزائے موت کے ڈراوے دیے گئے لیکن ان سب حالات کا سامنا عزم و ہمت سے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمسائیوں کے ساتھ معاملات کو بہتر بنانے کی کوششیں کیں۔ ملک کی اقتصادیات کو بہتر راستے پر لائے لیکن اس کا یہ صلہ دیا گیا۔ ماضی میں بھی جب اٹک قلعے میں قید کیا گیا تو اس وقت بھی چند لوگوں نے ایسا کیا تھا۔

اٹک قلعے میں اپنی قید کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب میں باہر دیکھتا تو وہاں ڈیوٹی پر موجود فوجی اہلکار ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگا کرتے تھے۔ جب مارشل لاء لگتا ہے تو سارے فوجی اس کے حامی نہیں ہوتے۔

پارلیمانی پارٹی نے اس موقع پر نااہلی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی بھی منظور دی۔

قبل ازیں ن لیگ کی سینئر قیادت کے اجلاس میں عبوری وزیراعظم کے لئے شاہد خاقان عباسی اور آئندہ وزیراعظم کے لئے شہباز شریف کے ناموں کی منظوری دی گئی تھی۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عبوری وزیراعظم کیلئے شاہد خاقان عباسی اور آئندہ وزیراعظم کیلئے شہباز شریف کے ناموں کی توثیق کر دی۔

یہ بھی دیکھیں: پاناما کیس فیصلے کا مکمل اردو ترجمہ

ن لیگ نے طے کیا تھا کہ شہباز شریف کو لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 سے انتخابات میں کامیاب کروا کر قائد ایوان منتخب کروایا جائے گا۔ اس دوران 45 دنوں کے لئے شاہد خاقان عباسی عبوری وزیراعظم ہوں گے۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے لاہور سے تعلق رکھنے والی اپنی خاتون رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو شہباز شریف کے مدمقابل امیدوار لانے کا اعلان کیا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *