پاناما کیس فیصلے کا اردو ترجمہ

پاناما کیس فیصلے کا اردو ترجمہ

پاکستان کی سیاسی و عدالتی تاریخ کے مشہور زمانہ مقدمہ پاناما لیکس کا اونٹ نواز شریف کی نااہلی کے ساتھ ایک کروٹ بیٹھ چکا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بینچ کی جانب سے جمعہ 28 جولائی کو پاناما کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔

ذیل میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی، تحریری فیصلے کا اردو ترجمہ دیا جارہا ہے۔

Panama Case Verdict Urdu Tranlsation پاناما کیس فیصلے کا اردو ترجمہ

(اصل مقدمہ)
موجودہ بنچ
مسٹر جسٹس اعجاز افضل خان،مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید، مسٹر جسٹس اعجاز الحسن

 

2016کی آئینی درخواست نمبر 29 میں C.M.Aنمبر 4978(2017)،(جے آئی ٹی کی پیش کردہ رپورٹ)
اور
2016کی آئینی درخواست نمبر 29میں C.M.Aنمبر 2939(2017)
عمران احمد خان ودیگر ۔ ۔۔درخواست گزار،
بنام
میاں محمد نواز شریف، وزیر اعظم پاکستان۔۔۔مدعاعلیہ
اور
2016کی آئینی درخواست نمبر 29، (آئین کے آرٹیکل 184کے تحت)
عمران احمد خان نیازی درخواست گزار
بنام
میاں محمد نواز شریف، وزیر اعظم پاکستان،وغیرہ مدعاعلیہان
اور
2016کی آئینی درخواست نمبر30، )آئین کے آرٹیکل 184کے تحت)
شیخ رشیداحمد۔ درخواست گزار
بنام
وفاق پاکستان بذریعہ سیکر ٹری قانون، جسٹس اور پارلیمانی ڈویژن ،وغیرہ مدعا علیہان
اور
2017کی آئینی درخواست نمبر 3، )آئین کے آرٹیکل 184کے تحت)
سراج الحق ،امیر جماعت اسلامی ،پاکستان۔درخواست گزار
بنام
وفاق پاکستان بذریعہ وزارت پارلیمانی امور، اسلام آبادو دیگرمد عاعلیہان

ان اٹنڈینس
(آئینی درخواست نمبر 29،2016)

درخواست گزاروں کے لیے:
سید نعیم بخاری،ASC
مسٹر سکندر بشیر محمد ،ASC
مسٹر فواد حسین چوہدری،ASC
مسٹر فیصل فرید حسین،ASC
چوہدری اختر علی ،AOR

معاون وکلا:
بیرسٹر مالیکا بخاری
شاہد نسیم گوندل،ایڈوکیٹ
کاشف نواز صدیقی ،ایڈوکیٹ
ایم ۔عمران خان،ایڈوکیٹ

مدعاعلیہ نمبر 1کے لیے:
خواجہ حارث احمد، Sr.ASC
معاون وکلا:
محمد امجد پرویز،ASC
سعد ہاشمی،ایڈوکیٹ
عدنان خواجہ، ایڈوکیٹ

مد عاعلیہ نمبر 2کے لیے:
مسٹر اکبر تارڑ،APGA
مسٹر ارشد قیوم,ایس پی ایل۔پراسیکیوٹر
چوہدری محمد فرید حسین ,ایس پی ایل۔پراسیکیوٹر
مسٹر عمران الحق ,ایس پی ایل۔پراسیکیوٹر
مسٹر اجمل عزیز,ایس پی ایل۔پراسیکیوٹر

مد عاعلیہ نمبر 3تا5:
مسٹر محمد وقار رانا۔Addl.A.G
مسٹر ایم ایس۔خٹک،AOR

معاون وکلا:
بیرسٹر اسد رحیم خان

مدعاعلیہان 6تا9کے لیے:
مسٹر سلمان اکرم راجہ،ASC
سید رفاقت حسین شاہ،AOR

معاون وکلا:
اسد لاڈھا،,ایڈوکیٹ
غلام شبیر ملک ،ایڈوکیٹ
عثمان علی بھون،ایڈوکیٹ
ایم۔شکیل مغل ،ایڈوکیٹ
آفتاب ظفر ،ایڈوکیٹ

مدعاعلیہ نمبر 10کے لیے:

ڈاکٹر طارق حسن،ASC
سید رفاقت حسین شاہ ،AOR

آئینی درخواست نمبر 30((2016
درخواست گزاروں کے لیے: شیخ رشید احمد(ان پرسن)
مد عاعلیہان نمبر 1اور 3کے لیے:
مسٹر محمد وقار رانا،Addl.A.G

معاون وکلا:
بیرسٹر اسد رحیم خان

مد عاعلیہ نمبر 2 کے لیے:
مسٹر اکبر تارڑ ،APGA
مسٹر ارشد قیوم ،ایس پی ایل ،پراسیکیوٹر
چوہدری ایم۔فرید الحسن،ایس پی ایل،پراسیکیوٹر
مسٹر عمران الحق ,ایس پی ایل۔پراسیکیوٹر
مسٹر اجمل عزیز,ایس پی ایل۔پراسیکیوٹر

مد عاعلیہ نمبر 4کے لیے:
خواجہ حارث احمد، Sr.ASC

معاون وکلا:
محمد امجد پرویز،ASC
سعد ہاشمی،ایڈوکیٹ
عدنان خواجہ،ایڈوکیٹ

تاریخ سماعت: 17تا 21جولائی،2017، )فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے)

آئینی درخواست نمبر 03، 2017

درخواست گزار کیلئے:
توفیق آصف آصف ASC.

معاون وکلا:
عاطف علی خان ASC.
اجمل غفار طور، ایڈووکیٹ
سیف اللہ گوندل، ایڈووکیٹ
شیر حماد خان، ایڈووکیٹ

مدعا علیہان نمبر 1 تا 3 کیلئے:
وقا رانا Addl. A. G.
ایم ایس خٹک AOR

معاون وکیل:
بیرسٹر اسد رحیم خان

مدعاعلیہ نمبر 4 کیلئے:
خواجہ حارث احمد، Sr. ASC

معاون وکلاء:
محمد امجد پرویز ASC
سعد ہاشمی، ایڈووکیٹ
عدنان خواجہ، ایڈووکیٹ

تاریخ سماعت:
17 تا 21 جولائی 2017
(فیصلہ محفوظ کر لیا گیا)

 

فیصلہ

، جسٹس اعجاز افضل ۔ یہ فیصلہ ہمارے 20-04-2017 کو کیے گئے فیصلے کا تسلسل ہے جو آئینی درخواست نمبر 29, 30، 2016 اور نمبر 04، 2017 کا فیصلہ ہے جومندرجہ ذیل عدالتی حکم پر اختتام پذیر ہوا :

، 1۔’’3/2 کے اکثریتی فیصلے (جس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ لکھا )، میں ہم نے سوالات اٹھائے تھے کہ گلف سٹیل ملز کیسے لگائی گئیں، اسے فروخت کیوںکیا گیا، اس کے ذمہ قرضہ جات کا کیا بنا، اس کی فروخت کا حتمی نتیجہ کیا تھا۔ وہ جدہ ،قطر اور برطانیہ کیسے پہنچے ، کیا مدعاعلیہان نمبر 7 اور 8 اپنی نوعمری میں 1990ء کی دہائی کے اوائل میں اتنے مہنگے فلیٹس خرید سکتے تھے ، کیا حماد بن جاسم بن جابر التھانی کے خطوط کی اچانک آمد حقیقت ہے یا افسانہ ۔ شیئرز کے شراکت دار وں نے فلیٹس کی ملکیت کس طرح طے کی ۔ میسرز نیلسن انٹر پرائزرز لمیٹڈ اور میسرز نیسکول لمیٹڈکااصل فائدہ اٹھانے والا مالک کون ہے ۔ہل میٹل اسٹبلشمنٹ کس طرح قائم ہوئی۔ مدعاعلیہ نمبر 8 کے پاس فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈ، اور قائم کردہ دیگر کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے لیے رقم کہاں سے آئی ۔ ایسی کمپنیوں کے ذریعے کاروبار کرنے کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا، اور مدعاعلیہ نمبر 1 کو مدعاعلیہ نمبر 7 کی طرف سے جو بھاری رقوم کے تحائف ملے ، وہ کہاں سے آئے ، اوردرحقیقت ان معاملات کے جوابات درکار تھے۔

2۔ معمول کے حالات میںایسی کارروائی عام طور پر نیب کرتا ہے ، لیکن جب اس کا چیئرمین اس سے لاتعلق ہوبلکہ وہ اپنا کردار بھی ادا کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو پھر ہمیں تحقیقات کے دیگر ذرائع کی مدد لینی پڑی۔ چنانچہ اس مقصد کیلیے ایک جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ، جو مندرجہ ذیل ممبران پر مشتمل تھی۔

(i) ایف آئی اے کا ایک سینئر افسر، جس کارینک ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سے کم نہ ہواور جووائٹ کالر کرائم اور متعلقہ امور کی تحقیقات کا تجربہ رکھتے ہوئے ٹیم کی قیادت کرسکے ۔

(ii) قومی احتساب ادارے (نیب ) کا ایک نمائندہ
(iii) سیکیورٹی اینڈ ایکس چینچ کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی)کا نامزدکردہ ایک افسرجو منی لانڈرنگ اور وائٹ کالر کرائمز سے واقف ہو۔
(iv) اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا ایک نمائندہ
(v) انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی ) کا ایک نمائندہ جسے اُس کے ڈی جی نے نامزد کیا ہو، اور
(vi) ملٹری انٹیلی جنس ( ایم آئی ) کا ایک تجربہ کار افسر جسے اُس نے ڈی جی نے نامزد کیا ہو

3۔ مندرجہ بالا محکموں اور اداروں کے سربراہ اپنے نامزدہ کردہ افسران کے نام سات روز کے اندر اندر ہمارے چیمبرز میں نامزدگی اور منظوری کے لیے بھجوادیں۔ جے آئی ٹی اس کیس کی تحقیقات کرتے ہوئے شہادت اکٹھی کرے گی کہ کیا مدعاعلیہ نمبر 1 یا اس کے زیر ِ کفالت کسی اورفرد ، یا بے نامی دار مالک نے اعلانیہ آمدنی کے ذرائع سے بڑھ کر اثاثے تو نہیں بنا رکھے ۔ مدعاعلیہان نمبر 8,7,1 کو ہدایت کی گئی کہ وہ بلانے پر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں اور پوچھے گئے سوالات کا جواب دیں۔ جے آئی ٹی اُس مواد یا شہادت کی جانچ کرسکتی ہے جو پہلے سے ہی نیب اور ایف آئی اے کے پاس موجود ہے اور جس کا مذکورہ فلیٹس یا دیگر مالیاتی وسائل کے حصول اور ملکیت سے کوئی تعلق نکلتا ہے ۔ جے آئی ٹی عدالت کے تشکیل دیے ہوئے عمل درآمد بنچ کو دوہفتوں کے بعد رپورٹ پیش کیا کرے گی اور یہ اپنا تحقیقاتی کام ساٹھ روز میں مکمل کرلے گی ۔ بنچ آرٹیکلز 184(3)، 187(2) اور 190 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے حکم نامے جاری کرسکتا ہے ، جس میں مدعاعلیہ نمبر 1 یا کسی اور شخص، جو اس جرم میں ملوث ہو، کے خلاف ریفرنس فائل کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اُس کے سامنے پیش کردہ مواد اسے اُس کے خلاف شہادت مل جاتی ہے۔

4۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ جے آئی ٹی کی پندرہ روزہ اور پھر حتمی رپورٹ وصول ہونے کے بعد مدعاعلیہ نمبر 1 کی نااہلی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر ضروری ہوا تو مدعاعلیہ نمبر1 یا کسی اور شخص کو طلب کرکے اُس سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

5۔ ہم محترم چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ایک خصوصی بنچ تشکیل دیا جائے تاکہ اس کیس کی تحقیقات کسی بند گلی میں نہ داخل ہوکر بے نتیجہ رہ جائیں۔

2۔ محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے عمل درآمد بنچ تشکیل دیا جو جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا ۔ بنچ نے 05-05-2017 کو حکم نامے کے ذریعے جے آئی ٹی تشکیل دی جس میں مسٹر عامر عزیزجو اکیسویں سکیل کے افسر ہیں اور NIBAF میں ڈیپوٹیشن پر ہیں، مسٹر بلال رسول جو سکیورٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، مسٹر عرفان نعیم مانگی، جو نیب کے ڈائریکٹر ہیںاور جو بیسواں سکیل رکھتے ہیں، بریگیڈئیر محمد نعمان سعید کا تعلق آئی ایس آئی اور کامران خورشید کا ایم آئی سے ہے، شامل تھے ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (امیگریشن ) ایف آئی اے ، واجد ضیا جے آئی ٹی کی سربراہی رہے تھے۔

3۔ اس طرح جے آئی ٹی نے سونپے گئے کام کی 10-07-2017 کو رپورٹ پیش کردی۔ متعلقہ پارٹیوں کو جے آئی ٹی کی تیار کردہ رپورٹ فراہم کردی گئی ۔ اُنہیں اس کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ۔ خواجہ حارث احمد، جو سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں، مدعاعلیہ نمبر 1 کی طرف سے پیش ہوئے اور رپورٹ پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے سی ایم اے(سول اپیل) جمع کرائی ۔ مدعالیہ نمبر 10 کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے بھی رپورٹ پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے ایسی ہی اپیل جمع کرائی ۔ آئینی درخواست نمبر 29، 2016 میںفاضل ایڈوکیٹ سپریم کورٹ پیش ہوئے ، جبکہ آئینی درخواست نمبر 30، 2016 میں درخواست گزار شیخ رشید احمد بذات ِخود عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔ آئینی درخواست نمبر 03، 2017 میں ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے سلسلے کو وہیں سے جوڑا جہاں گزشتہ سماعت پر ختم ہوا تھا اور بار کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ جے آئی ٹی نے اتنی شہادتیں اکٹھی کرلی ہیں جن سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مدعاعلیہ نمبر 1 ، اُن کے زیر کفالت افراد اور بے نامی دار اعلانیہ آمدن سے بڑھ کر وسائل اور اثاثے رکھتے ہیں، نیز مدعاعلیہ نمبر 1 ، اُن کے زیر کفالت افراد اور بے نامی دار تحقیقات سے پہلے یا ان کے دوران اپنے اثاثوں کے ذرائع بتانے میں ناکام رے ، اس لیے مدعاعلیہ نمبر 1 پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار پاتا ہے ۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ میوچل لیگل اسسٹنس کے ذریعے موزیک فونسیکا اینڈ کو (برٹش ورجن آئی لینڈ) لمیٹڈ کے ڈائریکٹر فنانشل انوسٹی گیشن ایجنسی اور اینٹی منی لانڈرنگ آفیسر، مسٹر ایرول جارج کی خط وکتاب کی حاصل کردہ تصدیق شدہ نقول ثابت کرتی ہیں کہ مدعاعلیہ نمبر 6 ہی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس سے فائدہ اٹھانے والی مالکن ہے ، چنانچہ جو دستاویزات اُسے ٹرسٹی ظاہر کرتی ہیں وہ من گھڑت اور جعلی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ جعلی دستاویزات استعمال کرنے کی پاداش میں مدعاعلیہ نمبر 6 کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ نیز کیلی بری فونٹ کو فروری 2006 ء میں دستاویزات کی تیار ی کے لیے استعمال کیا گیا حالانکہ مذکورہ فونٹ 2007 ء میں دستیاب ہوا تھا ۔ اس بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اُنھوںنے جعل سازی کی ۔ نیز اہلی سٹیل ملز، سابق گلف سٹیل ملز کے 25 فیصد شیئرز فروخت کرکے بارہ ملین یواے ای درہم حاصل کرنے کا طارق شفیع کا بیان بھی غلط معلوم ہوتا ہے، اور جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی اس جھوٹ کی تصدیق کرتی ہے۔ قطری خطوط میں بیان کردہ شہادت بے بنیاد تھی کیونکہ قطری شہزادہ نہ تو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا اور نہ ہی اُس نے کسی بھی قانونی طور پر قابل ِ قبول ذریعے سے اپنا موقف پیش کیا ۔مدعاعلیہان کو 20-04-2017 کو عدالتی حکم نامے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب دینے کے کافی مواقع فراہم کیے گئے ، لیکن اُنھوں نے اس سے گریز کی راہ اپنائی ۔ نیز قطری کے پہلے خط اور مسٹر طارق شفیع کے بیان ِ حلفی کے درمیان تضاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی قابل ِ اعتماد نہیں ہے ۔ نیز دوسرے قطری خط کے ساتھ منسلک اضافی شیٹ بھی مدعاعلیہان کے موقف کو ثابت کرنے میں ناکام رہی کیونکہ اس پر نہ دستخط ہیں اور نہ ہی کسی دستاویز سے اس کی تصدیق ہوتی ہے ، نیز یہ کہ رقم کی ترسیل کی تمام کہانی تضادات کا مجموعہ ہے جو مدعاعلیہان نے جے آئی ٹی کے سامنے دیے، نیز یہ کہ دبئی سے جدہ مشینری منتقل کرنے اور عزیزیہ سٹیل کمپنی قائم کرنے کی کہانی کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے، اور نہ ہی پتا چلا ہے کہ مدعا علیہ نمبر 7 کے پاس 63.10 ملین سعودی ریال کہاں سے آئے، قطع نظر اس کے کہ وہ 1/3 حصے کا حقدار تھا، چنانچہ ہل میٹلز اسٹبلشمنٹ قائم کرنے کے ذرائع بھی ثابت نہیں ہوتے ہیں۔ نیز مدعاعلیہ نمبر 1 نے اپنے ظاہر کردہ اثا ثوں میں یہ نہیں بتایا کہ وہ Capital FZE کا چیئرمین بھی ہے، چنانچہ وہ نااہل قراردیے جانے کا مستحق ہے کیونکہ قانونی طور پر ضروری تھا کہ وہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 ء کے سیکشن 12(2)(f)کے تحت انہیں اپنے کاغذات میں ظاہر کرے ۔مدعاعلیہ نمبر 1کاکہنا کہ اُس نے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی تھی لیکن متحدہ عرب امارات کی لیبر منسٹری اور جبل علی فری زون دستور کے رولز 11(6) اور 11(7) اس کے اس موقف کو جھٹلاتے ہیں کیونکہ منسٹریل ریگولیشن نمبر 788، 2009 کے ویچ پروٹیکشن کے تحت تمام ملازمین کو خودکار طریقے سے تنخواہ مل جاتی ہے ۔ نیز مدعاعلیہان نمبر 7 اور 8 کے اثاثوں میں حیران کن حد تک اضافہ ہوا حالانکہ اُ ن کی کاروباری تنظیمیں نقصان میں جارہی تھیں۔ چنانچہ جے آئی ٹی کی تحقیقات سے ثابت ہوگیا کہ ہل میٹلز اسٹبلشمنٹ کے قیام کے لیے وسائل کی فراہمی کے ظاہر کردہ اعدادوشمار بھی جعلی اور من گھڑت ہیں۔ نیز جے آئی ٹی کا حاصل کردہ مواد جو ریکارڈ پر موجود ہے ، اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہنے دیتا کہ مدعاعلیہ نمبر 1 ، اس کے بچوں اور بے نامی دار کے اثاثے اعلانیہ آمدنی سے کہیں بڑھ کرہیں،چنانچہ اثاثے ظاہر نہ کرنے کی پاداش میں مدعاعلیہ نمبر 1 نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9(a)(v) کے تحت نااہل قرار پاتا ہے ۔

4۔ مدعاعلیہ نمبر 1 کی طرف سے پیش ہونے والے فاضل وکیل کا اصرار تھا کہ جے آئی ٹی نے حدیبیہ پیپر ملز کھول کر اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا کیونکہ فاضل عدالت نے اس کا حکم نہیں دیا تھا ،اور یہ کہ اس کے لیے ہونے والی ایک اور تفیش یا تحقیقات کو یہ اصول روکتا ہے کہ ایک فیصلہ ہوجانے والے کیس کی ددسری تحقیقات نہیں ہوسکتیں کیونکہ ’’حدیبیہ پیپر ملز لمیٹڈ بنام وفاق پاکستان (PLD 2016 Lahore 667) ‘‘ میں کیس ختم ہوچکا ہے ۔ اور یہ کہ جے آئی ٹی کو ایسی کوئی شہادت نہیں ملی کہ مدعاعلیہ نمبر 1 کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ، ہل میٹلز اسٹبلشمنٹ، فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈیا مدعاعلیہان نمبر 7 اور 8 کے کسی بھی کاروبار سے کوئی تعلق ثابت ہوتا ہے ۔ نیز جے آئی ٹی کی تحقیقات سے حاصل کردہ تمام مواد کوئی سند نہیں رکھتا کیونکہ جے آئی ٹی نے عدالت کے حکم سے تجاوز کرتے ہوئے تحقیقات کی ہیں، اس لیے جے آئی ٹی کی تحقیقات کو شفاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔اورمدعاعلیہان میں سے کسی کے سامنے ایسی دستاویز، جو اُنہیں مجرم ثابت کردیں، پیش کرتے ہوئے کوئی سوال نہ پوچھا گیا ، نیز جے آئی ٹی نے بیرونی ممالک سے ایسے افراد کی فرمز کی خدمات حاصل کرتے ہوئے دستاویزات حاصل کیں جن سے اُن کے ذاتی روابط تھے ۔ فاضل وکیل نے اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کاوش کسی طور میوچل لیگل اسسٹنس کے زمرے میں نہیں آتی اور نہ ہی نیب ارڈیننس 1999 کے سیکشن 21(g) کے تحت ایسی دستاویزات کی کوئی حیثیت ہوتی ہے ۔فاضل وکیل کا مزیداصرار تھا کہ مستند دستاویزات کے بغیر جے آئی ٹی کی تحقیقات کو کوئی سند حاصل نہیں ۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسی تحقیقات محض ڈرامہ اور طے شدہ طریق کار کی خلاف ورزی ہیں، چنانچہ یہ مدعاعلیہ نمبر 1 کے خلاف کسی فیصلے کا جواز فراہم نہیں کرتیں۔ فاضل وکیل نے اپنے دلائل کی سند کے طور پر’’خالد عزیز بنام ریاست (2011, SCMR 136) اور محمد ارشد ودیگر بنام ریاست و دیگر PLD 2011 SC350) )کیس حوالہ پیش کیا۔

5۔ مدعا علیہان نمبر 8,7,6 اور 9 کی طر ف سے پیش ہونے والے فاضل وکیل کا اصرار تھا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس مدعاعلیہ نمبر 7 کی ملکیت اور استعمال میں ہیں، نیز یہ کہ رقم کی ترسیل اور ان اپارٹمنٹس کے حصول کی وضاحت قطری خطوط میں کردی گئی ہے ، نیز مدعاعلیہ نمبر 6 کسی مرحلے پر ان اپارٹمنٹس کی ٹرسٹی تھی لیکن وہ ان سے فائدہ اٹھانے والی مالکن نہیں تھی ۔ اس لیے ایم ایل اے (میوچل لیگل اسسٹنس) کے ذریعے موزیک فونسیکا اینڈ کو (برٹش ورجن آئی لینڈ) لمیٹڈ کے ڈائریکٹر فنانشل انوسٹی گیشن ایجنسی اور اینٹی منی لانڈرنگ آفیسر، مسٹر ایرول جارج کی خط وکتابت کی نقول پر اس وقت تک بھروسہ نہیں کیا جاسکتا جب تک اُنہیں قانونی طریق کار کے مطابق حاصل نہیں کیا جاتا ،نیز جے آئی ٹی کی رپورٹ اور تحقیقات کے دوران اس کا حاصل کردہ مواد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

6۔ مدعاعلیہ نمبر 10 کی طرف سے پیش ہونے والے فاضل وکیل نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ مدعاعلیہ نمبر 10کے اثاثوں کی متعدد بار جانچ پڑتال ہوئی ہے لیکن اُن میں کبھی بے ضابطگی نہیں پائی گئی ۔ اور یہ کہ مدعاعلیہ نمبر 10کے پاس جو بھی اثاثے ہوں، وہ ریفرنس نمبر 5 ، 2000 کے مطابق ہیںاور یہ بھی کہ ’’حدیبیہ پیپرملز لمیٹڈ بنام وفاق پاکستان‘‘ میں یہ معاملہ ختم ہوچکا ہے ، چنانچہ اس پر کوئی اور قانونی کارروائی شروع نہیں ہوسکتی جبکہ پائی پائی کا حساب دے دیا گیا ہے ۔ فاضل ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے 2007ء سے لے کر 2016 تک کے انکم ٹیکس گوشوارے ، 1981-82 سے لے کر 2009-2016 تک کی ویلتھ سٹیٹمنٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہر اثاثے کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں، نیز یہ کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات قانونی اور حقائق کی بنیاد پر درست نہیں ہیں ، چنانچہ ا ن کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ نیز یہ کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں ان کے اثاثوں میں 1992-93 سے لے کر 2008-09 تک جو 91 گنا اضافہ بتایا گیا ہے ، وہ اعدادوشمار کی غلطی ہے ، چنانچہ مدعاعلیہ کو کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ نیز ایف بی آر کی طرف سے متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کو مدعاعلیہ کا منفی ہتھکنڈا قرار نہیں دیا جاسکتاجب یہ مواد نیب حکام کے پا س بھی تھا۔ چنانچہ اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے مدعاعلیہ کو کسی سزا نہیں دی جاسکتی تاوقتیکہ اُن کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت مل جائے ۔ نیز مدعاعلیہ کو مزید کسی احتساب عدالت کے سامنے پیش کرنا ظلم ہوگا۔

7۔ ہم نے ریکارڈ، جے آئی ٹی کی پیش کردہ رپورٹ اور فاضل جج صاحبان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان کے پیش کردہ مواد کا احتیاط سے جائزہ لیا ہے۔

8۔ ہم نے اس کیس کے پس ِ منظر اور فریقوں کی طرف سے پیش ہونے والے فاضل وکلا کے دلائل جوجسٹس اعجاز افضل کے تحریر کردہ اکثریتی فیصلے کے پیرا گراف 1 سے کر 12 میں ہیں، کا بھی جائزہ لیا ہے ۔ نیز فاضل جج صاحبان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن کے تحریر کردہ نوٹس کو بھی دیکھا ہے ۔ جے آئی ٹی کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ، اس پر پیرا گراف نمبر 19 روشنی ڈالتا ہے ، جو مندرجہ ذیل ہے :

’’عین ممکن ہے کہ نیب اور ایف آئی اے کے افسران کی تیز نظریں اشرافیہ کی غلط کاریوں سے اغماض برتیں اور اُن کے ہاتھ اشرافیہ کو گرفتار کرنے سے گریز کریںکیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ یا تو اشرافیہ کے زیر ِاثر ہوں،یا پھر اپنی تعیناتی اور ٹرانسفر میں سہولت فراہم کرنے پر حکام کے احسان مند ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت ایسا فیصلہ کرے جو آئین کی شقوں کی خلاف ورزی تصور ہو۔ قانون سے ہلکا سا انحراف کرنے سے بھی افراتفری پھیل سکتی ہے ۔ اگر آج کوئی انحراف روا رکھا گیا تو کل احتساب عدالت بھی آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ایسا کرسکتی ہے ، اور کوئی تحقیقاتی افسر، جو کسی ملزم کی جان لینے پر کمر بستہ ہو، اُس سنگین جرم میں ملوث ثابت کردے ، اور یہ جواز پیش کیا جائے کہ اگر اس کا کیس کسی اور عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ ہوسکتا ہے کہ انصاف میں تاخیر کردے یا مجرم کو بچ نکلنے کا موقع مل جائے ۔ قانون کی عدالتیں حقائق کی بنیاد پر فیصلہ سناتی ہیںاور حقائق کا تعین ریکارڈ کرتا ہے ۔ انصاف کی دنیا میں قیاس یا تاثر کی کوئی اہمیت نہیں۔یہ راستہ، چاہے نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، معاشرے کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، کیونکہ اس سے نہ تو مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی کسی کو انصاف ملے گا۔ چنانچہ اس کا مطلب پیچھے کی طرف لمبی چھلانگ لگانا ہوگا۔ مسائل کا حل اداروں کو بائی پاس کرنے میں نہیں، انہیں فعال بنانے میں ہے جیسا کہ آئین کا آرٹیکل 190 کہتا ہے ۔ سیاسی ہیجان خیز، مہم جوئی یا مقبول ِعام جذبات ، چاہے وہ حقیقی ہوں یا التباسی، کسی کو بھی ، یا بہت سوں کو درست راستے سے بھٹکا سکتے ہیں، لیکن ہم قانون کے مطابق چلیں گے ۔ آئیے آئین اور قانون کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کریں ، تاوقتیکہ کوئی ترمیم اُنہیں تبدیل کردے۔

9۔ مواد کا احتیاط سے جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ آرڈیننس کے سیکشن 15,10,9 کے تحت مدعاعلیہان نمبر 8,7,6,1 کے خلاف ان اثاثوں کے حوالے سے ایک قابل ِ مواخذہ کیس تیار ہوسکتا ہے :

(i) فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈِ
(ii)ہارٹ سٹون پراپرٹیز لمیٹڈ
(iii)کیو ہولڈنگز لمیٹڈ
(iv)قیونٹ ایٹن پیلس 2 لمیٹڈ
(v) قیونٹ سیلون لمیٹڈ (سابق قیونٹ ایٹن پیلس 2 لمیٹڈ )
(vi)قیونٹ لمیٹڈ
(vii)فلیگ شپ سکیورٹیز لمیٹڈ
(viii)قیونٹ گلوسسٹر پیلس لمیٹڈ
(ix)قیونٹ پڈنگٹن لمیٹڈ(سابق رائیویٹس اسٹیٹ لمیٹڈ)
(x)فلیگ شپ ڈولپمنٹس لمیٹڈ
(xi)الانہ سروسز لمیٹڈ (برٹش ورجن آئی لینڈ)
(xii)لنکن ایس اے (بی وی آئی )
(xiii)چیڈرون کمپنی
(xiv)انس بیچر کمپنی
(xv)کومبر کمپنی، اور
(xvi)کیپیٹل ایف زیڈ ای (دوبئی)

چنانچہ مدعاعلیہ نمبر 10 کے خلاف بہت کم وقت میں اثاثوں میں 91 گنااضافے (9.11 ملین سے 831 ملین روپے)کی وجہ کیس بنتا ہے ۔ ان حالات میں کیا کیا جانا چاہیے ، یہ بات پہلے ہی اکثریتی فیصلے میں طے ہوچکی ہے ، جیسا کہ :

’’یہ سیکشنز واضح کرتے ہیں کہ ایک عوامی عہدیدار کے خلاف لگایا جانے والے کسی بھی الزام کی ان شقوں کے تحت تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ ثبوت حاصل کیا جاسکے کہ کیا وہ یا اُس کے زیر ِ کفالت افراد یا بے نامی دار اُس کی اعلانیہ آمدن سے بڑھ کر وسائل تو نہیں رکھتے۔ ان تحقیقات کے بعد کسی احتساب عدالت میں بھرپور مقدمہ چلتا ہے ۔ لیکن جہاں تحقیقاتی ایجنسی کسی کی تفتیش نہیں کرتی ، نہ ہی احتساب عدالت میں کسی گواہ پر جرح ہوتی ہے ، نہ ہی اُس شخص کا جرم ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویز پیش کی جاتی ہیں جو قانون ِشہادت آرڈر 1984 کے مطابق ہوں، نہ ہی زبانی یا دستاویزی شہادت کے کچھ حصے پیش کیے جاتے ہیں تو کوئی عدالت 184(3) کو استعمال کرتے ہوئے کسی عوامی عہدیدار کو اُس مواد کی بنیاد پرنااہل قرار نہیں دے سکتی جس کی حتمی جانچ ابھی ہونا باقی ہو۔ ہمیں آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت اس عدالت کی اتھارٹی اور آرڈیننس کے تحت کام کرنے والی احتساب عدالت کی اتھارٹی کے درمیان، اور آئین کے آرٹیکلز 62/63 کے تحت نااہلی اورعوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 99 اور مجرمانہ سرگرمی کا احاطہ کرنے والے سیکشنز 15,19,9 کے تحت سزا کے درمیان امتیازی لکیر کھنچنی ہے مبادا ہم کسی شفاف ٹرائل کے تقاضے پورے کیے بغیر ، محض مفروضے کی بنیاد پر ، کسی رکن ِ پارلیمنٹ کو نااہل قرار دے دیں۔ ہم آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکلز 62/63اور آرڈیننس کے سیکشن 15,9 اور ایکٹ کے سیکشن 99 کو ملا کر پڑھتے ہوئے آئین اور قانون کا مغلوبہ بنا کر فیصلہ نہیں کرسکتے ، لیکن ایک ٹرائل کورٹ بھرپور مقدمے کے بعد ایسا کرسکتی ہے ۔ نہ ہی ہم آرڈیننس کے سیکشنز 9 اور 15 کو اٹھا کر آئین کے آرٹیکل 63 میں ضم کرکے کسی رکن ِ پارلیمنٹ کو یہ کہتے ہوئے ناقال قرار نہیں دے سکتے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہا ۔ اس قسم کا فیصلہ عدالت کی نااہلی کہلائے گا۔ اگر کسی شخص کے خلاف نیب آرڈیننس کے سیکشن 9(a)(v) کے تحت کارروائی کرنی ہو اس کے لیے جواز، طریق ِ کار اور مشینری موجود ہونی چاہیے ۔ قانون، تفتیش کار ایجنسی اور احتساب عدالت کو اس مثال کی پیروی کرنے دو۔ مدعاعلیہ نمبر 1 کو اس تفتیشی عمل ، ٹرائل اور اپیل سے گزرنا چاہیے ۔ ہم آرٹیکل 25 کی خلاف وزری نہیں کریں گے جو کہ ہمارے آئین کی روح ہے ۔ ہم خود بھی اختیار کا ایسا استعمال نہیں چاہتے جو ایکٹ آف پارلیمنٹ نے ہمیں تفویض ہی نہیں کیا ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ کسی مقدمے میں حلف اٹھا کر بیان دینے کا مطلب کیا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد سوالات سے کسی بھی دروغ گوئی کے اندیشے کو دور کیا جاتا ہے ، سامنے آنے والے شواہد کو قانون ِشہادت کی روشنی میں پرکھا جاتاہے ، نیز زبانی بیانات اور دستاویزی شہادت کی بھی جانچ ہوتا ہے ، اوریوں قانون کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ہم کسی ایک انفرادی کیس کے لیے طے شدہ طریق ِ کار سے انحراف کرکے صدیوں سے اپنے خون پیسے سے وضع کردہ قانون سے انحراف نہیں کرسکتے۔‘‘

10۔ یہی تھیم میرے بھائی شیخ عظمت سعید کی جانب سے بھی اختیار کرتے ہوئے کہا گیا کہ :

22۔یہ مندرجہ بالا شقوں کے حوالے سے یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ استغاثہ کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ ایک شخص، اُس کی بیوی، اُس کے زیر ِ کفالت افراد یا بے نامی دار اثاثوں کے مالک ہیں۔ اگر اثاثے ثابت ہوجاتے ہیں تو مذکورہ شخص کو اُن کے ذرائع ثابت کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ اور ایسا کرنے میں ناکامی پر وہ سزا کا حقدار تصور ہوگا۔ یہ سزا صرف جرمانے یا قید پر ہی مشتمل نہیں ہو گی بلکہ پبلک آفس سے نااہلی، نیب آرڈیننس 1999 کی شق 15 کے تحت مجلس شوری سے 10 سال کے لئے نااہلی پر بھی منتج ہو گی۔ اس سلسلے میں نظائر کے لئے ان فیصلوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ 1. اقبال احمد ترانی اور دیگر بنام ریاست (پی ایل ڈی 2004 سیکشن 830) 2۔ غنی الرحمن بنام قومی احتساب بیورو و دیگر (پی ایل ڈی 2011 ایس سی 1144) 3۔ عبدالعزیز میمن اور دیگر بنام ریاست و دیگر (پی ایل ڈی 2013 ایس سی 594) 4۔ ریاست بذریعہ پراسیکیوٹر جنرل احتسان، قومی احتساب بیورو، اسلام آباد بنام مصباح الدین فرید (2003 ایس سی ایم آر 150) 5۔ سید ظاہر شاہ اور دیگر بنام قومی احتساب بیورو و دیگر (2010 ایس ایم سی آر 173) 6۔ محمد ہاشم بابر بنام ریاست و دیگر (2010 ایس ایم سی آر 1697) اور 7۔ خالد عزیز بنام ریاست (2011 ایس ایم سی آر 136)۔
23۔ اوپر درج کردہ کیسز میں کسی میں بھی فرد کو اس تک مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا جب تک عرفی طور پر یہ طے نہیں ہو گیا کہ اثاثے ملزم، اس کی بیوی، انحصار کرنے والے افراد یا بے نامی داروں کی ملکیت ہیں۔ اسی لئے ملزم کی جانب سے فنڈز کے ذرائع پیش نہ کر سکنے یا ان کے قابل اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے سزا سنائی گئی۔

11۔ میرے بھائی ، جسٹس اعجاز الا حسن نے ایسے ہی خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا:

’’جہاں کوئی الزام ہو کہ کوئی عوامی عہدیدار یا اُس کا کوئی زیر ِ کفالت یا بے نامی دار اثاثوں یا مالی وسائل کا مالک ہے جو اس کی اعلانیہ آمدنی سے بڑھ کر ہیں تو اس کی پاداش میں اُسے سز ا سنائی جاسکتی ہے ۔ تاہم ایسی سزا احتساب عدالت ہی سنا سکتی ہے۔ کسی مدعی نے اس عدالت سے احتساب عدالت کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی ، اور ہماری رائے میں نہ ہی ایسا ہوسکتا ہے ، تاوقتیکہ کی آئین اور قانون میں ترمیم کی جائے ۔ اس کے بغیر ایسا کرنا آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کی خلاف ورزی ہوگا ۔ مذکورہ آرٹیکلز کہتے ہیں کہ ہر شہری کو قانون کا مساوی تحفظ حاصل ہوگا۔ اس کے خلاف چلنا غیر آئینی اقدام تصور ہوگا اور ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے۔‘‘

12۔ یہ دلیل، کہ جے آئی ٹی نے حدیبیہ پیپر ملز کیس کھولتے ہوئے اپنی اتھارٹی سے تجاوز کیا ہے، جبکہ ہائی کورٹ نے ریفرنس 5 کو ختم کردیا تھا ، درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ جے آئی ٹی نے اس ضمن میں صرف سفارشات کی تھیں جن کے بارے میں یہ عدالت بہتر فیصلہ کرسکتی ہے ، اگر اور جب اس ضمن میں اپیل کی جائے گی ، جیساکہ نیب کے خصوصی استغاثہ نے کی ہے۔

13۔ اس عدالت کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا مدعاعلیہ نمبر 1 کیپٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کے طور پر تنخواہ لی ، اور کیا اگر تنخواہ نہیں بھی وصول کی گئی تو بھی وہ قابل وصول تھی ، چنانچہ وہ اثاثے کے زمرے میں آتی ہے ۔ اس لیے اُسے عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے سیکشن 12(2) کے تحت ظاہر کرنا ضروری تھا، اور کیا ایسا کرنے میں ناکامی پر وہ نااہل نہیں ہوجتے ؟لفظ اثاثے کی عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 میں وضاحت کی گئی ہے ، چنانچہ اس کے عام فہم معانی کو اس کسی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ Black’s Law Dictionary اثاثے کی اس طرح وضاحت کرتی ہے ۔۔۔’’(۱)ایک اثاثہ وہ چیز ہے جو ٹھوس وجود رکھتا ہوجیسا کہ نقد رقم، مشینری، زمین ، عمارت یا سامان، (۲)دوسروں سے واجب الادا رقم، (۳) حقوق جیسا کہ کاپی رائٹس، ٹریڈ مارک، (۴)ساکھ‘‘ ۔ اس طرح مذکورہ ڈکشنری میں قابل وصول وہ اثاثہ بیان کیا گیا ہے جو رقم واجب الادا ہو چاہے اُسے وصول کیا جائے یا نہ کیا جائے ۔ بزنس ڈکشنری میں قابل وصول کو ’’ایسی رقم کو کسی گاہک، ملازم ، سپلائریاکسی پارٹی کے ذمہ واجب الادا ہو۔ قابل وصول رقم اُس فرم کا اثاثٖہ تصور ہوتی ہے ۔ ‘‘مذکورہ بالا وضاحت اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہنے دیتی کہ تنخواہ چاہے وصول کی گئی یا نہیں، وہ قانونی اور عملی لحاط سے اثاثہ ہی تصور ہوگی۔ چنانچہ مدعاعلیہ نمبر 1 پر فرض تھا کہ وہ اس کا عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے سیکشن 12(2کے تحت اسے ظاہر کرتے ۔ جب ہم نے مدعاعلیہ نمبر 1 کے فاضل وکیل سے پوچھا کہ کیا مدعاعلیہ نمبر 1 نے کبھی دوبئی میں اقامہ حاصل کیا ہے تو اُنھوںنے اس کا اثبات میں جواب دیا ، لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ مدعاعلیہ 1 نے کبھی تنخواہ وصول نہیں کی تھی ۔ اس اعتراف کو وضاحت کے ساتھ اس طرح پیش کیا گیا ۔۔۔’’مدعاعلیہ نمبر 1 نے 2007ء میں صرف رسمی طور پر چیئرمین آف بورڈ کا عہدہ سنبھالا تھا۔اس وقت وہ جلاوطنی کی زندگی بسر کررہاتھا، اور اس کاکمپنی کو چلانے میں کوئی کردار نہیں تھا۔ مدعاعلیہ نمبر 1 نے دس ہزار یواے ای درہم کی تنخواہ کبھی نہیں وصول کی تھی ، چنانچہ امپلائی منٹ کنٹریکٹ میں ظاہر کردہ تنخواہ مدعاعلیہ نمبر 1 کا اثاثہ نہیں ۔ ‘‘اس بات کی تردید نہیں کی گئی ہے کہ مدعاعلیہ نمبر 1کیپٹل ایف زیڈ ای کا چیئرمین تھا اور وہ تنخواہ کا حقدار تھا، چاہے وہ تنخواہ نکلوائی گئی یا نہیں۔ اگر وہ تنخواہ نہیں بھی نکلوائی گئی تو بھی وہ اثاثہ ہی قرار پاتی ہے ۔ چنانچہ نہ وصول کی جانے والی تنخواہ کو بطور راثاثہ 2013 کے انتخابی کاغذات میں ظاہر کرنا ضروری تھا۔ لیکن جب مدعاعلیہ نمبر 1 نے ایسا نہیں کیا تو اُنھوں نے کاغذات ِ نامزدگی میں غلط بیانی سے کام لیا۔ چنانچہ وہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ کے سیکشن 99(1)(f) اور آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت ایماندار تصور نہیں ہوں گے۔

14 ۔اس موضوع کا تسلسل پیراگراف نمبر 7 سے لے کر 11 میں اس طرح کیا ہے :(i) اس فیصلے کی تاریخ سے چھے ہفتوں کے اندر نیب جے آئی ٹی کی رپورٹ میں موجود مواد ، اور ایف آئی اے اور نیب اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے مواد بشمول وہ موادجو میوچل لیگل اسسٹنس کے ذریعے حاصل کیا گیا، کی بنیاد پر راولپنڈی ، اسلام آباد کی احتساب عدالت کے سامنے ریفرنس فائل کرے گا۔ (a) مدعاعلیہ نمبر 1 میاں محمد نواز شریف ، مدعاعلیہ نمبر 6 مریم نواز شریف(مریم صفدر)، مدعاعلیہ نمبر 7 حسین نواز شریف، مدعاعلیہ نمبر 8 حسن نواز شریف اور مدعاعلیہ نمبر 9 کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایون فیلڈ جائیدادپارک لین لندن کے حوالے سے ریفرنس فائل کیا جائے گا۔ اس ریفرنس کی تیار ی میں نیب پہلے سے دستیاب مواد کو بھی سامنے رکھے گا۔ (b) مدعاعلیہ نمبر 8,7,1 کے خلاف عزیزیہ سٹیل مل کمپنی اور ہل میٹل اسٹبلشمنٹ کا ریفرنس بھی فائل کیا جائے گا۔ (c) مدعاعلیہ نمبر 8,7,1 کے خلاف پیراگراف نمبر 9 میں درج کمپنیوں پر بھی ریفرنس فائل کیا جائے گا۔ (d) مدعاعلیہ نمبر 10 کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے جمع کرنے (جن کا ذکر پیرگراف 9 میں کیا گیا ہے ) پر ریفرنس فائل کیا جائے گا۔ (e) نیب شیخ سعید ، موسیٰ غنی ، کاشف مسعودقاضی، جاوید کیانی اور سعید احمد کے خلاف بھی کارروائی کرے گا کیونکہ اُنھوںنے مدعاعلیہ نمبر 10,8,7,6,1 کی اثاثے بنانے میں براہ راست یا بلواسطہ طور پر مدد کی ۔ (f)نیب اضافی ریفرنس بھی فائل کرسکتا ہے اگر اور جب ان کے دیگر اثاثہ جات کا علم ہو۔ (g)احتساب عدالت ان ریفرنس کا فیصلہ چھے ماہ میں سنائے گی۔ (h)اگر احتساب عدالت کسی دستاویز یا معاہدے یا حلف نامے کو جعلی ، من گھڑت یا جھوٹا پائے تو وہ اس میں ملوث افراد کے خلاف مناسب ایکشن لے۔

15۔ پیراگراف نمبر 13 کے تسلسل کا موضوع اس طرح ہے :(i) یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کیپٹل ایف زیڈ ای جبل علی یواے ای سے قابل وصول تنخواہ ،جو کہ اثاثے میں شمار ہوتی ہے ، کو 2013 کے انتخابات کے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرتے ہوئے مدعاعلیہ نمبر 1 میاں محمد نواز شریف نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے سیکشن 99(1)(f) اور آرٹیکل 62(1)(f)کے تحت ایماندار نہیں رہے ، اس لیے وہ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کی نمائندگی سے نااہل قرار دیے جاتے ہیں۔ (ii) الیکشن کمیشن آف پاکستان مدعاعلیہ نمبر 1 میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کا نوٹی فیکشن فوری طور پر جاری کرے ، چنانچہ وہ پاکستان کے وزیر ِاعظم نہیں رہیں گے ، اور (iii) صدر پاکستان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ آئین کے مطابق جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام ضروری اقدمات اٹھائیں گے۔

16 ۔ فاضل چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعا ہے کہ وہ اس عدالت کے کسی فاضل جج کو اس فیصلے پر کارروائی کی نگرانی کرنے کے مقرر کریں۔

17۔ عدالت جے آئی ٹی اور تمام معاون سٹاف کی خدمات کو سراہتی ہے جنہوں نے اتنی مفصل رپورٹ تیار کی ۔ ان کی ملازمت کا تحفظ کیا جائے گااور اُنہیں ہر قسم کے دبائو سے بچایا جائے گا۔ فاضل چیف جسٹس آف پاکستان کے نامزد کردہ جج صاحب کو علم میں لائے بغیر ان کی پوسٹنگ یا ٹرانسفر نہیں کی جائے گی۔

18۔ ہم فاضل وکلا کی سعی کو بھی سراہتے ہیں جنہوں نے عدالت کی راہنمائی کی ۔

Read Panama Case Complete Judgement in English

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *