نواز شریف چلا گیا ۔۔۔ نظام بچ گیا! – حسان خان

نواز شریف چلا گیا ۔۔۔ نظام بچ گیا! – حسان خان

اپریل 2015 میں پاناما لیکس کا معاملہ اٹھا ۔

تحریکِ انصاف نومبر 2016 تک سڑکوں پر احتجاج کرتی رہی۔ اس دوران سپریم کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی مگر وہ نا قابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی گئی۔

یکم نومبر 2016 کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس معاملے پر دائر پٹیشنز کو قابلِ سماعت قرار دیا۔

عمران خان نے احتجاج کی کال موخر کر دی اور اپنا مقدمہ عدالت میں لڑنے کا اعلان کیا۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔

عمران خان، شیخ رشید احمد اور سراج الحق کے علاوہ بھی کئی پٹیشنر آ موجود ہوئے۔ سپریم کورٹ نے تمام تر پٹیشنز کو یکجا کر کے کیس کی سماعت کا آغاز کر دیا۔

سب سے پہلے جرح کاموقع عمران خان کو دیا گیا جس کی وجہ نہ بتائی گئی نہ پوچھی گئی۔

ایڈوکیٹ طارق اسد بھی پاناما لیکس معاملے پر ایک پٹیشنر تھے ۔ طارق اسد ہر سماعت پر محترم چیف جسٹس کی توجہ میڈیا پر ہونے والے غیر ضروری اور گمراہ کن تجزیوں اور تبصروں کی طرف کرواتے رہے اور التجا کرتے رہے کہ ان پر پابندی لگائی جائے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی سنی ان سنی کرتے رہے ۔

پاناما لیکس کا کیس سنتے سنتے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے دن آ گئے۔ وہ ریٹائر ہوتے ہوتے ایک آرڈر تحریر کر گئے کہ سماعت مکمل نہیں ہو پائی اس لیے سماعت نئے سرے سے ہوگی اور ایسا تصور کیا جائے گا کہ جیسے اب تک سماعت ہوئی ہی نہیں۔

ثاقب نثار صاحب نئے چیف جسٹس بنے۔ انہوں نے بینچ میں ایک نئے جج کا اضافہ کیا اور جنوری 2017 سے سماعت نئے سرے سے شروع ہو گئی۔

یہ جاننا بھی اشد ضروری ہے کہ عمران خان، شیخ رشید احمد اور سراج الحق کی پٹیشنز یہ تھیں کہ وزیرِ اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیا جائے کیونکہ:

1- لندن فلیٹس نیلسن اور نیسکول کمپنی کے ہیں جن کی بینی فیشل اونر مریم نواز ہیں۔

2- مریم نواز 2011 میں وزیرِ اعظم کے زیرِ کفالت تھیں مگر ا سکے باوجود نواز شریف نے اپنے اثاثوں میں لندن فلیٹس ڈکلئر نہیں کیئے۔

3- نواز شریف نے اسمبلی فلور پر کہا تھا کاروبار سے متعلق تمام ریکارڈ موجود ہے مگر عدالت میں کوئی ریکارڈ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے غلط بیانی کی ۔

دیگر پٹیشنز – جن میں ایڈوکیٹ طارق اسد صاحب کی پٹیشن بھی شامل تھی – میں نواز شریف کی بجائے وسیع پیرائے میں سماعت کی درخواست کی گئی تھی۔

دیگر پٹیشنز میں کہا گیا تھا کہ وہ سب افراد جو آف شور کمپنیوں کے مالکان ہیں تفتیشی عمل سے گذریں اور ایسا نظام وضع کیا جائے کہ آئیندہ ملک سے پیسہ باہر نہ لیجایا جا سکے۔

ایک سو چھبیس روز سماعت ہوئی اور ہم نے دیکھا کہ آخر میں وسیع پیرائے میں ایکشن کا مطالبہ کرنے والی پٹیشنز بینچ نے اعتراضات لگا کر خارج کر دیں اور ان افراد سے کہا کہ اگر وہ پیروی کرنا ہی چاہتے ہیں تو نئے سرے سے نئی پٹیشنز دائر کریں۔ اب صرف سیاسی پٹیشنرز رہ گئے۔

بیس اپریل 2017 کو بینچ نے فیصلہ دیا کہ الزامات گھمبیر ہیں۔ مزید تحقیات ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی جس کے ذمہ داری ہو گی کہ وہ لندن فلیٹس کی منی ٹریل تلاش کرے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یا جے آئی ٹی نے ساٹھ روز تحقیقات کیں ۔ منی ٹریل کیا نکلنی تھی وزیرِ اعظم نواز شریف ایک ایسی آف شور کمپنی کے تنخواہ دار نکل آئے جس کا پاناما لیکس میں نام تک بھی نہیں۔

دس جولائی 2017 جے آئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی اور 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے نئی نویلی آف شور کمپنی سے تنخواہ وصولنے اور پھر اسے چھپانے کے الزام میں نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔

لندن فلیٹس، فیکٹریوں کی منی ٹریل ڈھونڈنے کے لیے قومی احتساب بیورو کو کہا گیا کہ وہ ریفرنس دائر کریں اور اس معاملے سے نمٹیں۔

مستقبل میں منی لانڈرنگ روکنے کا نظام کیا ہوا؟ پانچ سو دیگر افراد جن کے نام پاناما لیکس میں آئے ان کا کیا ہو گا؟

پہلے “گو گو” کا جشن منا لیں۔۔۔ پھر دیکھیں گے۔۔۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *