پاناما کیس فیصلے کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

پاناما کیس فیصلے کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

اسلام آباد: پاکستان میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد اس وقت پاکستان وزیراعظم سے ہی نہیں بلکہ ان کی کابینہ سے بھی محروم ہو گیا ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے نمائندہ کے مطابق سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری ہوتے ہی ان کی قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب منعقد کیا جائے گا جب کہ قومی اسمبلی نئے قائد کا انتخاب کرے گی۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ناایلی کے فیصلے کے بعد نواز شریف اپنی اسمبلی رکنیت جانے کے سبب صرف وزارت عظمی ہی نہیں بلکہ پارٹی صدارت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

یاد رہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈیننس کے تحت اسمبلی رکنیت سے نااہل ہونے والا فرد سیاسی جماعت کی سربراہی کے لئے اہل نہیں رہ سکتا۔

عدالت کی جانب سے صدر مملکت سے کہا گیا ہے کہ نئے قائد ایوان کے انتخاب کے متعلق معاملے کو آگے بڑھایا جائے۔

اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ وزیراعظم کو تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا اقامہ ان کے خلاف تاحیات نااہلی کے فیصلے کی وجہ بنا۔

بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نااہلی کے عرصے اور وجوہات کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ فیصلے کو مکمل طور پر پڑھ لیا جائے۔ فیصلہ میری توقع کے مطابق ہے، نواز شریف اپیل کے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ پاناما عملدرآمد بینچ کے تینوں ججز نے وزیراعظم کی نااہلی کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ صادق و امین نہیں رہے۔ انہوں نے معلومات چھپائی ہیں۔ عدالت کے سامنے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عملدرآمد بینچ کے تینوں ججز نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا ہے جس کے لئے الگ الگ وجوہات بیان کی ہیں۔ یاد رہے کہ بینچ میں شامل دو ججز نے پہلے ہی نااہلی کا فیصلہ سنا دیا تھا۔

الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوری طور پر وزیر اعظم کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

نواز شریف کے سمدھی اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کا انتخاب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

فیصلے میں نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ6 ہفتوں میں ریفرنس دائر اور 6 ماہ میں اس کا فیصلہ سنایا جائے۔ نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز، اسحاق ڈار، کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ریفرنسز دائر کئے جائیں۔

شاہد عباسی

پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹیجسٹ شاہد عباسی، پاکستان ٹرائب کے بانی، ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے اولین ڈیجیٹل میڈیا صارفین میں سے ایک شاہد عباسی بلاگنگ اور خارزار صحافت کے علاوہ اپنے کریڈٹ پر دو ناولز بھی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *