دستاویزات میڈیا میں لیک ہونے پر سپریم کورٹ برہم

دستاویزات میڈیا میں لیک ہونے پر سپریم کورٹ برہم

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاناما عملدرآمد کیس کی چوتھی سماعت کے دوران دستاویزات میڈیا میں لیک ہونے پر عدالت عظمیٰ نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت شروع کی تو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے مقدمے سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کیں۔

جسٹس اعجاز افضل خان نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی دستاویزات عدالت میں پیش ہونے سے قبل ہی میڈیا پر زیر بحث آچکی ہیں۔آپ کو دستاویزات وقت پر جمع کرانے کا کہا تھا۔آپ نے اپنا کیس میڈیا میں لڑا ہے، باہر میڈیا کا ڈائس لگا ہے، جا کر دلائل بھی وہیں دے آئیں، جس پر سلما ن اکرم راجہ نے جواب دیا کہ ان کی طرف سے میڈیا کو دستاویزات نہیں دی گئیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایک دستاویز قطری شہزادے کے خط اور ایک برٹش ورجن آئی لینڈ سے متعلق ہے، قطری خط میں کیا ہے یہ علم نہیں ۔

 جسٹس اعجاز الاحسن نے دوبارہ نشاندہی کی کہ اب تک ہم آمدن کا ذریعہ اور منی ٹریل نہیں ڈھونڈ سکے، منی ٹریل کے بارے میں ہمارے سوال اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جے آئی ٹی نے خود سے نتیجہ نکال لیا کہ حماد بن جاسم کے انٹرویو کی ضرورت نہیں، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت کہہ چکی ہے کہ فیصلہ دستاویز پر ہونا ہے۔ آپ نے تحقیقات کا کہہ کر نئی بات کردی ہے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا میں یہ واضح کرنا چاہ رہا ہوں کہ انکوائری مکمل ہونی چاہئے۔

جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ آپ ہم سے کہہ رہے ہیں کہ معاملہ احتساب عدالت کو بھیج دیں، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں صرف انکوائری کا کہہ رہا ہوں۔

جسٹس عظمت سعید نے واضح کیا کہ لندن فلیٹس کے نیلسن اور نیسکول کی ملکیت ہونے پر کوئی جھگڑا نہیں ہے اور موزیک فونسیکا کے مطابق مریم نواز فلیٹس کی مالک ہیں۔

وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا  کہ ان کا کہنا ہے کہ مریم مالک ہیں جبکہ ہمارا کہنا ہے کہ حسین مالک ہیں، فرق تو نہیں ہے۔

جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے واضح کیا کہ بہت فرق ہے، اگر مریم مالک ہیں تو ہم فنڈز کو بھی دیکھیں گے۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ 1993 میں بچوں کی عمریں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ فلیٹس نہیں خرید سکتے تھے۔الزام وزیر اعظم پر ہے کہ انہوں نے 3 فلیٹس خریدے اور درخواست گزار فنڈز سے متعلق سوال کررہے ہیں۔

اس موقع پر جسٹس عظمت سعید کا کہناتھا لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے؟ تو کہہ دیتے ہیں کہ نیب کا سیکشن 9 اے 5 کرپشن کے حوالے سے ہی ہے۔

سماعت کے دوران سابق قطری وزیراعظم حماد بن جاسم اور برٹش ورجن آئی لینڈ کی دستاویزات بھی کھولی گئیں جس میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کو ارسال کیے جانے والے دو خطوط بھی شامل تھے۔

عدالت  نے واضح کیا کہ کھلی عدالت میں دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے دونوں فریقین ریکارڈ حاصل کرسکتے ہیں۔

اس موقع پر عدالت نے سلمان اکرم راجا کی جانب سے پیش کی گئی بیشتردستاویزات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای کی جانب سے پہلے ہی ان دستاویزات کو مسترد کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب جسٹس اعجاز الاحسن نے ٹرسٹ ڈیڈ کے مصدقہ ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ دستاویزات تیار کسی اور دن اور تصدیق کسی اور دن کروائی گئیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا ہے کہ منی ٹریل کا جواب اگر بچوں نے نہ دیا تو نتائج وزیر اعظم کو بھگتنے پڑیں گے اور ہم فیصلہ دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے ان سے استفسار کیا کہ عدالت میں غلط دستاویزات پیش کرنے کی سز بتائیں جس پر انہوں نے کہا کہ مقدمہ اور 7 برس قید ہوسکتی ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت میں غلط دستاویزات کیسے پیش ہوگئیں، ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے،یہ آپ لوگوں نے کیا کردیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے آئی ٹی کے رابطہ کرنے پر کمپنی نے کوئی جواب نہ دیا۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ دستاویزات ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے جمع کرائی ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیسے ہوا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ جعلی دستاویزات کے معاملہ نے میرا دل توڑ دیا، جعلسازی پر قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ تکنیکی بنیاد پر کیلبری فونٹ کا معاملہ درست نہیں، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ‘گورے تو چھینک مارتے ہیں تو رومال لگا لیتے ہیں، کوئی قانونی فونٹ کیسے چوری کرسکتا ہے.

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں ہمارے سامنے کیس جعلی دستاویزات کا ہے، فی الحال بادی النظر سے آگے نہیں جارہے۔

جسٹس عجاز الاحسن نے وزیراعظم کے وکیل سے کہا کہ آپ اپنے اہم قطری گواہ پیش کرنے میں ناکام رہے، آپ قطر میں کی گئی سرمایہ کاری کی رسیدیں ہی دکھادیتے، آپ نے کچھ پیش نہیں کیا، ہم کیسے تسلیم کرلیں۔

قطری کو پیش کرنا آپ کی ذمہ داری تھی، وہ آپ کا اسٹار گواہ تھا لیکن آپ نے انہیں پیش نہیں کیا، آپ قطری سرمایہ کاری کی رسیدیں ہی دکھا دیتے، آپ نے نہ ٹرانزیکشن دکھائی اور نہ رسیدیں، ہم کیسے مان لیں۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میرے دلائل کل ختم ہو جائیں گے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ شاہد حامد ان کے وکیل ہوں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر وکیل آیا تو سن لیں گے ورنہ فیصلہ دے دیں گے۔

سلمان اکرم راجا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی انتہائی سخت رہی جب کہ ریڈ زون میں عام شہریوں کے داخلے پر پابندی لگائی گئی۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *