پاکستان میں تعمیر کردہ لواری ٹنل منصوبے کے ناقابل فراموش پہلو

پاکستان میں تعمیر کردہ لواری ٹنل منصوبے کے ناقابل فراموش پہلو

اسلام آباد: لواری ٹنل منصوبے کا نام پاکستان کے بیشتر افراد کے لئے نیا نہیں البتہ اس کے ساتھ جو عجیب و غریب معاملہ روا رکھا گیا وہ سننے اور دیکھنے والوں کو کبھی حیرت اور کبھی افسوس کا شکار کرتا ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کو دستیاب معلومات کے مطابق 7 ارب روپے کی ابتدائی لاگت کے بجائے 27 ارب روپے کے خرچ سے بننے والے طویل عرصے سے فعالیت کے منتظر لواری ٹنل منصوبے کا افتتاح آج وزیراعظم پاکستان نواز شریف کر رہے ہیں۔

کئی دہائیوں سے تعطل کا شکار لواری ٹنل منصوبے کے لئے 2015 میں موجودہ حکومت نے نظرثانی شدہ پی سی ون کے مطابق اضافی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے اکتوبر 2017 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

لواری ٹنل منصوبے کی ابتدا

لواری ٹنل پر پہلی بار تعمیراتی کام 1975 میں شروع ہوا تھا۔ ریلوے ٹنل کے طور پر تعمیر کی جانے والی سرنگ پر 1977 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد کام روک دیا گیا تھا۔

ستمبر 2005 میں اس پر کام دوبارہ شروع کرتے ہوئے 3 برسوں میں مکمل کرنے کا کہا گیا لیکن تکمیل کی مدت اس وقت بڑھ گئی جب طے پایا کہ اسے ریلوے سرنگ کے بجائے روڈ ٹنل میں تبدیل کیا جائے گا۔

لواری ٹنل منصوبے کے خاص پہلو

نوشہرہ، مردان، مالاکنڈ، چکدرہ، چترال نیشنل ہائی وے (این 45) یا قومی شاہراہ پر واقع سرنگ کی لمبائی ساڑھے 8 کلومیٹر ہے۔ یہ منصوبہ ہر موسم میں چترال کو باقی ملک سے ملائے رکھنے کا ذریعہ بنے گا۔

حالیہ منصوبے میں ساڑھے 8 کلومیٹر اور 1.9 کلومیٹر کی دو سرنگیں، 35 کلومیٹر راستے میں واقع 12 پل اور ملحقہ سڑکوں شامل ہیں۔

لواری ٹاپ ٹنل کی تعمیر مقامی آبادی کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ اس کے مکمل ہو جانے سے ناصرف آسان سفری سہولیات مہیا ہو سکیں گی بلکہ نئی ملازمتوں کے مواقع، سیاحت میں اضافے اور سفر پر خرچ ہونے والا دورانیہ کم ہو گا۔

موجودہ حکومت نے لواری ٹنل منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لئے اضافی فنڈز جاری کئے تھے۔ تیرہ ارب روپے کے فنڈز میں سے مالی سال 2013.14 میں 2 ارب روپے، 2014.15 میں 3 ارب روپے، 2015.16 میں 4 ارب روپے، 2016.17 میں بھی 4 ارب روپے جاری کئے گئے تھے۔

چوبیس فٹ چوڑی اور 16 فٹ اونچی ٹنل میں سے ہر قسم کی گاڑیاں گزر سکیں گی۔ سرنگ کی خاص بات یہ ہے کہ علاقے کے سخت ترین برفانی موسم میں بھی یہ 24 گھنٹے کھلی رکھی جا سکے گی۔ یہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کے لئے حد رفتار 40 کلومیٹر مقرر کی گئی ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فعال ہونے کے بعد یہ سرنگ پشاور سے چترال کے موجودہ 14 گھنٹے کے سفر کو کم کر کے 7 گھنٹے کر دے گی۔

شاہد عباسی

پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹیجسٹ شاہد عباسی، پاکستان ٹرائب کے بانی، ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے اولین ڈیجیٹل میڈیا صارفین میں سے ایک شاہد عباسی بلاگنگ اور خارزار صحافت کے علاوہ اپنے کریڈٹ پر دو ناولز بھی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *