پاکستان میں بہتر معیار کا ہائی اسپیڈ ڈیزل متعارف کروایا جائے گا

پاکستان میں بہتر معیار کا ہائی اسپیڈ ڈیزل متعارف کروایا جائے گا

اسلام آباد: پاکستان میں حکومت نے بہتر معیار کا ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) مارکیٹ میں لانے کی کاغذی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد توقع ہے کہ پاکستانی سڑکوں پر موجود ڈیزل استعمال کرنے والی گاڑیوں کی استعداد میں اضافہ ہو سکے گا۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام بزنس ڈیسک کے مطابق دیگر ممالک میں بہتر معیار کا ہائی اسپیڈ ڈیزل یورو 3، 4 اور 5 مستعمل ہے جب کہ پاکستان میں اب بھی عام معیار کا ڈیزل استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب گزشتہ برس حکومت نے کامیابی کے ساتھ ریسرچ اوکٹین نمبر (آر او این) 92 پٹرول متعارف کروایا تھا جس نے پاکستان کے علاوہ صرف صومالیہ میں استعمال ہونے والے آر او این 87 کی جگہ حاصل کی تھی۔

وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل سے منسوب رپورٹس کے مطابق بہتر معیار کا ہائی اسپیڈ ڈیزل متعارف کروانے کی سمری اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) میں پیش کرنے کے لئے تیار کر لی گئی ہے۔

مذکورہ سمری کو اوگرا اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ شئیر کیا گیا تھا۔ ان اداروں کی تجاویز اور تاثرات کو سمری سی ای سی میں پیش کرنے سے قبل اس کا حصہ بنایا جائے گا۔

قیمتوں کا تعین حکومت نہیں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے کروانے کا منصوبہ
وزارت پٹرولیم بہتر معیار کا ہائی اسپیڈ ڈیزل آئل متعارف کروانے سے قبل آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لئے پٹرولیم مصنوعات پر منافع یا مارجنز کے تعین کا عمل بھی ختم کرنا چاہ رہی ہے۔ اس ڈی ریگولیشن کے بعد مذکورہ کمپنیاں اپنے طور پر ایندھن کی قیمتوں کا تعین کر سکیں گی۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اس منصوبے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے شرح منافع کا تعین کرنے کی موجودہ روش ختم کرنے کے بعد 6 بڑی مارکیٹنگ کمپنیاں ایندھن کے محدود آپشنز اور مقابلہ نہ ہونے کی وجہ سے کارٹل بنا لیں گی۔ مذکورہ کمپنیاں آئل مارکیٹ کے 87 فیصد کاروباری شئیر رکھتی ہیں۔

اوگرا کے مطابق ڈی ریگولیشن کے نتیجے میں یہ 6 بڑی کمپنیاں مارکیٹ پر ایسا تسلط حاصل کر لیں گی جو صارف کو کلی طور پر ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا۔

اس دلیل کو نہ ماننے والی وزارت پٹرولیم کا کہنا ہے کہ نئے اقدام کے بعد تمام مارکیٹنگ کمپنیوں کو یکساں فائدہ حاصل ہو گا۔ ڈی ریگولیٹد ماحول میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرکے مارکیٹ کا اچھا شئیر لینے کے لئے قیمتوں کو مناسب مقدار میں رکھنا چاہیں گی۔ جو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا صرف وہی فائدہ اٹھائے گا۔

یہ بھی دیکھیں: پٹرولیم، عالمی رجحان کے برخلاف پاکستان میں گزشتہ چار برسوں کے دوران 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

پاکستانی وزارت کا موقف ہے کہ مارکیٹ میں موجود دیگر قوتیں بھی ایندھن کی قیمتیں بڑھانے کے لئے کوئی بھی کارٹل بنانے کی کوششوں کی مزاحمت کریں گی۔

پاکستانی صارفین کے رجحانات پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وزارت پٹرولیم کی تجویز موجودہ ماحول میں قابل عمل اس لئے نہیں کہ پاکستانی صارفین ابھی اپنے حقوق کے متعلق آگاہ نہیں ہیں۔ نا ہی ملک میں صارفین حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں جزا و سزا کا عمل موثر طور پر نافذ ہے۔ ایسے میں کارٹل نہ بننے کی امید قبل از وقت ہے۔

پاکستان میں نئے ہائی اسپیڈ ڈیزل کو متعارف کروائے جانے کے بعد توقع ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات ملکی آبادی کے لئے بہتر ہوں گے جب کہ تکنیکی طور پر یہ ڈیزل ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں کی استعداد میں بھی اضافہ کرے گا۔

شاہد عباسی

پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹیجسٹ شاہد عباسی، پاکستان ٹرائب کے بانی، ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے اولین ڈیجیٹل میڈیا صارفین میں سے ایک شاہد عباسی بلاگنگ اور خارزار صحافت کے علاوہ اپنے کریڈٹ پر دو ناولز بھی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *