ترک کمپنی زورلو پاکستان میں شمسی توانائی کے نئے پلانٹس لگائے گی

ترک کمپنی زورلو پاکستان میں شمسی توانائی کے نئے پلانٹس لگائے گی

اسلام آباد: ترک کمپنی زورلو کو پاکستان میں شمسی توانائی کے 2 مزید پاور پلانٹس لگانے کے لئے لائسنس جاری کر دیا گیا ہے۔ توانائی کے ان نئے منصوبوں میں سے ہر ایک کے ذریعے 100 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا سکے گی۔

ترک کمپنی زورلو ہولڈنگز کے بورڈ رکن اولگن زورلو نے رواں سال فروری میں ترک وزیراعظم بن علی یلدرم اور نوازشریف کی موجودگی میں نئے منصوبوں کے لئے پنجاب حکومت کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کئے تھے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ زورلو کو پاکستان میں شمسی توانائی کسی منصوبے کے لئے قابل اعتماد گردانا گیا ہے۔ رواں برس جنوری میں حکومت نے ترک کمپنی سے کہا تھا کہ وہ 100 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکنے کے قابل قائداعظم سولر پراجیکٹ پر بھی کام کرے۔

تقریب کے دوران زورلو ہولڈنگ کے چئیرمین کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری بڑھنے پر خوشی محسوس کرتے ہیں، یہ ہمارے لئے ترکی سے باہر شمستی توانائی میں پہلی سرمایہ کاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی سرمایہ کاری گزشتہ تین برسوں میں پاکستان میں شمسی توانائی کے متعلق منظور کردہ منصوبوں میں سب سے بڑی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ناصرف خطے میں ترکی مستحکم ہو گا بلکہ کمپنی بھی اپنی افزائش کے طے شدہ اہداف حاصل کرنے کے لئے تجارتی دائرے کو بڑھا سکے گی۔

زورلو ہولڈنگز کے چئیرمین کا کہنا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ حالیہ معاہدے دونوں ممالک کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔

توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے نئے منصوبے رواں برس 2017 کے اختتام تک مکمل ہو جائیں گے۔ ان کے ذریعے پاکستان میں متبادل توانائی کے ذرائع میں مزید 300 میگاواٹ بجلی شامل کی جا سکے گی۔

زورلو ہولڈنگز کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچنے والے ان منصوبوں کی ایک انفرادیت یہ بھی کہ موجودہ ایندھن پر مبنی پاور پلانٹس کی مرمتی لاگت کی نسبت انسٹال کئے جانے کے بعد شمسی توانائی کے ان منصوبوں پر مینٹیننس کاسٹ انتہائی کم ہوا کرے گی۔

شاہد عباسی

پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹیجسٹ شاہد عباسی، پاکستان ٹرائب کے بانی، ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے اولین ڈیجیٹل میڈیا صارفین میں سے ایک شاہد عباسی بلاگنگ اور خارزار صحافت کے علاوہ اپنے کریڈٹ پر دو ناولز بھی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *