عالمی سائبر سیکیورٹی انڈیکس: پاکستان کا 67واں نمبر

عالمی سائبر سیکیورٹی انڈیکس: پاکستان کا 67واں نمبر

اسلام آباد: ڈیجیٹل یا سائبر دنیا میں حفاظتی اقدامات کے متعلق دنیا بھر میں کون کیا کر رہا ہے اور کیا کرنا چاہئے کہ سوال کا جواب دیتے عالمی سائبر سیکیورٹی انڈیکس 2017 میں پاکستان کو 67 واں نمبر دیا گیا ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام ٹیکنالوجی ڈیسک کو دستیاب اعدادوشمار کے مطابق گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس (جی چی ایس اے) میں روس کو گیارہواں، انڈیا کو 23واں جب کہ بنگلہ دیش کو 53واں نمبر دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کے متلعق عالمی رینکنگ میں پاکستان کو 165 ملکوں میں 67واں نمبر دیا گیا ہے۔ روس کو گیارہواں، بنگلہ دیش کو 53واں جب کہ انڈیا کو 23واں نمبر دیا گیا ہے۔

 عالمی سائبر سیکیورٹی انڈیکس 2017 میں چین کو 32واں سعودی عرب کو 46واں ایران کو 60واں ترکی کو 43واں اور اسرائیل کو 20واں نمبر دیا گیا ہے۔

سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 10 ممالک یہ ہیں:
سنگاپور
امریکا
ملائشیا
اومان
ایسٹونیا
ماریشئس
آسٹریلیا
جارجیا
فرانس
کینیڈا

پاکستان کو 0.447 اسکور کے ساتھ 67واں نمبر جب کہ انڈیا کو 0.683 کے ساتھ تئیسویں پوزیشن پر رکھا گیا ہے۔ سب سے بہتر پوزیشن حاصل کرنے والے سنگا پور کا اسکور 0.92 رہا۔

پاکستان کو ان  77 میچور ممالک میں رکھا گیا ہے جو ناصرف سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں بلکہ اس کام کے لئے سنجیدہ بھی ہیں۔

عالمی سائبر سیکیورٹی انڈیکس اقوام متحدہ کی ٹیلی کام ایجنسی، انٹرنیشنل ٹیلی کیمونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریبا نصف ممالک سائبر سیکیورٹی کا لائحہ عمل رکھتے یا اس کی تیاری کے مراحل میں ہیں۔

عالمی سائبر سیکیورٹی انڈیکس ایک سروے ہے جو رکن ممالک کی سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ان کاوشوں کا جائزہ لیتا ہے جن کا مقصد آگاہی پیدا کرنا ہے۔

GCA2017.png

جی سی ایس آئی انٹرنیشنل ٹیلی کیمونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کے گلوبل سائبر سیکیورٹی ایجنڈے کے پانچ بنیادی ستونوں قوانین، ادارے، استعداد کار اور باہمی تعاون کا جائزہ لیتا ہے۔

ان بنیادوں پر رکن ممالک کا جائزہ لینے کے لئے 25 اشاریے یا انڈیکیٹرز اور 157 سوالات مرتب کئے گئے۔ سروے میں تمام 193 رکن ممالک بشمول فلسطین کو شریک کیا گیا تاہم 59 نے اس کے جوابات نہیں دیے البتہ 134 نے بروقت معلومات جمع کروائیں۔ جواب دینے والے رکن ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ ساتھ ثبوت بھی مہیا کریں۔

عالمی سائبر سیکیورٹی انڈیکس 2017 کے حوالے سے جن رکن ممالک نے جوابات نہیں دیے ان سے متعلق حقائق کو آزاد ذرائع سے جمع کیا گیا اور پھر انہیں کہا گیا کہ وہ ان رپورٹس کی تصدیق کریں۔

بحیثیت مجموعی انڈیکس کے حالیہ نتائج بتاتے ہیں کہ سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے پانچوں معاملات اور ان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ جب کہ باہمی تعاون، استعداد کار میں اضافے اور ادارتی معاملات کو مزید بہتر کئے جانے کی ضرورت ظاہر ہوتی ہے۔

مختلف خطوں کے مابین سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے موجود فاصلے نا صرف برقرار ہیں بلکہ واضح نظر بھی آتے ہیں۔

گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس کا چھٹا ایڈیشن مکمل دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سائبر سیکیورٹی کے بنیادی پہلوؤں کے حوالے سے پیش رفت کے متعلق یورپ سب سے بہتر نظر آتا ہے جہاں قوانین سمیت تکنیکی پہلوؤں پر بھی خاصا کام کیا گیا ہے جب کہ افریقہ اور امریکی خطے میں صورتحال بدستور چیلنجنگ ہے جو مزید تعاون اور توجہ کا تقاضہ کرتی ہے۔

شاہد عباسی

پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹیجسٹ شاہد عباسی، پاکستان ٹرائب کے بانی، ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے اولین ڈیجیٹل میڈیا صارفین میں سے ایک شاہد عباسی بلاگنگ اور خارزار صحافت کے علاوہ اپنے کریڈٹ پر دو ناولز بھی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *