صحافت میں ورچوئل ریالٹی: صحافی اس ٹیکنالوجی سے کیسے اپنا اثر بڑھا سکتے ہیں

صحافت میں ورچوئل ریالٹی: صحافی اس ٹیکنالوجی سے کیسے اپنا اثر بڑھا سکتے ہیں

اسلام آباد: صحافت میں ورچوئل ریالٹی اب بہت سوں کے لئے اجنبی نہیں رہی۔ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران میڈیا یا صحافت کے شعبے سے متعلق بیشتر افراد نے اطلاع پہنچانے یا بات بیان کرنے کے نئے میڈیمزسامنے آتے دیکھے ہیں۔ انہی میں سے ایک ورچوئل ریالٹی virtual reality بھی ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام میڈیا ڈیسک کے مطابق پرنٹنگ پریس سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل میڈیا اور اب ورچوئل ریالٹی کی صورت ٹیکنالوجی کی جدت نے اس پورے عمل کو تبدیل کر دیا ہے جس میں ایک صحافی خبر یا معلومات جمع کر کے انہیں ترتیب دیتا اور پھر بیان کرتا ہے۔

صحافت میں ورچوئل ریالٹی کا اثر
ورچوئل ریالٹی صحافت میں استعمال ہو کر بنیادی بات پہنچانے کے علاوہ اس کے نتیجے کو کئی گنا بڑھانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی دیکھنے والوں کو صرف اطلاع یا خبر ہی نہیں دیتی بلکہ انہیں مواد یا اس کے نتیجے سے ایک جذباتی اور متاثر کن تعلق قائم کرنے میں بھی معاون ہوتی ہے۔

صحافت میں ورچوئل ریالٹی ٹیکنالوجی مواد کے نظر انداز ہو جانے والے پہلوؤں کو سامنے لانے کے علاوہ بیان کردہ خبر کے جذباتی پہلوؤں سے بھی بہتر تعلق قائم کرتی ہے۔

اس کے ذریعے دیکھنے والا خود کو محض ایک ناظر نہیں بلکہ اس اسٹوری کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ گویا یہ عمل اسٹوری ٹیلنگ  storytelling نہیں بلکہ اسٹوری لونگ storyliving بن جاتا ہے۔

صحافت میں ورچوئل ریالٹی دیکھنے والوں کو بیان کردہ اسٹوری کے متعلق اپنا تاثر تبدیل کرنے میں بہتر معاون ثابت ہوتی ہے۔ ناظرین کو پیش کردہ مواد کے متعلق زیادہ بہتر جذباتی تجربے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اسٹوری لونگ، ایک اتھنوگرافک مطالعہ جو وی آر کے اثرات اور صحافیوں کے لئے نئے امکانات واضح کرتا ہے

گوگل نیوز لیب کی جانب سے ورچوئل ریالٹی کو صحافت میں موثر طریقے سے استعمال کرنے کے متعلق گزشہ چھ ماہ کے دوران ایک تحقیقی مطالعہ کیا گیا۔  اس کے نتیجے میں ورچوئل ریالٹی ٹیکنالوجی کے مزید مفید پہلو سامنے آئے جن میں ٹیکنالوجی کے نتائج، ناظرین پر اس کے اثرات وغیرہ شامل تھے۔

اس مطالعے کے لئے گوگل کی زو ZOO نامی ٹیم نے کام کیا جو برانڈز اور ایجنسیز کے لئے ایک تھنک ٹینک ہے۔

گوگل نیوز لیب کی جانب سے جائزے یا مطالعے کے دوران مقدار کے بجائے معیار کو ترجیح بنایا گیا اور ایتھنوگرافی یعنی مختلف قوموں سے متعلق افراد کی رائے جانی گئی۔

اس دوران فیلڈ میں انٹرویوز اور مشاہدات کے ذریعے مختلف افراد کے ورچوئل ریالٹی سے متعلق تجربات اور ان کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعے کے دوران 36 لوگوں کے انٹرویوز کئے گئے اور ان سے پوچھا گیا کہ ورچوئل ریالٹی (وی آر) کے متعلق ان کا ذاتی تجربہ کیسا رہا؟

مطالعے کےد وران یہ نتائج سامنے آئے کہ وی آر کسی بھی مواد کو محض معلومات سے ایک قدم آگے بڑھا کر زندگی سے بھرپور کر دیتی ہے۔ بیان کردہ واقعے کے متعلق ان کے زاویے کو مزید وسیع کرتی اور اس سے گہرا جذباتی تعلق قائم کرتی ہے۔

صحافی کے لئے ورچوئل ریالٹی کے استعمال کا فائدہ
یہ ٹیکنالوجی صرف آپ کی اطلاع یا خبر کو ہی نہیں بلکہ اتنی ہی محنت میں اس کے حقیقی اثرات کو بھی دیکھنے والے تک پہنچاتی ہے۔

اس کے ذریعے آپ نتائج یا دیکھنے والوں کے نکتہ ہائے نظر کو متاثر یا تبدیل کر نے یا ان کا حصہ بننے کی زیادہ بہتر پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔

خبر یا مواد میں موجود سبجیکٹس اسٹوری ٹیلنگ کے تجربے کا حصہ بننے کے بعد زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔

صحافی ورچوئل ریالٹی کو اپنی رپورٹس کا حصہ کیسے بنائیں
وی آر جذباتی تجربے کو منتقل کرنے کے لئے زیادہ مفید ہے: وی آر چونکہ اسٹوری بیان کرنے کے بجائے اسے زندگی دینے والا میڈیم ہے اس لئے صحافی اپنی خبر یا رپورٹ کو عمومی میڈیمز کے بجائے اسے مدنظر رکھ کر ترتیب دیں۔

صحافی کو اپنی خبر یا مواد کی ابتدا، درمیانی حصے اور اختتام کو ایسے تربیت دینا چاہئے کہ وہ محض معلومات فراہم کرنے کے بجائے واقعے کے جذباتی اثر کو بیان کرے۔

اپنی اسٹوری میں ایسے جذباتی پہلوؤں کو تلاش کریں جو ناظر کو آپ کے طے کردہ جذباتی مرحلے پر لے آنے میں معاون ہوں۔

ناظر بیان کردہ واقعے کی جزئیات سے بھی واقف ہونا چاہتا ہے اس لئے اسے وی آر کے ذریعے جذباتی پہلوؤں کے ساتھ معلومات بھی ضرور فراہم کریں۔

گوگل کا ڈے ڈریم ہیڈ سیٹ | paksitantribe.com/urdu/
گوگل کا ‘ڈے ڈریم’ نامی ہیڈ سیٹ

ناظر کے لئے پس منظر یا نکتہ نظر کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع پیدا کریں: یوزرز کو درست نکتہ نظر منتقل کرنے یا پھر انہیں کسی اور کی نظر سے واقعہ دیکھنے پر آمادہ کرنا صحافت کا حساس ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ وی آر یہ منفرد پہلو رکھتا ہے کہ وہ نکتہ نظر کو نمایاں کرنے کے لئے اپنی اصل قوت آپ کے پلڑے میں ڈال سکے۔

اس طرح صحافی ناظرین کو یہ موقع دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے لئے خود ایسے نتائج اخذ کریں جو انہیں معاملے کو وسیع تناظر میں دیکھنے کا موقع دیں۔

اسٹوری بیان کرتے ہوئے دیکھنے والے کے جذبات کو مدنظر رکھیں: ورچوئل ریالٹی کا ناظر بیان کردہ واقعے کے جذباتی پہلوؤں سے بہت زیادہ اثر لیتا ہے اس لئے اپنی اسٹوری کو ترتیب دیتے ہوئے یہ پہلو ضرور مدنظر رہے۔

اس حساس معاملے سے بچنے کے لئے صحافی عمومی صحافتی اخلاقیات پر عمل کر سکتا ہے تاکہ واقعے خصوصا حساس موضوعات کے متلعق یوزر کو تمام پہلوؤں سے آگاہ کیا جا سکے۔

صحافت میں ورچوئل ریالٹی کو بہتر استعمال کرنے کے لئے اپنی اسٹوریز ترتیب دیتے وقت عام طریقے کی طرح ایسے ٹائٹلز استعمال کریں جو یوزر کو بتا سکیں کہ اسٹوری کب شروع ہوئی اور کہاں ختم ہوئی ہے۔

خاص طور پر وی آر کے ذریعے بیان کردہ اسٹوری کا اختتام زیادہ اہم ہے کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جس کے بعد دیکھنے والے نے اپنی سمجھ کے مطابق پورے واقعہ کا اثر لینا ہے۔

گوگل نیوز لیب کا کہنا ہے کہ ان کے جائزے میں دی گئی معلومات صحافیوں کو یہ موقع دیتی ہیں کہ وہ اپنی اسٹوریز میں وی آر کے بہتر استعمال کے لئے مزید راستے تلاش کرسکیں۔

صحافت میں ورچوئل ریالٹی ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے آپ یقینی طور پر اپنے ناظر کومعمول سے کہیں زیادہ پس منظر فراہم کر سکیں گے، مضبوط جذباتی تعلق پیدا کرسکیں گے اور موضوع سے متعلق معلومات بھی مہیا کر سکیں گے۔ تو کیا خیال ہے؟ آگے بڑھیں اور نئے تجربے کی ابتداء کریں۔

شاہد عباسی

پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹیجسٹ شاہد عباسی، پاکستان ٹرائب کے بانی، ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے اولین ڈیجیٹل میڈیا صارفین میں سے ایک شاہد عباسی بلاگنگ اور خارزار صحافت کے علاوہ اپنے کریڈٹ پر دو ناولز بھی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *