جواب الجواب!لڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر کی وجہ -سعدیہ گیلانی

جواب الجواب!لڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر کی وجہ -سعدیہ گیلانی

ہمارے معاشرے میں لڑکی کی پیدائش کے ساتھ ماں باپ کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہو جاتی ہے شومئی قسمت اگر والدین کو کسی وجہ سے اپنی بیٹی کی شادی کی فکر لاحق نہ بھی ہو تو برادری اور اہل محلہ انھیں اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے حوالے سے بخوبی اور بروقت یاددہانی کرواتے رہتے ہیں۔

ایسے میں ہم مانتے ہیں کہ ان سب کاوشوں کے باوجود لڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر دیکھنے کو مل رہی ہے ہمارے ایک مایہ ناز بلاگر جناب آفاق احمد نے اپنی ایک خوبصورت تحریر میں اس اہم نقطے کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے اور کچھ ایسے نقاط کی طرف توجہ دلائی ہے جو کہ واقعی اس وقت رائج العام ہیں۔

تاہم یہاں پر ایک قاری اور اسی معاشرے میں سانس لینے والی ایک صنف نازک کی حیثیت سے مجھے محترم بلاگر آفاق احمد سے قدرے اختلاف ہے۔

ہم نے بہت آسانی سے ان مسائل کی طرف توجہ دلائی جن کی وجہ سے لڑکیوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہیں مگر اس سارے پہلو میں ان تلخ حقیقتوں کو بھول گئے جو کہ اس تہذیب یافتہ معاشرے میں ہمارے ہر گھر کا حصہ بن چکی ہیں،آئیے کچھ ان پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔

اپنے اردگرد نظر دوڑائیں!شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں صرف لڑکے ہی لڑکے ہوں،وگرنہ تو ہر گھر میں چاہے ایک ہی کیوں نہ ہو مگر لڑکی ضرور ہوا کرتی ہے جس کے کان میں پہلے دن سے ہی یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ اس کا اصلی گھر اس کے خاوند کا گھر ہو گا،جو کرنا ہے بی بی وہاں جا کر کرنا یہاں وہی ہو گا جو تمھارے بابا یا بھائی چاہیں گے،شادی تو حضورﷺ نے بھی اپنی بیٹی کی تھی بھٹو کو بھی بینظیر کی کرنا پڑی تھی،تم کیا چیز ہو پھر۔

مگر ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے ایک لڑکی بہت سے خواب لے کر امیدیں باندھ کر آنکھیں بند کئے ایک شخص کے پیچھے اپنا گھر بار سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلی آتی ہے مگر اسے قدم قدم پر احساس دلایا جاتا ہے کہ یہ نئی زندگی،اُس کے سارے خواب،اُس کی ہر سوچ پر اب سسرال والوں کا پہرہ ہے۔

اگر سُسرال والوں کی مرضی ہو گی تو وہ کسی سے مل سکے گی،چاہے وہ اس کے سگے رشتے دار ہی کیوں نہ ہو،اگر سُسرال والوں کی مرضی ہو گی تو اس روز گھر میں وہ پکے گا جو وہ کھانا چاہتی ہے گویا”جو کرنا ہے اہنے گھر جا کر کرنا”یہ خواب اور امید پہلے ہی قدم پر توڑ دی جاتی ہے۔

یہ ہر گھر کی کہانی ہے جو کہ ہر گھر میں ہی دہرائی جاتی ہے اور ان کے کانوں میں بھی پڑتی ہے جن کا نمبر اب آنے والا ہوتا ہے بلواسطہ یا بلاواسطہ ان تمام باتوں اور حرکات کا اثر”اگلے کینڈیڈیٹ”پر ہوتا ہے جو کہ اپنی زندگی میں ان تمام باتوں اور حرکات کو مائنس کرنا شروع کر دیتی ہے تاکہ جو کچھ اس کی بڑی بہن،خالہ،پھپھو،کوئی کزن یا خود اس کی ماں نے برداشت کیں ہیں وہ اسے نہ کرنی پڑیں مگر وہ اس حقیقت سے لاعلم ہوتی ہے کہ اس کے سامنے زندگی کا ایک نیا رخ آئے گا جو کہ اسے چکرا کر رکھ دے گا۔

جناب آفاق احمد آج کی لڑکی زیادہ پریکٹیکل اور زیادہ مثبت سوچ کی حامل ہے وہ اگر تعلیم حاصل کرتی ہے تو اپنے گھر اور بچوں میں اپنی تعلیم منتقل کرتی ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے آج کے لڑکے پریکٹیکل نہیں رہے انھیں اپنے حقوق کا تو بخوبی علم ہے مگر فرائض کی ادائیگی کا کوئی خیال نہیں رہا۔

اگر بات صرف بیٹیوں کی شادی کرنے تک ہی محدود ہوتی تو ہم لڑکیاں مان بھی لیتیں کہ جو کچھ آپ نے کہا ہے سب سچ ہے مگر بیٹیوں کی شادی کے بعد والدین کے لئے جو نیا باب شروع ہوتا ہے وہ ایک ختم نہ ہونے والا سبق ہوتا ہے جس میں ہر گزرتا دن صرف اضافہ کرتا ہے کیونکہ وہ وہی سبق ہے جو یاد کر لینے پر بھی کسی کو چھٹی نہیں ملتی۔

بلاگر: سعدیہ گیلانی

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *