سوشل میڈیا پر جنسی حملے، صارف خواتین کی آدھی تعداد شکار بنتی ہے

سوشل میڈیا پر جنسی حملے، صارف خواتین کی آدھی تعداد شکار بنتی ہے

لندن: انٹرنیٹ استعمال کرنا، یا خاص طور پر سوشل میڈیا سائٹس پر رہتے ہوئے کسی بھی وقت کچھ بھی ہو جانا اب ممکن لگتا ہے تاہم حالیہ رپورٹ میں ماہرین نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والی خواتین کے متعلق افسوسناک پہلو کی نشاندہی کی ہے۔

برٹش فزیالوجیکل سوسائٹی ( بی پی ایس) کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والی خواتین کی آدھی تعداد جنسیت یا جنسی حملوں کی سائبر شکل کا شکار بنتی ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام ٹیکنالوجی ڈیسک کو دستیاب اعدادوشمار کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کی خواتین صارفین کی تقریبا نصف تعداد جنسی افعال کا ہدف بنتی ہے۔

دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں خواتیب کی تعداد نسبتا کم سمجھتی جاتی تھی تاہم بڑھتی تعلیم کے ساتھ تیزی سے دستیاب ہو جانے والے انٹرنیٹ نے خواتین کی مجموعی آبادی کے خاصے بڑے حصے کر انٹرنیٹ سے کنیکٹ کر رکھا ہے۔

سوشل میڈیا پر جنسی حملے کیسے؟

سوشل میڈیا پر جنسی حملے کی وضاحت کرتے ہوئے تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کو فحش تصاویر بھیجی جاتی ہیں یا پھر ان سے جنسی نوعیت کی نہایت غیر مناسب گفتگو کی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر جنسیت کا شکار ہونے والی خواتین کی عمروں کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں 13 سال سے لیکر 72 سال تک کی خواتین شامل ہیں۔

ٰیہ بھی دیکھیں: برطانوی شہر مانچسٹر میں مسجد کو آگ لگا دی گئی

یہ ہوشربا اعدادوشمار اس وقت سامنے آئے جب برٹش فزیالوجیکل سوسائٹی کی جانب سے ایک آن لائن سروے منعقد کیا گیا۔

ماہرین کی جانب جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والی کچھ خواتین کو فحش تصاویر یا ویڈیوز بھیجی جاتی ہیں۔ بعض خواتین سے جنسی نوعیت کی گفتگو کی جاتی ہے جب کہ کچھ خواتین کو اپنے جسم کے پوشیدہ حصے دکھانے پر اکسایا جاتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *