پاکستانی ٹیلی کام سیکٹر نے قومی خزانے میں 583 ارب شامل کئے

پاکستانی ٹیلی کام سیکٹر نے قومی خزانے میں 583 ارب شامل کئے

اسلام آباد: گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے درمیان پاکستان میں ٹیلی کیمونیکیشن صنعت نے قومی خزانے میں 582.95 ارب روپے قومی خزانے میں شامل کئے جب کہ آئی ٹی سیکٹر کی مجموعی سالانہ آمدن 3.3 ارب ڈالر ہو چکی ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام ٹیکنالوجی ڈیسک کے مطابق ملکی آمدن کے ایک اہم ذریعے کی شکل اختیار کر جانے والے ٹیلی کام سیکٹر نے یہ رقم سرمایہ کاری، نئی ٹیکنالوجی اور معمول کے آپریشنز کے ذریعے قومی خزانے کا حصہ بنائی۔

مالی سال 201.14 میں ٹیلی کیمونیکیشن صنعت نے 243.28 ارب روپے کی خطیر رقم قومی خزانے تک پہنچائی تھی جب کہ اس کے بعد والے سال یعنی 2014.15 میں یہ 126.26 ارب روپے رہی تھی۔

پاکستانی ٹیلی کام سیکٹر کی جانب سے گزشتہ دو مالی سالوں یعنی 2015.16 میں 159.65 ارب اور 2016.17 کی ابتدائی دو سہ ماہیوں میں 53.76 ارب روپے قومی خزانے تک پہنچائے گئے۔

پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آمدن کا تعلق ابتدائی اور سالانہ لائسنس فیس، سالانہ ریڈیو فریکوئنسی اسپیکٹرم، اسپیکٹرم کی انتظامی فیس، یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) اور تحقیق و ترقی فنڈ میں معاونت کے علاوہ یو ایس ایف کے لئے اے پی چی، بمبرنگ چارجز، لائسنس ایپلیکیشن وغیرہ شامل ہیں۔ کسٹم ڈیوٹی، وتھ ہولڈنگ ٹیکس (ؤبلیو ایچ ٹی) اور دیگر چارجز بھی اس آمدن کا حصہ ہیں۔

ذریعے کے مطابق تھری جی اور فور جی خدمات کی دستیابی نے موبائل آپریٹرز کے لئے آمدن کے نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔

تھری جی اور فور جی کے دستیاب ہونے کے بعد نئی ایپلیکیشنز بنانے اور نئے ڈیٹا بیس خدمات کے فروغ سے پاکستانی صارفین نے تیزی سے ان ٹیکنالوجیز اور سروسز کو اپنایا ہے۔

دریں اثناء گزشتہ برسوں کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں سالانہ بنیادوں پر 23 فیصد کے حساب سے زرمبادلہ کی آمد بھی جاری ہے۔ جب کہ گزشتہ چار برسوں میں آئی ٹی شعبے کے ذریعے بیرونی دنیا سے ہونے والی آمدن میں 97 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کی جانب سے آئی ٹی کی برآمدات سالانہ 2.8 ارب ڈالر کی حد عبور کر چکی ہیں۔ سالانہ مقامی آمدن 500 ملین ڈالر کے قریب ہے۔ جب کہ آئی ٹی انڈسٹری کی موجودہ کل آمدن تقریبا 3.3 ارب ڈالر ہو چکی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *