پاکستان کے بلند ترین علاقے عبور کرنے والا 15 سالہ شہروز کاشف

پاکستان کے بلند ترین علاقے عبور کرنے والا 15 سالہ شہروز کاشف

ایڈونچرز کی جنت کہلانے والے پاکستان کو قدرت نے بے شمار خوبصورت اور مسحور کردینے والے مقامات سے نواز رکھا ہے۔ ان مقامات میں بلند و بالا چوٹیاں، جھیلیں، ٹریکنگ اور کیمپنگ کے لئے متعدد علاقے شامل ہیں۔

توانائیوں اور زندگی سے بھرپور اس شعبے میں ملکی و بین الاقوامی نام سامنے آتے تو ہیں تاہم نوجوان کہیں نظر نہیں آتے تھے۔ مگر کچھ عرصہ قبل تک درست لگنے والی یہ بات اب صحیح نہیں رہی۔

کوہ پیمائی اور پھر نوجوانوں کی کوہ پیمائی کے اس سلسلے کا ایک نام لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز کاشف بھی ہیں۔ اپنی زندگی کے 15ویں برس میں موجود شہروز پاکستان کے کم عمر ترین کوہ پیما بنے ہیں۔

12 سال کی عمر میں اپنی پہلی مہم جوئی کا آغاز کرنے والے شہروز نے گزشتہ تین برسوں میں 4 ہزار میٹر تک کی بلندی عبور کی تھیں تاہم اب وہ اس سے آگے بڑھ چکے ہیں۔

نوجوان کوہ پیما نے گونڈوگورا پاس نامی کم معروف مگر 5700 میٹر بلند چوٹی بھی عبور کی جو مشہور زمانہ کے ٹو سے محض 25 کلومیٹر دور واقع ہے۔ میجلک سر کو عبور کرکے انہوں نے اپنے لئے 6050 میٹر بلند چوٹی عبور کرنے کا اعزاز بھی سمیٹا۔

منفرد سفر کی ابتداء کیسے؟

شہروز کا کہنا ہے کہ کچھ نیا شروع کرنے کے لئے کسی کام کی لگن کے ساتھ آپ کو کسی سے متاثر ہونا پڑتا ہے۔ ان کے لئے متاثر کرنے کا کام ان کے والد نے انجام دیا جنہوں نے شوگران میں سری پائے کا سفر کیا تو شہروز نے دیکھا کہ کچھ ٹریکرز مکڑا پیک کی جانب سفر شروع کر رہے ہیں۔

وہ سوچتے کہ ان کے والد اور دیگر ٹریکرز انتہائی بلندی پر کیوں جاتے ہیں اور وہاں پہنچ کر کیا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ابتدائی عرصے میں موسمی حالات کی وجہ سے انہیں اپنے والد کے ہمراہ ٹریکنگ کے لئے جانے کی اجازت نہ مل سکی۔

لیکن ذیادہ دیر تک ایسا نہیں ہو سکا اور جلد ہی شہروز اور ان کے والد کاشف شوگران واپس آئے، ایک پورٹر کو ساتھ لیا، یوں 12 سالہ بچے نے اپنی پہلی چوٹی عبور کرنے کا سفر شروع کیا۔

مشہور زمانہ اور 4080 میٹر بلند موسی کا مصلی ان کی اگلی منزل تھی۔ 2014 میں بارہ برس کی عمر میں پہلے گرمیوں اور پھر موسم سرما میں اس مقام تک پہنچتے وقت شہروز کی عمر محض 12 برس تھی۔

اپنے سفر کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘موسی کے مصلے’ نامی جگہ سے پہلے انہوں نے صرف مری کے بارے میں سن رکھا تھا البتہ برف کبھی دیکھی نہیں تھی۔ تاہم متعدد چوٹیاں سر کر لینے کے بعد اب وہ مری جانے کا سوچتے بھی نہیں ہیں۔

کوہ پیمائی کا سفر چلا تو پھر رکا نہیں، شہروز نے اسی برس چھمبرا پیک اور آئندہ برس یعنی 2015 میں گنگا چوٹی عبور کی۔

لڑکپن کی عمر میں موجود پاکستانی نوجوان کے مطابق اس مرحلے پر انہوں نے سوچا کہ 5 ہزار میٹر بلندی تک کی چوٹیاں سر کرنے کا کام کافی ہو چکا۔ اس خیال کے بعد 6050 میٹر بلند منجلک سر ان کے لئے اگلا پڑاؤ ثابت ہوا۔

شہروز کا کہنا تھا کہ مناسب ٹریک نہ ہونے کے علاوہ پانی کی عدم دستیابی کے سبب منجلک سر کا سفر اب تک کا مشکل ترین مرحلہ تھا۔

نگاہیں اب کہاں ہیں؟

شہروز کا کہنا ہے کہ وہ مزید ایڈونچرز کے تحت نئی بلندیاں طے کرنے کے منصوبے رکھتے ہیں۔ ان دنوں وہ خردوپن پاس کی مہم پر ہیں۔ یہ چوٹی دنیا بھر خطرناک ترین بلندیوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اور گزشتہ 10 برسوں میں کسی نے سر نہیں کی ہے۔

شہروز اپنے عمل سے اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ عزم کر لیا جائے اور کھرا رہتے ہوئے کھڑا رہا جائے تو منزلیں پاؤں کو خود پکارنے لگتی ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *