دوردراز علاقوں تک انٹرنیٹ پہنچانے کے لیے 14 ارب کا بجٹ منظور

دوردراز علاقوں تک انٹرنیٹ پہنچانے کے لیے 14 ارب کا بجٹ منظور

اسلام آباد: “دی یونیورسل فنڈ کمپنی” کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پاکستان کے دوردراز علاقوں تک ٹٰیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ کی سہولت پہنچانے کے لیے سال 2017-18 کے لیے 14 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کو دستیاب اطلاعات کے مطابق وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کیمونیکیشن اور دی یونیورسل فنڈ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی صدر انوشہ رحمان نے آج اس سلسلے میں ہوئے 53ویں اجلاس کی صدارت کی۔

اسی اجلاس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سال 2017-18 کے لیے تقریبا 14 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی۔ یہ بجٹ زیادہ تر انٹرنیٹ کے مواصلاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

خبر کے مطابق یہ بجٹ فاٹا، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ان علاقوں تک ٹیلی کام اور انٹرنیٹ کے سہولت پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے گا جہاں ابھی تک یہ سہولیات موجود نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ بجٹ کی رقم کچھ سپیشل پراجیکٹ پر بھی خرچ کی جائے گی۔ جن میں سے ایک پراجیکٹ “آئی سی ٹی فار گرلز” (ICT for Girls) اور دوسرا پراجیکٹ “آئی سی ٹی فار ایم ایس ایم ای” (ICT for MSMEs) ہے۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان علاقوں کی لسٹ مرتب کی جائے گی جن میں ابھی تک ٹیلی کام اور انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے اور بورڈ ان تک سہولت کی ترسیل کو ممکن بناتے ہوئے موجود مسائل کو دیکھے گا۔

اس اجلاس میں آئی ٹی کے سیکرٹری رضوان بشیر خان، ٹیلی کام کے ممبر مدثر حسین، پی ٹی اے کے چیئرمین ڈاکٹر اسماعیل شاہ اور پی ٹی سی ایل کے صدر ڈینئل رٹز کے علاوہ متعلقہ افراد نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں محتاط اندازوں کے مطابق کل آبادی کا 15 تا 19 فیصد حصہ انٹرنیٹ استعمال کر رہا ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں سمیت نیم شہری علاقوں میں انٹرنیٹ کی سروس کا معیار اور قیمتیں انٹرنیٹ رابطے کے پھیلاؤ میں اہم رکاوٹیں مانی جاتی ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *