خلا،تصور سے بالاتر عجائبات کا نمونہ

خلا،تصور سے بالاتر عجائبات کا نمونہ

واشنگٹن: زمین سے باہر بے کراں خلا اور وسعت بے شمار عجائبات کا نمونہ جن کا تصور ہم یہاں زمین پر بیٹھ کر نہیں کرسکتے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام ٹیکنالوجی ڈیسک کے مطابق ناسا ماہرین نے خلا میں موجود عجائبات کے حوالے سے کچھ باتیں منظر عام پر لائی ہیں جو آپ کو یقینا حیران کر دیں گی۔

 خلا اور نظام شمسی سے متعلق ایسے ہی کچھ حیرت انگیز مگر نہایت دلچسپ حقائق پیش خدمت ہیں۔

ہماری زمین 1 ہزار 29 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہی ہے لیکن ہمارا پورا نظام شمسی بشمول 9 سیارے اور سورج وغیرہ 4 لاکھ 9 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت یا گردش کرتا ہے۔

سورج کی طرف سے دوسرا سیارہ زہرہ(وینس)تمام سیاروں کے برعکس مخالف رخ پر گردش کرتا ہے،سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سورج کی کشش ثقل نے اس کے محور کو 180 ڈگری پر پلٹا دیا ہے۔

نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ مشتری(جوپیٹر)اتنا بڑا ہے کہ یہ سورج کے گرد گردش نہیں کرتا یہ سورج کے محور میں موجود ایک نقطے کو مرکز بنا کر اس کے گرد گردش کرتا ہے۔

خود سورج بھی اسی نقطے کے گرد گردش کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ تھوڑا ڈگمگاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

حلقے دار سیارہ زحل(سیچورن)پر ہیروں کی بارش ہوتی ہے۔

دراصل اس سیارے کی فضا میں موجود حرارت اور دباؤ ایسا ہے کہ یہ فضا میں کاربن کے ذرات کو ہیروں میں تبدیل کرسکتا ہے اور یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ ہیرے کاربن کی ہی تبدیل شدہ شکل ہیں۔

ہماری کہکشاں میں موجود لاکھوں کروڑوں سیارے اور ستارے مزید ٹوٹ سکتے ہیں،ٹوٹنے کے اس عمل سے ہمارا سورج موجودہ مقام سے کسی اور مقام پر منتقل ہوسکتا ہے مگر اس سے زمین پر کوئی تباہی نہیں آئے گی۔

کائنات میں سب سے تیز رفتار شے ایک ٹوٹا ہوا ستارہ ہے جو ایک سیکنڈ میں 716 دفعہ حرکت کرتا ہے۔

خلا میں موجود کچھ بادلوں میں گیلنوں کے حساب سے الکوحل موجود ہے،سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس الکوحل کا ذائقہ رس بھری جیسا ہوسکتا ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *