نااہلی کیس،عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

نااہلی کیس،عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے تحریک انصاف کے وکیل کے غیرحاضر رہنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے نمائندہ کے مطابق منگل کو تحریک انصاف سربراہ عمران خان کی نااہلی کے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ انورمنصور چھٹی پر جانے سے پہلے جواب جمع کروا کے نہیں گئے۔ ججز اپنی چھٹیاں کم کر کے کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

جیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ عمران خان عدالت آکر بتائیں کہ وہ کسی اور کو وکیل کر رہے ہیں یا نہیں۔

قبل ازیں وکیل فیصل چودھری نے عدالت کو بتایا تھا کہ انور منصور کی طبیعت خراب ہے وہ چیک اپ کے لئے امریکا گئے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے، عمران خان کو کہا تھا کہ وہ جواب جمع کروانا چاہیں تو عدالت کو بتائیں۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر استفسار کیا کہ جس رقم سے فلیٹ خریدا گیا وہ پیسے کہاں سے آئے؟ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ اس کا جواب دے چکے ہیں کہ وہ کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ بتائیں کتنی بچت تھی اور دستاویزات کہاں ہیں؟

نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان اس وقت عوامی شخصیت نہیں تھے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب عمران خان عوامی شخصیت ہیں اور کہہ رہے ہیں چوری پکڑنا ہو گی،عمران خان کے لئے بھی یہی اصول ہونا چاہئے۔

عدالت عظمی کے سربراہ کا اپنے ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ ایک ایسا اکائونٹ ہے، پتا نہیں لگ رہا کہ اس میں پیسے کہاں سے آئے ہیں۔

عمران خان کے خلاف کیس دائر کرنے والے حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ کو سماعت جلد مکمل کرنے کی عادت ہے کیس لمبا ہو گیا ہے۔

قبل ازیں پیر کو عدالت میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ عمران خان اثاثوں کے متعلق کئی اہم سوالوں کے جوابات نہیں دے سکے ہیں۔

خط میں کہا گیا تھا کہ 2 لاکھ 75 ہزار ڈالر کے پاکستانی روپوں میں منتقلی مستند نہیں ہے اور عمران خان نے بینک کے خط سے لاتعلقی کا اظہار بھی کر دیا تھا۔ انہوں نے ڈالر سے روپوں میں تبادلے کا کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیا۔ ڈالرز کی پاکستانی کرنسی میں منتقلی اور ادائیگیوں کا کوئی باہمی تعلق نہیں ہے۔

تحریری جواب میں یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ عمران خان اس دعوے کو بھی ثابت نہیں کر سکے کہ لندن فلیٹ نیازی سروسز لمیٹڈ کا اکلوتا اثاثہ نہیں تھا۔ جب کہ 2002 میں الگ ہو جانے والی سابقہ اہلیہ کے نام زمین کیوں خریدی گئی۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *