جے آئی ٹی رپورٹنگ،جنگ گروپ کو توہین کا نوٹس جاری

جے آئی ٹی رپورٹنگ،جنگ گروپ کو توہین کا نوٹس جاری

اسلام آباد: پاکستان میں طویل عرصے سے کرپشن کے متعلق جاری مقدمہ میں قائم کردہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے اپنی 10 جلدوں پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے ایڈیٹر شاہد عباسی کے مطابق سپریم کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ کی 9 جلدوں کو فریقین کو فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ جے آئی ٹی سربراہ کی استدعا پر 10ویں جلد کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ اس جلد میں تفتیش کے متعلق بین الاقوامی روابط سمیت دیگر حساس معلومات موجود ہیں۔

دریں اثناء پاناما کیس کی تحقیقات کے لئے قائم جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کئے جانے کے موقع پر عدالت نے نجی میڈیا گروپ جنگ کو توہین کا نوٹس جاری کیا ہے۔

عدالت کی جانب سے جنگ گروپ کے اخبار دی نیوز میں شائع ہونے والی خبر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے متعلق تفصیل معلوم کی گئی۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ کے مطابق پانام کیس عملدرآمد بینچ کی جانب سے جنگ گروپ کے عدالت میں موجود رپورٹر سہیل خان کو روسٹرم پر طلب کر کے ان سے تفصیلات جانی گئیں۔

عدالت نے اس موقع پر جنگ گروپ کے ایڈیٹر،گروپ ایڈیٹر،رپورٹر کے متعلق استفسارات بھی کئے۔ اس موقع پر یہ بھی پوچھا گیا کہ حکومت نے کس میڈیا گروپ کو کتنے اشتہارات جاری کئے ہیں۔

اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی کہ وہ حکومت کی جانب سے میڈیا گروپس کو جاری کئے گئے اشتہارات کی تفصیل جمع کروائیں۔

عدالت نے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن،پبلشر میر جاوید رحمن اور دی نیوز کے رپورٹر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز میں جواب جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ خبر چھاپنے والا خاموش بیٹھا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلال رسول کی فیملی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کرنے کی اجازت کس نے دی؟

عدالتی کارروائی کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی جانب سے ایک سطری جواب جمع کروایا گیا جس میں جے آئی ٹی رکن بلال رسول کے خاندان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے میں ایجنسی کے کسی کردار کی نفی کی گئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں: سپریم کورٹ کا ایس ای سی پی چئیرمین ظفر حجازی کے خلاف مقدمہ کا حکم

عملدرآمد بینچ کا کہنا تھا کہ اب یہ وقت بھی آئے گا کہ صحافی ججز کو فون کریں گے۔ ہم نے مسلسل غلط رپورٹنگ کی اشاعت دیکھی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ مجھ سے دو بار رپورٹر نے رابطہ کیا۔ یہ براہ راست توہین عدالت کا معاملہ ہے۔

عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کی کاپیاں فریقین کو مہیا کرنے کا حکم دیا۔ انویسٹی گیشن ٹیم کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ 11 جلدوں پر مشتمل ہے۔

جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے عدالت سے استدعا کی کہ رپورٹ کا والیوم نمبر 10 پبلک نہ کیا جائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب! ابھی آپ کافی لوگوں کو پراسیکیوٹ کریں گے۔

سپریم کورٹ نے ابتدائی احکامات کے بعد معاملے کی سماعت آئندہ پیر تک کے لئے ملتوی کر دی۔ آئندہ سماعت کے موقع پر دلائل سنے جائیں گے۔

پیر ہی کی اشاعت میں نجی میڈیا گروپ کے دو اخبارات میں جے آئی ٹی کی آج سپریم کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ کے متعلق خبر شائع ہوئی تھی۔ اس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ وزیراعظم نہیں ان کے بیٹے قصور وار پائے گئے ہیں۔

عدالت کی جانب سے نوٹس لئے جانے کے معاملے سے متعلق مکمل خبر ذیل میں دی جا رہی ہے۔

پاناما پیپرز پربنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سپریم کورٹ پاناما بینچ کی جانب سے اٹھائےگئے 13سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کو کسی بھی غلط کام کا ذمہ دار قرارنہیں دیا ہے یہ بات جے آئی ٹی کے قریبی ذرائع سے معلوم ہوئی ہے جے آئی ٹی نے وزیراعظم پر کسی موزوں شہادت کے بغیر کچھ شبہات کا اظہار کیا ہے لیکن وزیراعظم کو کسی بھی جگہ کسی بھی غیر قانونی کام کا ذمہ دار قرار نہیں دیا ہے ۔جے آئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ میں اپنی فائنڈنگ دیتے ہوئے 5ویں سوال کے متعلق کہا ہے کہ شریف خاندان اس بات کے کافی شواہد فراہم نہیں کرسکا کہ رقم دبئی سے قطر ، قطر سے جدہ اور جدہ سے لندن کس طرح پہنچی جیسا کہ انہوں نے جے آئی ٹی کے سامنے دعویٰ کیا تھا۔ تاہم جے آئی ٹی نے اس مسئلے کو حسین نواز اورحسن نواز(یہ دونوںپاکستان سے باہر رہتا ہیں) سے جوڑا ہے اور اسی دوران جے آئی ٹی کوئی ایسی شہادت تلاش نہیں کرسکی جس سے پتا چلے کہ دونوں نے غیر قانونی طریقے سے رقم کمائی ہے ، جے آئی ٹی نے 1990کی دہائی میں شریف خاندان کے دیگر ارکان کی جانب سے لین دین کے کچھ معاملات کے متعلق شک کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جے آئی ٹی اپنی رپورٹ میں سوال نمبر9کے حوالے سے تسلیم کرے گی کہ وہ آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کی ملکیت کے حوالے سے سرکاری شواہد تلاش نہیں کرسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ان دونوں آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے، جو لندن کے پارک لین کے 4فلیٹوں کی مالک ہے، شریف خاندان کے اختیارکئے گئے مؤقف کو مسترد کرنے کے لئے کوئی شہادت حاصل نہیں کرسکی۔ ذرائع کے دعویٰ کیا کہ جے آئی ٹی 4سوالات ، سوال نمبر5 ، 7، 8 اور 9 کے جوابات تلاش نہیں کرسکی۔ شریف خاندان ان سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔ جے آئی ٹی جوابات سے متعلق نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان جوابات کو غلط ثابت کرنے کے لئے کوئی شہادت بھی حاصل نہیں کرسکی۔ آخری 4سوالات ، سوال نمبر10،11،12 اور 13 کے حوالے سے جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی جانب سے دی گئی شہادتوں اور جوابات پر زیادہ انحصار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ان آخری 4 سوالوں کے حوالے سے شریف خاندان کے خلاف کوئی سخت مخالفانہ اورقابل قبول بات نہیں کر سکی ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلے 4 اور چھٹے سوال کے حوالے سے جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے فراہم کردہ دستاویزی ثبوت پر انحصار کیا ہے اور و ہ اپنے سامنے شریف خاندان کی جانب سے دیئے گئے بیانات اور فاضل عدالت کے سامنے بیانات کے خلاف کوئی قابل ذکر چیز پیش نہیں کرسکی۔میڈیا میں اس قسم کی اطلاعات تھیں کہ جے آئی ٹی ارکان نے دبئی سے شریف خاندان کے 1970میں متحدہ عرب امارات میں کاروباری معاملات سے متعلق مؤقف کے خلاف قابل ذکر شہادت حاصل کرلی ہے۔ لیکن نہ تو جے ا ٓئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والے گواہوں سے اس حوالے سے کوئی سوال کیا گیا ہے نہ ہی جے آئی ٹی کے قریبی ذرائع نے ایسی کسی چیز کی تصدیق کی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ نکات پر جے آئی ٹی اپنے مینڈیٹ سے بھی آگے چلی گئی اور اس نے سخت ریمارکس بھی دیئے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی چیزیں مقدمے کی کارروائی میں غیر متعلق ہوں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں واحد سنجیدگی چیز یہ فائنڈنگ ہوگی کہ شریف خاندان دستاویزی شہادتوں کے ذریعے منی ٹریل ثابت نہیں کرسکا جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی جانب سے پیش کردہ منی ٹریل پر سخت ریمارکس دیئے ہیں اور کچھ شکوک کا اظہار کیا ہے لیکن کچھ بے ضابطگیوں کا ذکر کرنے کے علاوہ اپنے شکوک کو شہادتوں سے ثابت نہیں کیا۔ یہاں یہ اہم بات نوٹ کرنے کی ہے کہ منی ٹریل کا مسئلہ وزیراعظم سے نہیں بلکہ شریف خاندان کے ارکان سے متعلق ہے شریف خاندان نے ثابت کیا ہے کہ اس کے سربراہ میاں محمد شریف 1980کی دہائی میں وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے سیاست میں حصہ لینے سے بھی قبل بہت بڑا کاروباری نیٹ ورک چلا رہے تھے اور یہ کہ میاں محمد شریف کے اثاثے براہ راست ان کے پوتوں کو منتقل کئے گئے تھے۔ جو کہ بہت سے معاملات میں معمول کا عمل ہے ۔ وراثت میں ملنے والی دولت مختلف کاروبار میں ابتدائی سرمایہ کاری کے لئے پوتوں کے لئے ایک ذریعہ بن گئی۔ذرائع کے مطابق ذیل میں فاضل عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے 13سوالات اور جے آئی ٹی کی فائنڈنگ دی جارہی ہے اور اس کے ساتھ فاضل عدالت اورجے آئی ٹی کے سامنے شریف خاندان کی جانب سے ہر سوال کا مختصر جواب بھی شامل ہے۔ ( 1)۔گلف اسٹیل مل کس طرح وجود میں آیا؟ ذرائع کے مطابق اگرچہ جے آئی ٹی اس سوال پر شریف خاندان کے جواب سے مطمئن نہیں ہے لیکن وہ ایسی کوئی چیز تلاش نہیں کرسکے جو شریف خاندان کے بیان کے برعکس ہو ۔شریف خاندان کا مؤقف :جنوری1972 میں قومیائے جانے کے عمل کے بعد 1974 میں متحدہ عرب امارات میں زیادہ تر بینکوں سے رقم کا انتظام کرکے کاروبار شروع کیا گیا اور اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ گلف اسٹیل کے لئے پاکستان سے رقم باہر لے جائی گئی یہ گلف میں پہلی اسٹیل مل تھی میاں محمد شریف سقوط ڈھاکہ میں ایک فیکٹری سے محروم ہونے اور تمام فیکٹریوں کی ماں اتفاق فائونڈری کے نیشنلائز ہونے کے بعد دبئی گئے تھے گلف اسٹیل کو بہت کم رقم اور زیادہ تر فنانسنگ کے ذریعے بنایا گیا ۔(2)۔ اس کی فروخت کی وجہ کیا بنی ؟ جے آئی ٹی نے کسی فائنڈنگ کے بغیر شریف خاندان کے جواب پر انحصار کیا ہے۔ شریف خاندان کامؤقف: فیکٹری ترقی کر رہی تھی اورآپریشنل تھی لیکن اس وقت شرح سود بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے مالی مسائل تھے لہٰذا فیصلہ کیاگیا ہے کہ کمپنی کے ایک حصے کو فروخت کرکے قرضہ ادا کر دیا جائے۔ مل میاں محمد شریف کے 20سالہ بھتیجے طارق شفیع کے نام تھی۔(3)۔ مل کی مالی ذمہ داریوں کا کیا ہوا؟ جے آئی ٹی نے ایک سوال پر کچھ اضافی حقائق پیش کئے گئے ہیں لیکن کوئی غلط کام ثابت نہیں کرسکی۔ شریف خاندان کا مؤقف: ایک نئی کمپنی جس کا نام اہلی اسٹیل تھا بنائی گئی تاکہ وہ گلف اسٹیل کے فکسڈ اثاثوں کو سنبھال سکے اس میں 75فیصد اہلی خاندان اور 25فیصد شریف خاندان کے تھے۔ فروخت سے پہلے معاہدے کے تحت فروخت سے حاصل ہونے والے 22ملین درہم براہ راست بی سی سی آئی کو چلے گئے۔ پلانٹ سے کرنٹ اثاثے (واجب الوصول، اسکریپ کا اسٹاک ،تیار شدہ اسٹیل ) اہلی کوفروخت نہیں کئے گئے تھے ان سب کو باقی ماندہ قرض ادا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ۔(4)۔اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کہاں گئی ؟ جے آئی ٹی شریف خاندان کے بیانات کے علاوہ کوئی اضافی حقائق پیش نہیں کرسکی تاہم جے آئی ٹی کے کچھ ارکان نے شریف خاندان کی جانب سے اس معاملے میں بیانات پر شک کااظہار کیا ہے۔ یہ بات واضح نہیں کہ آیا یہ شکوک حتمی رپورٹ میں کسی جوابی شہادت کی غیر موجودگی میں شامل ہوں گے یا نہیں ۔ شریف خاندان کا مؤقف: 1980 میں میاں محمد شریف اتفاق فائونڈری کی ڈی نیشنلائزیشن کے بعد اس سرمایہ کاری کو جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ جس کے بعد 25فیصد حتمی حصص 1980 میں 12ملین درہم کی زیادہ قیمت پر فروخت کر دیئے گئے جبکہ ابتدائی 75فیصد حصص 22ملین درہم میں فروخت کئے گئے ۔یہ رقم نقدی کی صورت میں وصول کی گئی جو 6ماہ میں ہر ماہ 2ملین درہم کی صورت میںملی۔ دبئی کی عدالت کی جانب سے تصدیق شدہ فروخت کا معاہدہ جے آئی ٹی کے پاس جمع کرایا گیا فروخت سے حاصل ہونے والی یہ رقم میاں محمد شریف کے قابل بھروسہ دوست جاسم بن جبار الثانی کو سرمایہ کاری کے لئے دی گئی یہ رقم جاسم کے بیٹے فہد بن جاسم اور حمد بن جاسم نے جو قطر کے موجودہ شہزادے ہیں نے وصول کی تھی ۔(5)۔ وہ کس طرح جدہ اور برطانیہ پہنچے؟ جے آئی ٹی کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کی روشنی میں منی ٹریل ثابت نہیں ہوسکی بنیادی شہادت قطری شہزادے حمد بن جاسم کا بیان تھا اس تصدیق نہیں ہوسکی۔شریف خاندان کا مؤقف:رقم کی ادائیگی کے وقت شیخ جاسم بن جبار انتقال کرچکے تھے رقم 2001 میں بینک کے ذریعے لندن اور جدہ بھیجی گئی تاہم بینکس پانچ چھ سال سے زیادہ ایسا ریکارڈ نہیں رکھتے اور 17سال گزرنے کے بعد اب یہ ریکارڈ دستیاب نہیں ۔منی ٹریل کی ضرورت اس وقت ہوتی جب اثاثوں سے وزیراعظم کاتعلق ثابت کیا جاسکتا۔ دونوں بیٹے پاکستان سے باہررہتے ہیں اورانہوں نے کئی دہائیوں سے بمشکل ہی اپنے ریٹرنز فائل کئے ہیں لہٰذا ان کے ذرائع کے متعلق کچھ دستیاب نہیں ہے۔حتیٰ کہ اگر شریف خاندان کے فراہم کردہ تمام شواہد مسترد کردیئے جائیں تب بھی یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ بدعنوانی ، عہدے کے غلط استعمال، منی لانڈرنگ یا مس کنڈکٹ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ میاں محمد شریف جو قابل ذکر وسائل کے مالک تھے اور جو کبھی کسی عوامی عہدے پرفائز نہیں رہے اپنی پوری زندگی خاندان کے لئے فنانس فراہم کرتے رہے لہٰذا اس کے لئے حقیقی طورپر بہت کھینچا تانی کرنی پڑے گی یہاں تک کہ فرض کرنا پڑے گا کہ وزیراعظم کا زیر بحث اثاثوں سے کوئی تعلق ہے ۔(6)کیا مدعا علیہان نمبر7۔(حسین نواز شریف)اور 8 (حسن نوازشریف)1990ء کی دہائی میں اپنی کم عمری کے پیش نظر ایسے وسائل کے مالک تھے کہ وہ فلیٹ خرید سکیں۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی شریف خاندان کے جواب کے متمن نہیں تھیں، لیکن شریف خاندان کے موقف کو غلط ثابت کرنے کے لیے کوئی واحد شہادت بھی تلاش نہیں کرسکی۔ شریف خاندان کا موقف:۔ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ جس سے یہ پتہ چلے کہ1990ء سے حسن اور حسین مذکورہ فلیٹوں کے مالک تھے۔ تاہم اگر یہ فرض کربھی لیا جائے کہ شریف خاندان ان فلیٹوں کا مالک تھا تو اس کے لیے 1993-96ء میں جو رقم ادا کی گئی وہ 1.9ملین پونڈ تھی۔ جو پاکستانی روپے میں ساڑھے 7 کروڑ روپے بنتے ہیں اور یہ میاں محمد شریف جیسے شخص کے لیے کوئی بڑی بات نہیں۔ میاں محمد شریف کا اس لین دین سے کوئی تعلق جوڑنے کے لیے کوئی شہادت نہیں ہے۔(7)حمد بن جاسم کے خط کا اچانک سامنے آنا حقیقت ہے یا فسانہ؟ جے آئی ٹی اس نقطے پر اپنی تحقیقات مکمل نہیں کرسکی۔شریف خاندان کا موقف:۔میاں محمد شریف نے حمد بن جاسم کے والد کے ساتھ سرمایہ کاری کی تھی، اس تمام عرصے میں دونوں خاندانوں کے قریبی تعلقات تھے، حمد بن جاسم نے فاضل عدالت اور جے آئی ٹی کو تمام تفصیلات فراہم کردیں ہیں۔ یہ بات ثابت شدہ کہ حمد بن جاسم وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے 1999ء میں فوجی بغاوت کے بعد جیل میں میاں نوازشریف سے ملاقات کی تھی۔ اس کا مطلب کہ ان کے درمیان مضبوط تعلقات موجود تھے۔ رحمن ملک اپنی رپورٹ میں ایک نامعلوم عرب شیخ کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی تھی۔ شریف خاندان نے اس کے متعلق اخفا قائم کررکھا لیکن اب یہ کسی طرح بھی کوئی افسانہ نہیں ہے۔(8) بیئرر شیئرز کس طرح فلیٹوں میں تبدیل ہوئے؟ جے آئی ٹی کی اس سوال پر فائنڈنگ قیاس آرائی ہے اور شریف خاندان کی جانب سے بیان کردہ موقف کے برخلاف کوئی شہادت نہیں مل سکی۔ شریف خاندان کا موقف:۔ بی وی آئی اور اس جیسی دریغ کا دائرہ کار قانون اور ضابطوں پر ہوتا ہے۔ جبکہ سرمایہ کار کا نام خفیہ رکھا جاسکتا ہے۔ عرب دنیا میں اور باقیماندہ دنیا میں لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ دیگر لوگ ان کے بارے میں اس حد تک معلومات رکھیں۔ یہ ایک عام طریقہ کار ہے کہ کمپنیوں کو بیئرر شیئرز کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے۔ حمد بن جاسم کے بیان کے مطابق یہ کمپنیوں شروع سے ہی فلیٹ کی مالک تھیںاور یہ الثانی خاندان کے قبضے میںبیئرر شیئرز کے ذریعے تھیںجو دوحہ میں ان کے اس وقت تک پاس تھے جب تک کہ 2006ء میں حسین نواز کو دے نہیں دیے گئے۔ 2006 ء سے قبل ایک کمپنی جس کا نام Ansbacherتھا۔ ان کمپنیوں کیلئے خدمات فراہم کرتی تھیں۔ یہ کمپنی قطریوں کی ملکیت تھیں۔ (9) نیسلن اور نیسکول کمپنیوں کے حقیقی مالکان کون تھے؟ جے آئی ٹی نے باہمی قانونی معاونت کے لیے درخواست کی لیکن اس معاملے میں کوئی سرکاری معلومات نہیں ہیں۔ یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ نیب کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق جو جے آئی ٹی کو دیا گیا، برٹش ورجن آئی لینڈپہلے ہی پاکستان کو 2 مرتبہ جواب دے چکی ہے۔ جو آف شور کمپنیوں کے ریکارڈ اور معلومات کے حوالے سے درکار تھا کہ یا تو ریکارڈ دستیاب نہیں یا فراہم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ شریف خاندان کا موقف: شریف خاندان کی گواہی کو مسترد کرنے کے لیے کوئی شہادت دستیاب نہیں ہے وزیراعظم کو اس سرمایہ کاری کو جوڑنے کے لیے سازش ہورہی ہے جبکہ شریف خاندان کے موقف کو مسترد کردیا گیا ہے جو حقائق پر مبنی تھا۔ (10) ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کس طرح وجود میں آئی؟ ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے ابتدائی طور پر کسی شہادت کی غیر موجودگی میں شریف خاندان کے بیان پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ حتمی رپورٹ میں کیا فائنڈنگ ہوں گی۔ شریف خاندان کا جواب: ہل میٹل 2005ء میں العزیزیہ اسٹیل کو فروخت کرنے کے بعد قائم کی گئی تھی العزیزیہ کی فروخت سے 63 ملین سعودی ریال حاصل ہوئے تھے جبکہ 40ملین سعودی ریال ہل میٹلز کی 25فیصد ایکوٹی بن گئے جبکہ باقیماندہ75فیصد 2سعودی بینکوں اور سعودیہ عرب کی سرکاری سعودی انڈسٹریل ڈویلپمنٹ فنڈ سے حاصل کیے گئے اس بارے میں شہادت جے آئی ٹی کو دے دی گئی۔ (11) حسن نوازشریف کی جانب سے فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈ اور دیگر کمپنیاں قائم کرنے کے لیے رقم کہاں سے آئی؟ ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی شریف کے خاندان کے دعویٰ کے برعکس کوئی چیز تلاش نہیں کرسکی۔ شریف خاندان کا جواب: درخواست گزار کے دعویٰ کے برعکس فلیگ شپ معمولی سرمائے سے شروع کی گئی تھی، فلیگ شپ کا بزنس ماڈل یہ ہے کہ وہ ایک خستہ حال جائیداد خریدتے اور اسے بہت اعلیٰ معیار کے بنادیتے ہیں(اس کام میں اوسطاً ڈھائی سال اور کبھی زیادہ بھی لگتے ہیں) اور پھر فروخت کرتے ہیں زیادہ طلب کی وجہ سے لندن میں خریداروں کو تلاش کرنا آسان ہے۔ عام طور پر اگر منصوبے کی لاگت اندازاً 2ملین پونڈ ہو تو0.5ملین پونڈ ایکوٹی کے طور پر ادا کیے جاتے ہیں اور ڈیڑھ ملین بینک کا قرض ہوتا ہے اس طرح کی جائیداد کو ڈھائی کے بعد ڈھائی ملین پر فروخت کرنا بہت آسان ہوتا ہے کیونکہ ایکوٹی 1.5ملین ہوتی ہے لہٰذا اسے دگنا کرنا آسان ہوتا ہے فلیگ شپ میں اس طرح کے درجنوں منصوبے بنائے اور فروخت کیے اس طرح کے کاروبار میں ورکنگ کیپٹل کی ضرورت نہیں ہوتی فلیگ شپ میں جو رقم استعمال ہوئی وہ مندرجہ ذیل ذرائع سے آئی 1۔ میاں محمد شریف سے بذریعہ قطری پرنس ، معمولی سی رقم آئی۔2۔ العزیزیہ اسٹیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم حسن شریف کو ان کے بڑے بھائی حسین شریف نے دی تھی۔ 3۔ 2007ء میں پارک لین اپارٹمنٹ حسین شریف کو ٹرانسفر کیے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے بھائی حسن کو ان جائیداد کو رہن رکھنے کی اجازت دی تھی اور ان کے عوض ڈوئچے بینک سے قرض لینے کی اجازت دی تھی یہ رقم کاروبار میں استعمال ہوئی اور اس سے بہت فائدہ ہوا یہ قرضہ قسطوں میں ادا کیا اور 2015ء میں مکمل ہوگیا۔ (12) اس طرح کی کمپنیوں کا ورکنگ کیپٹل کہاں سے آتا ہے؟ جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کیا جے آئی ٹی مزید معلومات حاصل نہیں کرسکی۔ شریف خاندان کا موقف: ہل میٹل کیلئے ورکنگ کیپٹل کی سہولت 2سعودی بینکوں سے لی گئی تھی جے آئی ٹی کی تفصیلات اس کے پاس موجود ہیں ۔ (13) مدعا علیہ نمبر7 (حسین نواز) نے مدعا علیہ نمبر 1(میاں محمد نوازشریف) کو کروڑوں روپے کی بھاری رقم کس طرح تحفے میں دی؟ ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے کچھ ارکان کو شریف خاندان کی جانب سے وضاحت پر شکوک تھے۔ تاہم کوششوں کے باوجود شریف خاندان کے موقف کو غلط ثابت کرنے کیلئے کوئی شہادت نہیں حاصل نہیں کی جاسکی۔ شریف خاندان کا موقف: جو رقم وزیراعظم کو حسین نواز سے ملی تھی وہ ہل میٹلز سے آئی تھی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ ہل میٹلز 40 ملین سعودی ریال کے سرمایہ سے قائم کی گئی تھی جو اس کی اصل قدر کا 25فیصد ہے 75فیصد تاجراتی بینکوں اور سعودی سرکاری ادارے سے قرض لیا گیا تھا اس کے علاوہ مل کے آپریشن سے حاصل ہونے والی رقم بھی سرمایہ میں شامل کردی گئی تھی جبکہ ورکنگ کیپٹل دیگر ذرائع سے دستیاب تھا شریف خاندان نے سعودی عرب میں اپنے آڈیٹرز کا خط بھی فراہم کردیا ہے جس سے ہر سال ہونے والی آمدنی ظاہر ہوتی ہے اور اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ کاروبار کے لیے کافی نقدی دستیاب تھی جس سے یہ رقم پاکستان بھیجی گئی اور اس کے باوجود بھی آنے والے برسوں میں اضافی نقدی مہیا تھی۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ زرمبادلہ پاکستان لایا گیا نہ کہ پاکستان سے باہر لے جایا گیا۔ یہ اکنامک ریفارم ایکٹ کے تحت ہے اور ذرائع سوال نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات بھی جانا ضروری ہے کہ حسن 1994ء سے بیرون ملک مقیم ہے جبکہ حسین نواز نے 1992ء میں پاکستان چھوڑ دیا تھا وہ 1997ء میں پاکستان واپس لیکن 2000ء میں جلاوطن کردیے گئے اور اس کے بعد سے واپس نہیں آئے اگر حسن اور حسین کو ان کے اثاثوں کے ذرائع اور پاکستان کے بھیجی جانے والی رقم کے ذرائع کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو یہ اصول ان بہت سے پاکستانیوں کے لیے بھی لاگو ہوگا جو اسی پوزیشن حامل ہوں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ دونوں بیٹے 40 سال کی عمر سے زیادہ کے ہیں اور اپنے والد کے زیر کفالت نہیں ہیں پاکستان جو رقم منتقل کی گئی وہ سب سرکاری ذرائع سے بینکنگ چینل کے ذریعے آئی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ وزیراعظم کے ریٹرنز میں ظاہر کی گئی ہے کھینچ تان کرکسی طرح یہ ظاہر کی جارہی ہے کہ حسن اور حسین اپنے والد کے بے نامی دار ہیں یہ خاندان دہائیوں سے کاروبار میں ہے اور اپنے شعبے میں لیڈر ہے ۔ بے نامی داری ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وزیراعظم کو خاندان کے دائرہ سے باہر رکھ کر بھی بہت زیادہ وسائل موجود ہیں جن کی وضاحت کی جاچکی ہے اس طرح کی کوئی سازش نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کی طرح کوئی شہادت نہیں موجود نہیں جس سے وزیراعظم کا مذکورہ اثاثوں کی خریداری سے تعلق ثابت ہوسکے ۔ حقیقت میں وہ وکیل جنہوں نے 1993-96ء میں یہ جائیدادیں خریدیں تھیں سپریم کورٹ کے سامنے ایک خط میں تصدیق کرچکے ہیں کہ انہوں نے شریف خاندان کی جانب سے یہ کام نہیں کیا اور نہ ہی کبھی شریف خاندان کے کسی رکن کی ہدایت انہیں ملی۔ بے نامی سے مطابق الزام لگانے والوں کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ کس نے قیمت ادا کی، قبضہ، تحویل اور بے نامی کا محرک کیا تھا۔ مذکورہ بالا میں سے کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جو اثاثوں سے وزیراعظم کا تعلق جوڑتی ہو۔ 20اپریل کے عدالت کے حکم کے پیرا نمبر3 کا آخری جملہ یہ تھا کہ ’’بینچ آئین کی دفعات 184 (3) ،187 (2) اور 190بشمول مدعا علیہ نمبر 1 اور کسی دوسرے شخص کے خلاف جس کا جرم سے تعلق ہو ریفرنس فائل کرنے کیلئے بشرطیکہ بینچ کے سامنے آنے والے ریکارڈ کی بنیاد پر جواز ہوا تو مناسب حکم جاری کرسکتی ہے۔‘‘ پاناما عملدرآمد بینچ میں شامل تین ججز نے وزیراعظم یا ان کے خاندان کے کسی رکن کے خلاف پیش کیے گئے دستاویزات اور شواہد کی بنیاد پر کوئی سخت حکم جاری نہیں کیا ۔ عدالت کے حکم کی ان سطور سے واضح ہے کہ بینچ شریف خاندان کے خلاف جے آئی ٹی کی تفتیش کے نتیجے میں کچھ اضافی حقائق جن کی شہادتوں سے تصدیق ہوتی ہو اور وہ عملدارآمد بینچ کے سامنے رکھیں جائیں تو اس کی بنیاد پر کارروائی کرے گی۔تاہم جے آئی ٹی اضافی تصدیق شدہ حقائق تلاش نہیں کرسکی سوائے ان کے جو فاضل عدالت کے پاس پہلے ہی دستیاب تھے قابل بھروسہ ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ جے آئی ٹی نے جن گواہوں سے بھی سوالات کیے ان سے کوئی نئی چیز نہیں پوچھی گئی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے خلاف نئی شہادتیں حاصل کرلی ہوتی تو گواہوں سے ان کے بارے میں پوچھا جاتا۔ حدیبیہ پیپرز میلزکے حوالے سے کچھ مسائل ہیں لیکن اس کا مقدمہ لاہور ہائی کورٹ 2مرتبہ مسترد کرچکی ہے اس کیس کی دوبارہ سے تحقیقات ہوسکتی ہے اور نئے سرے سے مقدمہ چلانے کا حکم جاری کیا جاسکتا ہے لیکن حدیبیہ پیپرز میلز کے حوالے سے کسی بھی ادارے کے پاس دستیاب کسی بھی معلومات کی بنیاد پر کوئی سخت حکم جاری نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس مقدمہ کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی کرچکی ہے۔ فوجداری مقدمات کے بعد سزا کے بغیر سپریم کورٹ کو کسی قانون ساز کو نااہل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ سینئر آئینی ماہرین کے مطابق ماضی میں پسند اور نہ پسند کی بنیاد پر قانون سازوں نااہل کرنے کے احکامات کو قانونی برادری نے پسند نہیں کیا تھا۔ان ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ پاناما بینچ نے اپنے ’’آرڈر آف دی کورٹ‘‘ میں نے کچھ بڑے فیصلے کرنے کی جانب نشاندہی کی تھی جس کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کی ضرورت ہے۔اگر ماضی کی اچھی مثالیں رہنمائی کرتی ہیں تو یہ تواقع کی جاسکتی ہے کہ یہ تو یہ مقدمہ ڈس مس ہوگا یا پھرجے آئی ٹی کی رپورٹ جمع ہونے کے بعد چیف جسٹس لارجر بینچ تشکیل دیں گے۔

شاہد عباسی

پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹیجسٹ شاہد عباسی، پاکستان ٹرائب کے بانی، ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے اولین ڈیجیٹل میڈیا صارفین میں سے ایک شاہد عباسی بلاگنگ اور خارزار صحافت کے علاوہ اپنے کریڈٹ پر دو ناولز بھی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *