پاکستان میں عوامی،انتخابی رجحانات: گیلپ سربراہ کے دلچسپ انکشافات

پاکستان میں عوامی،انتخابی رجحانات: گیلپ سربراہ کے دلچسپ انکشافات

اسلام آباد: پاکستان میں رائے عامہ کا جائزہ لینے سے متعلق ادارے گیلپ کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے عوامی انتخابی رجحانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں 2013 کی پوزیشنز کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کو دستیاب اطلاعات کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ  تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) 2013 کی عوامی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جب کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی سابقہ مقبولیت بھی گزشتہ عام انتخابات والی جگہ پر برقرار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عمومی تاثر کے برعکس بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کا خیال یہ ہے کہ ووٹ شخصیات کو ملتے ہیں تو یہ صحیح نہیں ہے۔

کراچی کی عوام کے سیاسی رجحانات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی کا کہنا تھا کہ کراچی ملک کا واحد حصہ ہے جہاں سیاسی رجحانات غیریقینی کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 25 برسوں سے شہر کی مقتدر جماعت ایم کیو ایم کی تقسیم اہم وجہ ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ غیر یقینی صورحال میں بھی کراچی کی عوام کا ووٹ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں میں تقسیم ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ گیلپ سروے کا طریقہ کار کیا ہے اور گیلپ کے سروے دوسروں سے مختلف کیوں ہوتے ہیں۔ انہوں کہا کہ گیلپ اپنے سروے کے لئے بالغ شہریوں کا انتخاب کرتا ہے اور اس کے لیے ہر صوبے میں مختلف شہروں، گلیوں، گھروں اور افراد پر لاٹری ڈالی جاتی ہے۔ اس لاٹری کے نتیجے میں نمائندہ افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

اعجاز شفیع گیلانی نے اتوار کو نشر ہونے والے اپنے انٹرویو میں کہا کہ میڈیا سروے اور گیلپ سروے میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ میڈیا کو عموما رائے عامہ کہا جاتا ہے جب کہ یہ خواص کی رائے ہے البتہ گیلپ عوام سے رائے جاننے کا ادارہ ہے۔

سلیم صافی کے ساتھ انٹرویو میں میڈیا کے متعلق عوامی رجحانات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی میڈیا کے متعلق لوگوں کی مثبت رائے زیادہ جب کہ منفی کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پاکستان میں نسبتا ایک نیا میڈیم ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی کل تعداد 15 فیصد تک بھی نہیں پہنچی ہے۔ انگلش کا زیادہ استعمال اور چند دیگر استعمال بھی اسے محدود رکھے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں یہ میڈیم ابھی تک منفی اور مثبت کی پہنچ سے دور ہے تاہم اس کی اہمیت کے متعلق جتنی بات کی جاتی ہے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ وہ درست نہیں ہے۔

شعبہ تعلیم میں رہتے ہوئے گیلپ پاکستان کا آغاز کرنے والے اعجاز شفیع گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ عوامی نمائندگی کی بنیاد پر جمع کردہ اعدادوشمار اور اس سے سامنے آنے والے رجحانات کو کسی کی خوشنودی کے لئے تبدیل نہیں کرتے بلکہ من و عن پیش کرتے ہیں۔ اگر کسی کی جانب سے سروے کروانے پر نتائج تبدیل کرنے ہوں تو بہتر ہے کہ یہ کام کیا ہی نہ جائے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

One thought on “پاکستان میں عوامی،انتخابی رجحانات: گیلپ سربراہ کے دلچسپ انکشافات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *