سوشل میڈیا کے پیدا کردہ ڈپریشن سے جان چھڑانے کے آسان طریقے – احمد حامدی

سوشل میڈیا کے پیدا کردہ ڈپریشن سے جان چھڑانے کے آسان طریقے – احمد حامدی

معلوم ہوا کہ طفیل ہاشمی صاحب فیس بک کو خدا حافظ کہہ گئے ہیں۔ اور یہ تجربہ بھی سب کو ہو چکا ہوگا کہ آئے روز کوئی نہ کوئی پوسٹ کر دیتا ہے کہ میں فیس بک چھوڑنے والا ہوں۔ چلیں آئیں آج اس کا حل ڈھونڈتے ہیں۔

 

انسان اپنی ذات میں بہت سے وارداتوں سے گزرتا ہے۔ کبھی بندہ روحانی طور پر سرشار و سرمست ہوتا ہے۔ دشمن بھی سامنے آئے تو اس کا بوسہ لینے کو دل کرتا ہے۔ کبھی روحانی کرب میں مبتلا ہوتا ہے۔ دل گیری و پریشانی پوری روح کو گھیر لیتی ہے اور کبھی کبھار خارج میں بھی اس کے اثرات بھیانک ہوتے ہیں(اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین)۔

 

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بندے کے جنتے زیادہ تعلقات ہوتے ہیں اتنے ہی اس کے غم، فکرمندیاں اور پریشانیاں ہوتی ہیں۔ فلاں ناراض ہوگیا ہے۔ فلاں نے جانے کیوں رسپانس اچھا نہیں دیا۔ فلاں کے والد بیمار ہیں۔ فلاں ترقیاں کر رہا ہے اور میں ابھی تک سڑ رہا ہوں۔ یعنی جتنے تعلقات اتنی آزردگی۔

سوشل میڈیا سے قبل کا زمانہ اس لحاظ سے بہت اچھا تھا کہ ہم کم لوگوں کو جانتے تھے۔ کم خبریں ہم تک پہنچتی تھیں۔ کم لوگ ہماری بات پر “اینگری”، “ہیپلی” ہوتے تھے۔ آج بھی جو لوگ سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے، ان پریشانیوں سے بچے ہوئے ہیں۔

اب جبکہ سوشل میڈیا ایک ضرورت ہے۔ پڑھے لکھے لوگوں کا سوشل میڈیا پر ہونا ناگزیر ہے۔ دنیا تک بات پہنچانا ضروری ہے۔ حالات سے واقف رہنا اہم ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا سے دور رہنا ناممکن یا برا ہے۔ یعنی حالت یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال بھی ناگزیر ہے اور اس کے استعمال سے ذہنی دباو، فکری انتشار، روحانی خلجان اور ذاتی زندگی میں مسئلے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ آپ گوگل سکالر پر اس حوالے سے سرچ کریں گے تو آُپ بہت سارا مواد مل جائے گا۔

جب حالت ایسی ہے تو ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا کے طریق استعمال میں تبدیلی کریں۔ ہر بندہ اپنے آپ کو خوب سمجھتا ہے اور اپنے لیے بہتر طریقہء کار وضع کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں کچھ تجاویز دینے کو ضروری سمجھتا ہوں۔ شاید یہ تجاویز آپ کے کام کے ہوں یا شاید ان کی وجہ سے آپ کو کچھ آسانی ہو۔

پہلی تجویز: سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے دن میں ایک مقررہ وقت ہونا چاہیے۔ دو یا تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا جائے (سوائے ان لوگوں کے جو بڑے بڑے پیجز چلاتے ہیں)۔

دوسری تجویز: کم استعمال کے لیے ضروری ہے کہ آپ سوشل میڈیا کو موبائیل سیٹ سے استعمال نہ کریں۔ بلکہ کمپیوٹر سے استعال کریں۔

تیسری تجویز: قسم قسم کی تحریریں پڑھنے سے پرہیز کیا کریں۔ ان لوگوں کی تحریریں نہ پڑھیں، جن کو پڑھ کے آپ بوجھ یا کنفیوژن محسوس کرتے ہوں۔ اور ان لوگوں کی تحریروں سے بھی بچ کے رہیں جو گالیاں، طنز، ہجو، اور دیگر ناشائسگیوں کے سوا لکھنا نہ جانتے ہوں۔

چوتھی تجویز: آپ بات کرتے ہوئے، بات سنتے ہوئے اور جواب دیتے ہوئے شائستگی کو تھامے رہیں۔ گالیاں دینے والوں کو سمائلی دیں۔ انہیں بھائی یا عزیزم کہہ کے مخاطب کریں۔ تو ان گالیوں کا اثر آپ پر کچھ نہ ہوگا۔ آپ خود نیک و بہتر محسوس کریں گے۔

پانچویں تجویز: کسی کو نیچا دیکھانے اور خود جیت جانے کی سائیکی سے باہر آئیں۔ لوگوں کو جیتنے دیں۔ اور بے فائدہ یا کم فائدہ مند بحث سے لاتعلق رہیں۔

چھٹی تجویز: اگر کچھ لوگوں کی اچھی تحریر اور کامیابی یا خوشی آپ سے برداشت نہیں ہوتی تو جان لیں کہ آپ حسد کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس سے خود کو بچائیں۔ انہیں مبارک باد دیں۔ ان کی تعریف کریں، ان کی پوسٹ شیئر کریں۔ انہیں سپیشل میسج کیا کریں۔

ساتویں تجویز:فالوورز کی تعداد لائکس کی گنتی، کمنٹس، شیئر اور ری ٹویٹس کی لالچ و فکرمندی سے دور رہیں۔ مستقل مزاجی اور احسن انداز سے بات پہنچاتے رہیں۔

آٹھویں تجویز: چونکہ سوشل میڈیا تعلق کی نئی اور بڑی قسم ہے۔ اس لیے اس میں بھی وہی طریقے اختیار کیے رکھیں جو دیگر تعلقات میں مذہب و اخلاقیات والے بتاتے ہیں۔ یعنی بروں کی ہدایت کے لیے دعائیں کریں۔ وغیرہ

کچھ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ مسائل اتنے بھی نہیں ہیں جتنی تجاویز بتائی گئی ہیں۔ یہ بات دو قسم کے لوگ سوچ سکتے ہیں۔ پہلی قسم، وہ لوگ جو فیس بک کو ڈی پی اپلوڈ کرنے، ویڈیو ڈاونلوڈ کرنے کی سہولت سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ دوسری قسم، وہ لوگ جو فیس بک پر کبھی سنجیدہ فکری مباحث کا حصہ نہیں رہے۔

Ahmed Hamidi

Ahmed Hamidi is a web producer at pakistantribe.com's news desk.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *