پی ایس 114 ضمنی انتخاب: دھاندلی،لڑائی جھگڑے،گرفتاریوں کے ساتھ مکمل

پی ایس 114 ضمنی انتخاب: دھاندلی،لڑائی جھگڑے،گرفتاریوں کے ساتھ مکمل

کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اتوار کو صوبائی حلقے 114 پر جاری ضمنی انتخاب کی ابتداء ہی میں جھگڑوں،پولنگ میں تعطل اور گرفتاریاں ہوئی ہیں۔

پی ایس 114 کے امیدواروں،سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا موقف

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کے نمائندہ کراچی کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار سعید غنی کا مضبوط ووٹ بینک رکھنے والے چینیسر گوٹھ میں صبح سے متعدد بار کشیدگی ہوئی ہے۔

پہلے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کو یہاں داخل ہونے سے روکا گیا جس کے بعد تحریک انصاف اور پی پی پی کارکنان میں تصادم کی سی کیفیت پیدا ہوتی رہی۔

پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے پولنگ اسٹیشن کے دورے کے بعد گفتگو میں ممکنہ انتخابی نتیجے کے متعلق کہا کہ شام کو کراچی کے عوام خوشخبری سنیں گے۔

تحریک انصاف کے امیدوار نجیب ہارون کا کہنا تھا کہ ہم کیا شریف ہوئے پورا شہر بدمعاش ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز نے اچھا کام کیا ہے۔

ایم کیو ایم رہنما عامر خان کا کہنا تھا کہ ہمارے چیف پولنگ ایجنٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جو سیٹ چار برسوں تک دھاندلی کے نتیجے میں ہم سے چھین کر رکھی گئی وہ شفاف انتخاب کے نتیجے میں ہمارے واپس واپس آجائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلزپارٹی سرکاری وسائل استعمال کررہی ہے۔

پیپلزپارٹی امیدوار سعید غنی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف امیدوار کے خلاف 34 مقدمات درج ہیں۔ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو انتخابی اسٹیشنز پر داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔

ایم کیو ایم کے امیدوار کامران ٹیسوری کا کہناتھا کہ کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پولنگ اسٹیشنز میں داخل نہیں ہونے دیا جارہا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی زورزبردستی کی کوشش کر ہی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہم لڑنے نہیں ووٹ مانگنے آئے ہیں۔ منظور کالونی کے نبی باغ پولنگ اسٹیشن پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ محفوظ یار خان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیدوار ظہور جدون نے اخترکالونی میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا جس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز سے متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

جماعت اسلامی کراچی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن نے بھی انتخابی حلقے کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام کو خوف سے نکال کر حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ اپنے مستقبل کے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔

تحریک انصاف کا میڈیا کو جاری کردہ ایک پیغام میں کہنا تھا کہ اس حلقے میں ن لیگ کے سابق رکن اسمبلی کو اسی لئے نااہل قرار دیا تھا کہ نادرا نے سابقہ انتخابات میں دھاندلی پکڑ لی تھی۔ اس بار پیپلزپارٹی انتخابی دھاندلیوں کے لئے بدنام صوبائی حلقے چینیسر گوٹھ میں ایسا ہی کرنا چاہ رہی ہے۔

 سعید غنی کی اہلیہ نے ایم کیو ایم پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار کامران ٹیسوری نے پیپلزپارٹی پر دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔

لڑائی جھگڑے اور پرتشدد واقعات

انتخابی عمل کے دوران ایک پولنگ اسٹیشن پر آزاد امیدوار کو دورے کے موقع پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

پیپلزپارٹی کی دو خواتین نے رینجرز اہلکار سے ہاتھا پائی کی جس کے بعد انہیں حراست میں لے کر خواتین اہلکاروں کو موقع پر طلب کر لیا گیا۔

پی ایس 114 میں جعلسازی، دھاندلی

انتخابی عمل شروع ہونے کے 4 گھنٹے بعد تک رینجرز نے 2 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ایک کو جعلی ووٹ کاسٹ کرنے کی کوشش پر پکڑا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات کے دوران گورنمنٹ بوائز اسکول چینیسر گوٹھ سے جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کے دوران گرفتار ہونے والا فرد پیپلزپارٹی کا کارکن ہے۔ پی پی پی کا کہنا ہے کہ گرفتار کیا گیا فرد ذہنی طور پر تندرست نہیں ہے۔

ڈی جی رینجرز کا دورہ

ڈی جی رینجرز نے اس موقع پر انتخابی حلقے کا دورہ کیا اور ووٹرز سے ان کے مسائل دریافت کئے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو شکایت ہے تو درج کروائیں۔

میجر جنرل محمد سعید کا کہنا تھا کہ رینجرز کو مینڈیٹ دیا گیا ہے جس کے تحت ہم یہاں موجود ہیں اور انتخابی عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔

انتخابی عمل کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 92 پولنگ اسٹیشنوں میں سے صرف ایک پر تلخ کلامی کا واقع ہوا۔

میڈیا پر پابندی

قبل ازیں چینسر گوٹھ پولنگ اسٹیشن پر میڈیا نمائندوں کو الیکشن کمیشن کے جاری کردہ پاسز کے باوجود پولنگ اسٹیشن میں داخلے سے روک دیا گیا۔ گیٹ پر تعینات رینجرز اہلکاروں کا کہنا تھا کہ پاسز جعلی ہیں۔

اس موقع پر پولیس انسپکٹر شہزادہ سلیم نے الیکشن کمیشن کے جاری پاسز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے کسی پاس کو نہیں مانتے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اعلی حکام کوریج کی اجازت نہیں دے رہے۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر جا کر کسی کو کور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ضمنی انتخاب کے اعدادوشمار

یاد رہے کہ سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 114 پر ضمنی انتخابات کے دوران ایک لاکھ 92 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن کے لئے 92 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔

امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے 15 سو پولیس اہلکار جب کہ رینجرز کے 2 ہزار افسران و اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *