پی آئی اے کے دو پائلٹس حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار

پی آئی اے کے دو پائلٹس حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار

کراچی: پاکستان ائیر لائینز (پی آئی اے) انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دو پائلٹس نے حفاطتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے جس کی بنا پروہ جرمانے اور سزا کے مرتکب ٹھہرائے گئے ہیں۔

1946 میں شروع ہونے والی قومی ائیر لائن حکام کی جانب سے یہ بات پی آئی اے کے متعلق قائم کردہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو صدر دفاتر کے دورہ کے موقع پر بتائی گئی۔

50 سے زائد مقامات کیلئے فضائی سفر کی سہولت فراہم کرنے والی ائیرلائن کے دورے کے اہم مقاصد میں پی آئی اے پائلٹس کے دوران پرواز سو جانے اور چینی خاتون کو کاک پٹ میں بلانے کے واقعات کی جانچ شامل تھی۔

کمیٹی سربراہ سینٹر مشاہداللہ خان اور اراکین سید مظفرحیسن شاہ،فرحت اللہ بابر،لیفٹینٹ جرنل ریٹائرڈ قیوم اور شیری رحمان نے نشست کے دوران پائلٹس اور حفاظتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم کے مشیر ہوابازی سردار مہتاب خان نے کمیٹی کو بتایا کہ دونوں پائلٹس کے خلاف انکوائری مکمل کر لی گئی ہے ۔تاہم کچھ تکنیکی مسائل کی بنیاد پر پائلٹس کا حتمی بیان ابھی تک ریکارڈ نہیں کیاگیاہے۔

سینٹر شیری رحمان کا کہنا تھاکہ اگر پائلٹ دوران پرواز سوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیوٹی پر رپوٹ کرنے سے پہلے پائلٹ کو مکمل آرام کی اجازت نہیں دی جاتی۔

سینیٹر مشاہد خان کا کہنا تھا کہ اس مسئلہ پر متعدد میٹنگز ہو چکی ہیں لیکن کوئی حل نہیں نکلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “حالیہ واقعات حفاظتی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ پائلٹس حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں”۔

کمیٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد سے نیویارک جانے والی پرواز کے دوران پائلٹ کے سو جانے کے ایک اور معاملے سے بھی آگاہ ہیں تاہم اس کے متعلق ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ”پائلٹس کیبن عملے کو مسلسل ہراساں کرتے ہیں۔ وہ کیبن کریو کے ڈیوٹی روسٹرمیں تبدیلی کی کوششیں بھی کرتے ہیں۔

مسافر کو کاک پٹ میں جانے کی اجازت:

پی آئی اے کی ٹوکیو سے بیجنگ جانے والی پرواز نمبر 853 کے دوران پائلٹ نے چینی خاتون کو کاک پٹ میں بلایاتھا۔ اس دوران جہاز میں موجود ایک صحافی نے اس منظر کو ریکاڈ کر لیا۔پہلے تو پی آئی اے نے اس واقعہ میں ملوث پائلٹ کی پشت پنائی کی اور کہا کہ کاک پٹ میں جانا حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے. تاہم میڈیا کے دباؤ کے بعد پی آئی اے انتظامیہ نے واقعہ میں ملوث پائلٹ کیپٹن شہزاد عزیز سے باقاعدہ چھان بین کی۔

سردار مہتاب خان نے معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن کے قوانین کے مطابق کسی بھی غیر مجاز شخص کا داخلہ کاکپٹ میں ممنوع ہے لہذااس کے خلاف مکمل کاروائی ہو گی۔

پائلٹ سوتے ہوئے پایا گیا:

26اپریل2017 کو پرواز نمبر پی کے 785 اسلام آباد ائرپورٹ سے لندن کے لیے روانہ ہوئی۔ اس وقت کیپٹن انچارج عامر ہاشمی بزنس کلاس میں سوتے ہوئے پائے گئے۔ اس دوران جہاز کا سارا انتطام زیرتربیت پائلٹس کے ہاتھ میں رہا۔ عامرھاشمی تقریباَ اڑھائی گھنٹے سوتے رہے۔

الزام درست نہ ماننے والے پائلٹ کا کہنا تھا کہ وہ سو نہیں رہے تھے بلکہ وہ سول ایوی ایشن (سی اے اے) قوانین کے مطابق آرام کر رہے تھے۔ بعد میں واقعہ کی تصاویر نے اصل واقعہ کھول دیا جس پر تحقیقاتی عمل شروع کیا گیا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *