جنسی روبوٹ،سوسائٹی اور تعلقات کی تباہی،ماہرین

جنسی روبوٹ،سوسائٹی اور تعلقات کی تباہی،ماہرین

لندن:  ٹیکنالوجی کے انقلاب نے کئی طرح کی مشینری کو جنم دیا جس نے انسان کی زندگی سہل کر دی اور مہینوں میں ہونے والی پیداوار ہفتوں اور دنوں میں ہونے لگی،اب یہ ٹیکنالوجی انسانی زندگی میں ایک انتہائی شرمناک اضافہ کرنے جا رہی ہے اور ان جنسی روبوٹس کو(لو مشین)کا  نام دیا جا رہا ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام ٹیکنالوجی ڈیسک  کے مطابق برطانوی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ ایک دہائی میں جنسی روبوٹس انسانی زندگی میں معمول کے استعمال کی چیز بن جائیں گے ۔

رپورٹ کے مطابق سیاستدان اور ماہرین انسانی زندگی میں اس اضافے پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

 یونیورسٹی آف شیفیلڈ میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ٹیکنالوجی کے پروفیسر نوئیل شارکے اور یونیورسٹی آف ڈیلف کی پروفیسر ڈاکٹر ایمی وین و دیگر کا کہنا ہے کہ مشینوں کو جنسی غرض کے لیے استعمال کرنے سے اخلاقی و سماجی مسائل جنم لیں گے اور مردوخواتین کے تعلقات پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

 دوسری طرف جنسی روبوٹس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ جنسی مشینیں تنہاءرہنے اور جنس مخالف سے تعلق استوار کرنے میں مشکل محسوس کرنے والے افراد کے بہت فائدہ مند ثابت ہوں گی۔

 یاد رہے کہ اس وقت دنیا میں تقریباً5کمپنیاں جنسی روبوٹس بنا رہی ہیں جن کی قیمت 4ہزار پاﺅنڈ(تقریباً 5لاکھ 41ہزار روپے)سے 11ہزار 600پاﺅنڈ(تقریباً 15لاکھ 69ہزار روپے)تک ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *