جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے قطر جانا ہی ہوگا،آصف کرمانی

جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے قطر جانا ہی ہوگا،آصف کرمانی

اسلام آباد:وزیر اعظم کےمعاون خصوصی آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے نے جے آئی ٹی کو قطر آنے کی دعوت دی لیکن جے آئی ٹی کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حسین نواز کی جے آئی ٹی میں تیسری پیشی کے موقع پر جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ محترمہ جے آئی ٹی کی جانب سے قطری شہزادے کے سامنے تین آپشن رکھے گئے جس میں سے قطری شہزادے نے جے آئی ٹی کو قطر آنے اور بیان ریکارڈ کروانے کا آپشن منتخب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا نام پاناما پیپرز میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود شریف خاندان کے کسی فرد کو نہیں چھوڑا گیا جسے جے آئی ٹی نہ طلب کیا گیا ہو۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حسین نواز کو تیسری مرتبہ جے آئی ٹی طلب کیا گیا ہے اور وہ لندن سے خصوصی طور پر پیشی کے لیے پاکستان آئے ہیں۔

انہوں نے جے آئی ٹی پر اعتراضات کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے کیس سے متعلقہ دستاویزات حاصل کرنے کے لیے لندن میں لاء فرم کی خدمات حاصل کی ہیں جس کے لیے بھاری رقم بھی ادا کی گئی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دستاویزات جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ سے مل سکتی تھیں تو انہوں نے لاء فرم کو کیوں ہائر کیا۔

انہون نے کہا جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے قطر جانا ہو گا ورنہ ملک میں تمام لیگی کارکنان کو شدید تحفظات ہوں گے کیونکہ تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کا قطر جانا بہت ضروری ہے۔

آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ ہمیں ملزم کہا جا رہا ہے،ملزم وہ ہوتا ہے جس پر سپریم کورٹ نے چارج کیا ہوتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *