گاڑیوں کا ہارن کیسا ہونا چایئے؟

گاڑیوں کا ہارن کیسا ہونا چایئے؟

سیئول:  جنوبی کوریا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں خوفناک آواز والے موجودہ ہارن کی جگہ بطخ جیسی آواز والے ہارن نصب کر دیئے جائیں تو اس سے شہروں میں نہ صرف شور کی آلودگی کم ہو گی بلکہ ٹریفک حادثات میں بھی کمی واقع ہو گی۔

پاکستاب ٹرائب ڈاٹ کام ورلڈ ڈیسک کے مطابق سیئول کی سونگسل یونیورسٹی میں ماحولیات کے پروفیسر مایونگ جن بائی اور ان کے ساتھیوں نے 100 سے زائد رضاکاروں کوہارن کی مختلف آوازیں سنائیں اور ان سے پوچھا کہ ان میں سے ہارن کی کونسی آواز انہیں کم شور کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں اپنی طرف متوجہ کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان میں گاڑیوں کے موجودہ ہارن کے علاوہ جانوروں کی آوازوں والے مختلف ہارن شامل تھے جنہیں سننے کے بعد زیادہ تر رضاکاروں نے کہا کہ انہیں بطخ کی ،قائیں قائیں،جیسی آواز زیادہ بہتر محسوس ہوئی کیونکہ اسے سن کر وہ زیادہ جلدی متوجہ ہوئے اور ان کے اعصاب پر ناگوار اثرات بھی نہیں پڑے۔

پروفیسر مایونگ کے مطابق  گاڑیوں میں عام استعمال ہونے والے موجودہ ہارن کی آواز سے پیدا ہونے والا شور بہت شدید ہوتا ہے جسے سننے والے ڈرائیوروں اور پیدل چلنے والوں کو اعصابی جھٹکا لگتا ہے جو بعض اوقات حادثے کی وجہ بھی بن جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ گاڑی میں ہارن کا اصل مقصد آس پاس کے لوگوں کو متوجہ کر کے ہوشیار کرنا ہوتا ہے اور اگر یہ مقصد کسی کم شور والے ہارن سے پورا ہو جائے جس کی آواز بھی اعصاب پر برا اثر نہ ڈالے تو یہ ٹریفک اور ماحول، دونوں کے نقطہ نگاہ سے مناسب اور محفوظ ہوگا۔

یاد رہے کہ کار کے ہارن سے عام طور پر 107 سے 109 ڈیسی بیل تک کا شور پیدا ہوتا ہے جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انسانی اعصاب،بلڈ پریشر اور دماغ پر بھی برے اثرات ڈالتا ہے اور اگر اس درجے کے شور کا روزانہ سامنا کرنا پڑے تو پھر دل کے دورے سے لے کر دماغ اور اعصاب کی کئی بیماریوں کا خطرہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے۔

اگر اس کی جگہ کوئی ایسا ہارن ہو جس کا شور 70 سے 90 ڈیسی بیل کے درمیان ہو اور آواز بھی نرم ہو تو یہ عمومی انسانی صحتکے علاوہ سڑکوں پر حادثات کے تدارک میں بھی اہم کردار ادا کرے گا،سیئول میں کیا جانے والا مذکورہ مطالعہ بھی اسی خیال کے تحت کیا گیا جس میں بطخ جیسی آواز والے ہارن کو سب سے مناسب پایا گیا۔

حیرت انگیز طور پر 1908 میں جب پہلی بار گاڑیوں میں ہارن متعارف ہوئے تھے تو ان کی آواز بھی بطخ جیسی ہی تھی لیکن بعد میں ان کی جگہ زوردار آواز والے ہارن نے لے لی لیکن یوں لگتا ہے جیسے آج سے تقریباً 110 سال پہلے متعارف کروایا گیا ہارن ہی مناسب تھا جسے معمولی ردّوبدل کے بعد دوبارہ سے رائج کیا جا سکتا ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *