خواتین کی شرمناک تصاویربنانے والاباڈی بلڈر بےنقاب

خواتین کی شرمناک تصاویربنانے والاباڈی بلڈر بےنقاب

مانچسٹر: اپنی کمسن بیٹی کی آڑ میں موبائل فون اور جوتوں میں لگے فون کے ذریعے درجنوں خواتین کی خفیہ شرمناک تصاویر بنانے والے باڈی بلڈر کو 10 ماہ کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام ورلڈ ڈیسک کے مطابق الیکس ڈوڈسن نے 13 ماہ کے عرصے میں تقریبا 70 خواتین کی اس وقت شرمناک تصاویر بنائیں جب وہ اسکرٹ پہنے اس کے اردگرد موجود ہوتی تھیں۔

ڈوڈسن یہ تصاویر اس وقت لیا کرتا جب وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ گھر سے باہر خریداری کے لئے جاتا۔ اس دوران وہ سپراسٹور میں خریداری کرتی یا فیول اسٹیشنز کی ٹک شاپس اور چینجنگ رومز میں موجود خواتین کی مخصوص اینگلز سے تصاویر لیا کرتا۔

مذکورہ فرد پہلی بار 2015 میں اس وقت گرفت میں آیا جب ایک اسٹور میں خریداری کے وقت کیشئیر نے دیکھا کہ وہ اپنا فون ہاتھ میں لئے مسلسل ایک خریداری کرتی خاتون کا پیچھا کررہا ہے۔ اس دوران خاتون کچھ اٹھانے کے لئے کاؤنٹر پرنیچے ہوئی تو ڈوڈسن نے جھک کر اس کی تصویر بنا لی۔

مانچسٹر پولیس نے بعد میں مجرم کے قبضے سے متعدد الیکٹرانک آلات برآمد کئے اور 68 خواتین کی 86 نامناسب تصاویر بھی برآمد کیں۔ ان میں اکثر خواتین وہ تھیں جو یہی نہیں جانتی تھیں کہ ان کی تصاویر بنائی جا رہی ہیں۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ روشیڈل سے تعلق رکھنے والے ڈوڈسن نے ایک اسکول طالبہ کی اس وقت تصاویر بنائیں جب وہ اسٹور سے ٹافیاں خرید رہی تھیں۔ ڈوڈسن نیچے گری ٹافیاں اٹھانے کے بہانے جھکا اور مذکورہ لڑکی کی تصویر بنائی۔

ایک خاتون کی تصویر اس کے باغیچے،دوسری کی شراب خانے میں بنائیں گئیں۔ ایسی ہی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اب ٹراؤزر خرید کر استعمال کریں گی تاکہ کوئی اور اس طرح کی تصاویر نہ بناسکے۔

یاد رہے کہ یورپی ممالک اور امریکا سمیت ایسے مقامات جہاں خواتین اسکرٹ یا پلاؤز استعمال کرتی ہیں وہاں انہیں راہ چلتے لباس سے محروم کرنے کے علاوہ چینجنگ رومز،پبلک ٹرانپسورٹ اور تعلیم یا ملازمت کی جگہوں پر مختلف طریقوں سے شرمناک تصاویر بنانے کے عمل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ راہ چلتے ان کے کپڑے کھینچ کر اتار دیے جاتے ہیں۔

مینشیل اسٹریٹ کراؤن کورٹ مانچسٹر میں پیشی کے دوران ڈوڈسن نے تسلیم کیا کہ وہ نومبر 2014 سے دسمبر 2015 کے دوران ایسی تصاویر بناتا رہا ہے۔

پراسیکیوٹر مس لیزا بوکوک کا کہنا تھا کہ ڈوڈسن کو 2015 میں پٹرول اسٹیشن کی خاتون کیشئیر نے نوٹ کیا جب وہ کئی بار اس کے اسٹور میں آیا اور ہاتھ میں فون لئے مختلف خواتین کا تعاقب کیا کرتا۔

ڈوڈسن کے خلاف گواہ خاتون نے عجیب و غریب شرمناک معاملے کے مجرم کے متعلق متعدد مواقع پر تصویریں لینے کی کوششوں کی تفصیلات عدالت کو بتائیں۔

اس موقع پر جج اینڈریو ہیٹن نے مجرم کو مخاطب کر کے کہا کہ خواتین کی نازیبا تصاویر بناتے وقت کم از کم 9 مواقع پر اپنی بیٹی کی موجودگی اس معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *