نسوار کے شائقین کے لئے دلچسپ کارآمد تحقیق

نسوار کے شائقین کے لئے دلچسپ کارآمد تحقیق

لاہور : نسوار کو پشتون کلچر کہا جاتا ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے،حیران کن بات یہ ہے جگہ جگہ تھوکنے کی وجہ سے نسوارخوری کو غیر مہذب سمجھا جاتا ہے حالانکہ دنیا کے مہذب ترین ملکوں نے نسوا ر کو متعارف کرایا۔

پاکستان ٹرائب لائف اسٹائل ڈیسک کے مطابق امریکہ اور سپین میں تمباکو پر پابندیوں کے بعد نسوار کا رجحان پیدا ہوا تھا جو آج پٹھانوں سے منسوب ہوچکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نسوار کو مہلک قرار دیا جاتا ہے،ہونٹوں تلے اور ناک کے ذریعہ سے نسوار کھائی جاتی ہے جس کے بارے نسوار خور پٹھانوں کا کہناہے کہ نسور کھانے والے ان کے باپ دادا اسی نوے سال تک کسی مہلک بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے تو وہ کیسے اسکو زہر سمجھ لیں البتہ نسوار اس وقت زہر بنتی ہے جب اس میں ملاوٹ شامل کی جاتی ہے۔

اس حوالے سے لاہور میں مقیم پٹھان محمد آصف خان کا کہنا ہے کہ وہ جوانی سے نسوار کے شوقین ہیں اور انکے والد جو ستر سال کے ہوچکے ہیں وہ بھی نسوار کھاتے اور جوانوں کی طرح قائم ہیں ،اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ پشاوری نسوار کھاتے ہیں ،لاہوری نسوارمیں بہت زیادہ ملاوٹ ہوتی ہے اس لئے وہ پشاور جاتے ہیں تو بنوں کی بنی ہوئی اصلی نسوار کا کوٹہ ساتھ لے آتے اور فریج میں رکھ دیتے ہیں ۔

یہ نسوار جب بھی فریج سے نکالتے ہیں تازہ اور مکھن کی طرح ملائم ہوتی ہے،اس میں اک ذرّہ بھی ایسا نہیں ہوتا جو زبان مین تلخی اور ناگواری پیدا کرے ۔

 لاہوری نسوار میں تنکے اور پتھر بھی نکل آتے ہیں ،چونا کچا،ناقص اور دانے دار ہوتا ہے جبکہ تمباکو بھی گھٹیا استعمال کیا جاتا ہے،سبز نسوار کو سبزی مائل بنانے کے لئے رنگ بھی ناقص ڈالتے ہیں حالانکہ سبز نسوار میں رنگ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

رپورٹ کے مطابق  نسوار تمباکو کے خشک پتوں،معیاری چونے اور ایک درخت کی گوند وغیرہ سے بنائی جاتی ہے اور اس میں سب سے بہترین نسوار بنوں کی ہوتی ہے، سبز کے علاوہ سیاہ نسوار بھی ہوتی ہے جو صوابی کے خاص قسم کے تمباکو سے بنائی جاتی ہے ۔

لاہور میں کچھ لوگ سیاہ نسوار کالا رنگ ملا کر بناتے ہیں جس سے منہ،معدہ میں زخم ہو جاتے اور دانت بھی جڑ جاتے ہیں ،حکومت کو چاہئے کہ نسوار میں ملاوٹ کرنے والوں کو پکڑ کر سزا دے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *