حادثات کے وقت ہیرو یا بزدل بننا دونوں نقصان دہ

حادثات کے وقت ہیرو  یا بزدل بننا دونوں نقصان دہ

واٹرلو: حادثات کے وقت بہت سے لوگ اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں اور جان بچانے کے لئے اندھا دھند ایسے اقدامات کرتے ہیں جو خود ان کے لئے بھی اور دوسرے افراد کے لئے بھی جان لیوا ثابت ہوتے ہیں جبکہ ایسے حالات میں ہیرو بننا بھی نقصان کا سبب بنتا ہے۔

پاکستان ٹرائب ورلڈ ڈیسک کے مطابق یونیورسٹی آف واٹرلو کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق حادثات اور سانحات کی صورت میں ہیرو بننا اور بزدلی دکھانا دونوں نقصان دہ ہیں،حادثات کی صورت میں پہلے بچوں،خواتین اور عمر رسیدہ افراد کو ریسکیو کرنا چایئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زندگی اور موت کے حالات میں ہمیشہ ایک اچھی حکمت عملی ہی جانی نقصان میں کمی کا باعث بنتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں ہیرو بننا یا بزدلی دکھانا دونوں ہی نقصان کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے 30 کمپیوٹر ماڈل افراد کے سیلاب میں پھنسنے اور انہیں ریسکیو کرنے کے حوالے سے ایک تحقیق کی گئی جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حادثات کے رونما ہونے کے بعد صحت مند افراد کے پہلے خود محفوظ مقامات پر پہنچ کر دوسروں کی مدد کرنا زیادہ جانیں بچانے کا سبب بنتا ہے۔

ریسرچ کے مطابق حادثات کی صورت میں جب لوگ جائے حادثہ پر ہیرو بننا چاہتے ہیں اور خطرے میں کود جاتے ہیں یا پھر بالکل ہی دل چھوڑ کر صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوتے ہیں،یہ دونوں طرح کی صورت حال زیادہ سے زیادہ جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہے اس لئے ہمیشہ حکمت عملی کے لئے لوگوں کی مدد کریں تا کہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *