ہفتے میں ایک دن گہری نیند.صحت کے لئے مفید

ہفتے میں ایک دن گہری نیند.صحت کے لئے مفید

سئول: ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ پرسکون اور گہری نیند کے انسانی صحت پر مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان ٹرائن ہیلتھ ڈیسک کے مطابق جنوبی کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی کے ڈاکٹر چانگ ہوین اور ان کی ٹیم نے انسانی صحت پر نیند کے اثرات پر تحقیق کی جس کے بعد انہوں نے مشاہدہ پیش کیا کہ ایسے افراد جو ہفتے میں کم سے کم ایک مرتبہ پرسکون اور گہری نیند سوتے ہیں ان کا باڈی ماس انڈیکس  دیگر لوگوں کے مقابلے میں مستحکم رہتا ہے۔

تحقیق کے دوران 19 سے 82 سال کی عمر کے 2000 افراد کی ہفتے کے آخر میں یعنی ہفتہ اور اتوار کے روز کی جانے والی نیند کا مشاہدہ کیا گیا جس کے دوران ان کے وزن،قدسونے کی عادت، مزاج اور ان کے طویل انٹرویو کئے گئے۔

ماہرین نے مشاہدے کے دوران تمام افراد کی نیند کو نوٹ کیا جس کے بعد نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بیشتر افراد چھٹی کے روز یعنی ہفتہ اور اتوار کو عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ نیند کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق 43 فیصد لوگ ہفتے کے آخر میں عام دنوں کے مقابلے دو گھنٹے زیادہ سوتے ہیں اور جو لوگ ہفتے کے آخر میں سوتے ہیں ان کا باڈی ماس انڈیکس 22.8 جب کہ جو لوگ نیند پوری نہیں کرتے ان کا بی ایم آئی23.1  فیصد ہوتا ہے۔

باڈی ماس انڈیکس انسان کے زیادہ،کم یا نارمل وزن کو ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے کے آخر میں زیادہ سونے اور نہ سونے کا بظاہر معمولی فرق دکھائی دیتا ہے لیکن یہ کافی معنیٰ رکھتا ہے کیوں کہ ہر گھنٹے کی پوری ہونے والی نیند سے 0.12 فیصد تک وزن میں کمی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر چانگ ہو ین کے مطابق آنکھے جھپک جھپک کر سونے سے بہتر ہے کہ انسان گہری نیند لے کیونکہ گہری نیند کے بعد انسان زیادہ بہترطریقے سے کام کرسکتا ہے جب کہ کم نیند کی وجہ سے موٹاپا،ذہنی دباؤ،دل کے امراض اور موت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف آٹومین کے ڈاکٹر جین فیلپی چھاپت،جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے ان کا کہنا تھا کہ کم سونے والے لوگ دن میں زیادہ کھانا کھاتے ہیں اورایسے لوگ کھانے کے علاوہ زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں جس کی وجہ سے وہ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے روزانہ کم سے کم 7 گھنٹے کی نیند کو لازمی قرار دیا ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *