خون عطیہ کرنا،ثواب بھی صحت بھی

خون عطیہ کرنا،ثواب بھی صحت بھی

لندن: دنیا میں ہر سال 14 جون کو خون عطیہ کرنے یا بلڈ ڈونر ڈے منایا جاتا ہے جس کا مقصد خون کی محفوظ منتقلی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے،یہ دن ایسے افراد کا شکریہ ادا کرنے کے لیے بھی منایا جاتا ہے جو بغیر کسی لالچ کے اپنا خون دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے عطیہ کرتے ہیں۔

پاکستان ٹرائب ہیلتھ ڈیسک کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ خون عطیہ کرنا نہ صرف کسی کی زندگی بچانے کا سبب بنتا ہے بلکہ اس عمل کے صحت پر بھی نہایت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ریسرچ کے مطابق خون عطیہ کرنے سے انسانی صحت پر پڑنے والے مثبت اثرات یہ ہیں۔

دوران خون میں بہتری کا امکان

 

طبی ماہرین کے مطابق خون کا اکثر عطیہ کرنا دوران خون کے نظام میں بہتری لانے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس سے شریانوں کو نقصان کم پہنچتا ہے جس سے خون کے بلاک ہونے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے,ایسے افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

مفت طبی چیک اپ

 

خون عطیہ کرنے سے قبل لگ بھگ ہر فرد کا طبی چیک اپ ہوتا ہے جس میں جسمانی درجہ حرارت،دل کی دھڑکن،بلڈ پریشر اور ہیموگلوبن کی سطح کو دیکھا جاتا ہے،اسی طرح خون اکھٹا کیے جانے کے بعد اسے لیبارٹری بھیجا جاتا ہے جہاں اس کے مختلف قسم کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ جانا جاسکے کہ وہ خطرناک مرض سے آلودہ تو نہیں،جس سے لوگوں کو بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔

آئرن کی سطح متوازن رہتی ہے

 

 جب خون عطیہ کیا جاتا ہے تو کچھ مقدار میں آئرن بھی کم ہوتا ہے،جو کہ عطیہ کیے جانے کے بعد خوراک سے دوبارہ بن جاتا ہے۔

 طبی ماہرین کے مطابق آئرن کی سطح میں اس طرح کی تبدیلی صحت کے لیے بہتر ہوتی ہے کیونکہ اس جز کی بہت زیادہ مقدار خون کی شریانوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔

لمبی زندگی کا امکان

 

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ رضاکارانہ بنیادوں پر خون کا عطیہ کرتے ہیں،ان میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے اور اوسط عمر میں چار سال تک کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *