نیند کی کمی موٹاپے کا سبب بنتی ہے،تحقیق

نیند کی کمی موٹاپے کا سبب بنتی ہے،تحقیق

سٹاک ہام: سویڈن کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ اگر ہماری نیند مسلسل متاثر ہوتی رہے تو اس کا نتیجہ موٹاپے میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

پاکستان ٹرائب ہیلتھ ڈیسک کے مطابق اپسالا یونیورسٹی، سویڈن  کی ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں کی نیند اکثر پوری نہ ہو سکے یا جنہیں نیند خراب ہونے کی شکایت رہتی ہو، ایسے افراد کے موٹاپے میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی دوسرے صحت مند افراد کی نسبت کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ معمول کے مطابق نیند پوری ہوتی رہے تو مختلف ہارمونوں کے درمیان توازن قائم رہتا ہے لیکن اگر نیند پوری نہ ہو یا مسلسل متاثر رہنے لگے تو ہارمونوں میں توازن بھی بگڑ جاتا ہے جس کا اثر دوسرے کئی جسمانی نظاموں پر پڑتا ہے۔

مثلاً وہ ہارمون جو کھانا کھانے کے بعد پیٹ بھر جانے کا احساس پیدا کرتے ہیں، ان کی مقدار کم رہ جاتی ہے جبکہ بھوک لگانے والے ہارمون زیادہ مقدار میں بننے لگتے ہیں۔

 اس عدم توازن کی وجہ سے متاثرہ شخص کو نہ صرف بار بار بھوک لگتی ہے بلکہ بہت زیادہ کھانے پر بھی اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی،اگر یہ بات زیادہ عرصے تک معمول بنی رہے تو پھر نیند کی خرابی وزنمیں اضافے کو جنم دیتی ہے اور انسان آہستہ آہستہ موٹاپے کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔

ریسرچ کے مطابق  نیند خراب ہونے کے باعث تھکن بھی طاری رہنے لگتی ہے،معمول کے کاموں میں دلچسپی برقرار نہیں رہتی جبکہ جسمانی سرگرمیوں سے جی چرانے اور آرام کرنے کی شعوری خواہش جیسی کیفیات بھی متاثرہ فرد پر حاوی رہنے لگتی ہیں جو موٹاپے میں اضافے کو اور بھی تیز رفتار بناتی ہیں جبکہ موٹاپا کم کرنے کی کوششیں ناکام ہونے کا اہم سبب بن جاتی ہیں۔

ڈاکٹر بینیڈکٹ کا کہنا ہے کہ    نیند کا خراب ہونا کسی بھی وجہ سے ہو سکتا ہے لیکن آج کل کے زمانے میں ہمارا طرزِ حیات (لائف اسٹائل) اس حوالے سے اہم ترین کردار رکھتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر لوگ رات دیر تک جاگ کر اپنا وقت گزارتے ہیں جبکہ سماجی تقریبات بھی عموماً رات دیر گئے تک جاری رہتی ہیں۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *