جمشید دستی جیل میں،شاہ محمود قریشی باہر، پی ٹی آئی رہنما کا حیرت انگیز بیان

جمشید دستی جیل میں،شاہ محمود قریشی باہر، پی ٹی آئی رہنما کا حیرت انگیز بیان

ملتان:تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جمشید دستی کو انتقامی کارروائی کے تحت حکومت نے ناجائز طور پر جیل میں ڈالا ہے کیونکہ جمشید دستی نے پارلیمنٹ میں صدر کی تقریر کے دوران احتجاج کیا تھا اور وہاں پر ایک وزیر نے جمشید دستی کو دھمکی دیتے ہوئے خمیازہ بگھتنے کا کہا تھا خوف کا شکار حکومت جمشید دستی سے سینٹرل جیل میں ملاقات نہیں کرنے دے رہی۔

پاکستان ٹرائب کو دستیاب اطلاعات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا ہے کہ پیر کے روز متحدہ اپوزیشن قومی اسمبلی میں معاملات اسپیکر کے سامنے اُٹھائے گی۔

ان خیالات کا اظہار ہفتہ کے روز شاہ محمود قریشی نے سینٹرل جیل ملتان کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کیا انہوں نے کہا کہ جمشید دستی سے اظہار یکجہتی کے تحت ملنے آیا تھا اور ساتھ درخواست بھی ساتھ میں تھی جس پر جمشید دستی کے دستخط لے کر پیر کے روز اسپیکر ایاز صادق کو دینے تھی کیونکہ جو لوگ حکومت پر تنقید کررہے ہیں ان کو انتقامی کارروائی کا نشانا بنایا جارہاہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شیخ رشید پر بھی پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے کروایا گیا اور جمشید دستی نے بھی صدر کی تقریر کے دوران آپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاج کیا تھا اور وہاں پر اس دوران حکومتی وزیر نے جمشید دستی کو دھمکی دی تھی کی تمہیں اس کا خمیازا بگھتنا پڑے گا۔

پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت جے آئی ٹی کو متنازع بنانے اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ایسے اقدامات کررہے ہیں کل تک سپریم کورٹ کے فیصلے پر مٹھایاں باٹنے والی حکومت آج جے آئی ٹی کا بائیکاٹ کر کے اس سے بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین نے کہا کہ جب تک نواز شریف وزیر اعظم ہیں جے آئی ٹی پر دباؤ برقرار رہے گا لیکن پی ٹی آئی بھی کھل کر آپنا نقطہ نظر عوام کے سامنے پیش کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ سینٹرل جیل کے سپیرٹنڈٹ نے مجھے جمشید دستی سے ملاقات نہیں کرنے دی اور موقف پیش کیا ہے کہ اوپر سے حکم موصول نہیں ہوا ہے کہ آپ کو جمشید دستی سے ملاقات کرنے دی جائے حالاکہ جمشید دستی میرا کولیگ ہے لیکن خوف کا شکار حکومت جمشید دستی کہ ایک دستخط نہیں کرنے دے رہے تاکہ میں درخواست اسپیکر کے پاس نہ لے جاسکوں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر سپیرٹنڈٹ مجھے جمشید دستی سے ملنے نہیں دیتے تو پھر درخواست پر صرف جمشید دستی کے دستخط کراکر لے آئیں لیکن سپیر ٹنڈٹ اس پر تیار نہیں ہے ۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے سیاستدان نے کہا کہ پیر کے روز تین بجے پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہے اور4بجے متحدہ آپوزیشن کا اجلاس ہے جس میں زور شور سے جمشید دستی کا معاملہ اٹھاؤں گا اور پھر اسپیکر کے سامنے بھی احتجاج ریکارڈ کریں گے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *