جنسی تشدد شکار خواتین،مزاحمت کیوں نہیں کرتیں

جنسی تشدد شکار خواتین،مزاحمت کیوں نہیں کرتیں

لندن: ایک نئی تحقیق کے مطابق جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین وقتی طور پر ٹانک ایموبیلٹی(بے حرکتی)کا شکار ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ حملہ آور کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کر پاتیں۔

پاکستان ٹرائب ہیلتھ ڈیسک کے مطابق باتھ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق کے مطابق عصمت دری کا شکار ہونے والی خواتین وقتی طور پر ایک طرح کے فالج کا شکار ہو جاتی ہیں اور اس کی وجہ ذہن پر حد سے زیادہ دہشت طاری ہونا ہے۔

ماہرین کی جانب سے عصمت دری کا شکار ہونے والی 298 خواتین پر ایک تحقیق کی گئی ہے جو اس جنسی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد ہسپتال میں لائی گئی تھیں۔

ریسرچ کے مطابق جب کوئی جب کوئی درندہ صفت انسان کسی عورت پر جنسی تشدد کے لئے حملہ آور ہوتا ہے تو متاثرہ خاتون یا لڑکی ٹانک ایموبیلٹی کا شکار ہو جاتی ہے جس سے اس کا جسم بے حس وحرکت ہو جاتا ہے اور حملہ آور کو من مانی کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹانک ایمموبیلٹی ایک طرح کا وقتی فالج ہوتا ہے جو عموما جانوروں کو لاحق ہوتا ہے۔

جب کوئی کمزور جانور اپنے سامنے خطرناک دشمن جانور کو دیکھتا ہے تو وہ ٹانک ایموبیلٹی کا شکار ہو جاتا ہے جس کی ایک مثال خرگوش ہے جس پر دشمن کو دیکھ کر سکتا طاری ہو جاتا ہے۔

ریسرچ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو خواتین زندگی میں پہلے جنسی تشدد کا نشانہ بن چکی ہوں اگر وہ دوبارہ ایسی صورت حال کا سامنا کریں تو ان میں وقتی فالج کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین  حملے کے بعد پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر(پی ٹی ایس ڈی)کا شکار ہو جاتی ہیں جس کا علاج ادویات کے علاوہ دوستوں اور عزیزوں کا ساتھ اور ان کی جانب سے حاصلہ افزائی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *