قطرسے لاتعلقی،4ممکنہ وجوہات – اقصی شاہد

قطرسے لاتعلقی،4ممکنہ وجوہات – اقصی شاہد

سعودی عرب اس کے اتحادی ممالک بحرین،مصر اور متحدہ عرب امارات نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کر کے گویا لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض سے جاری ہونے والے ایک اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ ’قومی سلامتی اور اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خطرات کے پیش نظر سعودی عرب نے قطر سے داخلے کے تمام راستوں کو بند کردیا ہے۔‘

بحرین نے تعلقات ختم کرنے کی وجہ ’اندرونی امور میں مداخلت‘ جب کہ متحدہ عرب امارات نے ’علاقائی سیکیورٹی کو عدم استحکام سے دوچارکرنا‘ وجہ بتایا ہے۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ قطر سے تعلقات کی کشیدگی کے پس پردہ متعدد عوام کارفرما ہیں تاہم حال ہی میں یمن سے اپنی فوجوں کو واپس بلانا قطر کی وہ جرات قرار پائی ہے جس نے سابقہ ’گناہوں‘ کو بھی تازہ کیا ہے۔

ایک اور اہم سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دنوں قطر کے امیر شیخ ثمیم حمد آل ثانی کی جانب سے ایران کی حمایت میں مبینہ بیان اس کا سبب بنا ہے۔ اس بیان میں امیرِ قطر نے ایران کو ایک اسلامی قوت قراردیتے ہو تہران کے خلاف صدر ڈانلڈ ٹرمپ کے معاندانہ روئے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مذکورہ بیان پر سعودی عرب،بحرین،متحدہ عرب امارات اور مصر نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے الجزیرہ ٹیلی ویژن سمیت اپنے ملکوں میں تمام قطری میڈیا پر پابندی لگادی۔ ایران کی حمائت میں جاری ہونے والے بیان کے چند منٹ بعد ہی قطر کی حکومت نے دوٹوک وضاحت کی کہ وہ بیان ہیکرز کی کارروائی کا نتیجہ ہے۔

قطر کے خلاف حالیہ اکٹھ کی تیسری وجہ الجزیرہ ٹیلی ویژن بھی ہو سکتا ہے۔ جسے قطری حکومت مالی اعانت فراہم کرتی ہے تاہم کہا جاتا ہے کہ یہ ادارہ قطری سرکار کو جوابدہ نہیں۔

سعودی عرب اور مصر ایک عرصے سے قطر پر دباو ڈال رہے ہیں کہ الجزیرہ کو قابو کیا جائے لیکن قطری حکومت اپنے اتحادیوں کا یہ مشورہ ماننے کو تیار نہیں۔

قطر کا چوتھا جرم بادشاہت کے سائے میں پرورش پاتے جزیرہ عرب میں جمہوری قوتوں میں سے ایک اخوان المسلمون کے بارے میں اسکا ‘نرم رویہ’ ہے۔ سعودی عرب،مصر اور متحدہ عرب امارات نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور وہ اسےسختی سے کچل دینا چاہتے ہیں۔ ان ملکوں کا اصرار ہے کہ ساری عرب دنیا میں اخوان پر پابندی لگادی جائے لیکن قطر،اومان اور کویت سمیت چند دیگر ممالک نے بھی تاحال اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔

اس پس منظر میں مسعود ابدالی صاحب کا یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا خلیجی ممالک ایکا کرکے قطر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟؟ وہ خود ہی اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں۔

قطر مشرق وسطیٰ کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہے۔ یہاں فی کس آمدنی 128 ہزار ڈالر ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

متحدہ عرب امارات 60 ہزار ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ دنیا میں نویں نمبر پر ہے جبکہ سعودی عرب کی فی کس آمدنی 55 ہزار ڈالر اور مصر کی فی کس آمدنی صرف ساڑھے بارہ ہزار ڈالر،یعنی قطر کی مشکیں کسنےکا عزم رکھنے والے ان تینوں ملکوں کی آمدنی مل کر بھی قطر سے کم ہے۔

تکنیکی اعتبار سے بھی قطر خلیج میں سب سے آگے ہے۔ 2022 میں یہاں فٹبال ورلڈ کپ ہونا ہے – امریکا سے بھی قطر کے گہرے تعلقات ہیں اور العدید کے مقام پر امریکا اور برطانیہ نےمشترکہ فضائی اڈاہ قائم کررکھا ہے۔ یہ شنید بھی ہے کہ امریکا کے باہر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سب سے بڑے مرکز کی میزبانی بھی قطر ہی کے پاس ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس جدیداڈے سے مشرق وسطیٰ کے علاوہ یورپ اور دیگر قریبی علاقوں پر بھی گہری نظر رکھی جاتی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *