ہر وقت سستی،تھکن طاری رہنے کی 7 وجوہات

ہر وقت سستی،تھکن طاری رہنے کی 7 وجوہات

 نیویارک : کیا آپ ہر وقت خود کو تھکاوٹ کا شکار محسوس کرتے ہیں یا کوئی کام کرتے ہوئے بھی تھکن کا احساس غالب آجاتا ہے؟ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ صرف نیند کی کمی نہیں جو آپ کو توانائی سے محروم کررہی ہوتی ہے بلکہ چند چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی جسمانی اور ذہنی طور پر آپ پر بھاری پڑی ہوتی ہیں۔

پاکستان ٹرائب کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر وقت سستی اور تھکن سوار رہنے کی سات بڑی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے انسان پر ہر وقت سستی اور کاہلی طاری رہتی ہے،وہ وجوہات یہ ہیں۔

انیمیا

انیمیا خون میں سرخ زرات کی کمی کو کہا جاتا ہے،ان کا کام خلیات میں آکسیجن کی فراہم کو آسان بنانا ہوتا ہے،اس کی کمی انسان کو تھکاوٹ کا شکار بنا دیتی ہے۔

تھائروئڈ

تھائروئڈ گلینڈ کا کام انسان کے میٹابولزم نظام کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے اور ان کا بڑھ جانا اس نظام میں خلل ڈالتا ہے  جس کی وجہ سے فائدے مند ہارمونز ضائع ہو جاتے ہیں جو کمزوری اور تھکن کا سبب بنتے ہیں۔

ذیابیطس

ذیابیطس کے بارے میں سب جانتے ہیں یہ بیماری انسان کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے اور مریض پر ہمیشہ سستی چھائی رہتی ہے۔

ڈپریشن

ڈپریشن انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر متاثر کرتا ہے،ہر وقت فکر میں ڈوبے رہنے انسان پر جسمانی اور ذہنی تھکان غالب آجاتی ہے۔

ریہیموٹوئڈ آرتھرائٹس

گٹھیا کی یہ قسم مدافعتی نظام کو کمزور کرکے صحت مند ٹشوز کو نقصان پہنچاتی ہے جس کی وجہ انسان پر کمزوری غالب آجاتی ہے۔

دائمی تھکاوٹ

دائمی تھکاوٹ کرونک فیج(سی ایف ایس)کا شکار عموما وہ لوگ ہوتے ہیں جو کھانا وغیرہ کھاتے ہی لیٹ جاتے ہیں۔

نیند کی کمی

نیند کی کمی سے سارا جسمانی اور ذہنی نظام بگڑتا ہے،نیند کی کمی کا شکار فرد چاہے جتنی بھی اچھی خوراک استعمال کرے مگر اس پر ہر وقت سستی اور تکھن طاری رہتی ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *