کراچی میں پھیلی پراسرار بو کی وجہ سامنے آگئی

کراچی میں پھیلی پراسرار بو کی وجہ سامنے آگئی

کراچی:گزشتہ کئی دنوں سے کراچی میں پھیلی ناگوار بو کا معمہ حل ہو گیا ہے۔

پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ کراچی میں پھیلا گند گرمی کی شدت کی وجہ سے بو پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ بہتر سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے بو پھیل رہی ہے جب کہ اب اصل حقیقت سامنے آگئی ہے۔

ورلڈ وائیڈ فنڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کراچی میں پھیلی ناگوار بو بنیادی طور پر ڈائنوفلیجولیٹ یعنی پودا نما سوطیوں میں سے ایک قسم کی رطوبتوں کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ اسے ناکٹیلوکا سینٹیلنس یا سی سپارکل بھی کہا جاتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق سی سپارکل زرعی طور پر آلودہ پانی میں پائی جاتی ہے جو چھیڑنے پر واضح ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ سی سپارکل ہو سمندری چمک فائیٹو پلکٹون کو بڑی تعداد میں جذب کرتی ہے اور نتیجتاً امونیا گیس کے خارج ہونے کا ذریعہ بنتی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق یہ زندہ اجسام بحیرہ عرب کے پاکستانی ساحلوں کے ساتھ پائے جاتے ہیں جو فروری کے مہینے میں ظاہر ہونے لگتے ہیں اور اپریل میں اپنے عروج پر پہنچ جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے سمندر کا پانی سبزمائل اور رات کے وقت نیلگوں ہو جاتا ہے۔

ورلڈ وائیڈ فنڈ کے مطابق مئی کے اوائل میں جنوب مغرب سے کراچی کی طرف چلنے والی مون سون ہوائیں اس ناخشگوار بو کو اپنے ساتھ لاتی ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *